جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
این سی پی آرای کا سلیکان-پیروسکائٹ ٹینڈم سولر سیلز میں اعلیٰ کارکردگی اور کم لاگت پر انقلابی کام، بھارت کی شمسی توانائی کے مستقبل کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا: مرکزی وزیر جناب پرلہاد جوشی
این سی پی آر ای، آئی آئی ٹی بامبے کو وزارت نئی و تجدید توانائی(ایم این آر ای) نے گزشتہ 15 سالوں میں بھارت کے امنگوں بھرے100 گیگا واٹ شمسی مشن کے لیے تحقیق و ترقی اور تعلیمی معاونت فراہم کرنے کی خاطر200 کروڑ روپے سے زائد کی فنڈنگ فراہم کی ہے
بھارت صرف قابل تجدید توانائی کو اپنا نہیں رہا بلکہ پیرووسکائٹ سولر سیلز، انورٹر ٹیکنالوجی، پی وی-ریلیبلٹی، سبز ہائیڈروجن، اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبوں میں تحقیق کے ذریعے اپنے مستقبل کاتعین کر رہا ہے،: جناب پرلہاد جوشی
Posted On:
15 JUL 2025 5:40PM by PIB Delhi
نئی اورقابل تجدید توانائی اور صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر جناب پرلہاد جوشی نے آئی آئی ٹی بامبے میں نیشنل سینٹر فار فوٹو وولٹک ریسرچ اینڈ ایجوکیشن(این سی پی آرای) کا دورہ کیا اور اس کے محققین اور ایڈوائزری بورڈ کے اراکین کے ساتھ ایک انٹرایکٹو ملاقات کی۔ جناب جوشی نے این سی پی آرای کے پیرووسکائٹ ٹینڈم سولر سیل لیب، سلیکان فاب لیبارٹری اور میڈیم وولٹیج لیبارٹری کا دورہ کیا اور سائنسدانوں سے ملاقات کی۔آئی آئی ٹی بامبے میں انکیوبیٹڈ اسٹارٹ اپ - ایڈوانسڈ رینیوایبل ٹینڈم فوٹو وولٹک انڈیا(اےآر ٹی -پی وی انڈیا) نے 2-ٹرمینل مونو لِتھک سلیکان/سی ڈی ٹی ای-پیرووسکائٹ ٹینڈم سولر سیل تیار کیا ہے جس کی تبدیلی کی کارکردگی 29.8فیصد ہے۔ یہ ایک قومی سنگ میل ہے اور بھارت میں اب تک حاصل کی جانے والی سب سے زیادہ کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔

این سی پی آر ای(این سی پی آرای) کو 2010 میں آئی آئی ٹی بامبے میں حکومت ہند کی نئی اورقابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) ، فنڈنگ سے شروع کیا گیا تھا۔ این سی پی آر ای کے بنیادی مقاصد بھارت کے امنگوں بھرے100 گیگا واٹ شمسی مشن کے لیے تحقیق و ترقی اور تعلیمی معاونت فراہم کرنا ہیں۔ آج تک، نئی اورقابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) نے گزشتہ 15 سالوں میں این سی پی آر ای، آئی آئی ٹی بامبے کو 200 کروڑ روپے سے زائد کی فنڈنگ فراہم کی ہے۔

ایم این آر ای،اےآر ٹی- پی وی انڈیاکو آئی آئی ٹی بامبے کے کیمپس میں جدید ترین پائلٹ مینوفیکچرنگ فیسلٹی قائم کرنے کے لیے10 ملین ڈالر (~83 کروڑ روپے) کی مالی معاونت فراہم کر رہی ہے، تاکہ گھریلودانشورانہ املاک کی پرورش کی جا سکے اور بھارتی اختراعات کو عالمی بازاروں تک پہنچایا جا سکے۔ مرکزی وزیر جناب پرلہاد جوشی نے کہا کہ نئی اورقابل تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای) بھارت کے تجدیدی توانائی کے شعبے کو جدت اور خود انحصاری پر استوار رکھنے کے لیے پالیسی اور مالی معاونت فراہم کرتی رہے گی۔

نئی اورقابل تجدید توانائی کے وزیر جناب پرلہاد جوشی نے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’وزارت نئی و تجدید توانائی کواین سی پی آرای کے سلیکان-پیرووسکائٹ ٹینڈم سولر سیلز میں اعلیٰ کارکردگی اور کم لاگت کے حوالے سے انقلابی کام کی حمایت کرنے پر فخر ہے، جو بھارت کی شمسی توانائی کے مستقبل کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔’’اس وقت جب دنیا مؤثر، سستی اور قابل پیمائش شمسی توانائی کے حل تلاش کر رہی ہے، یہ اختراع بھارت کو عالمی قیادت کا موقع فراہم کرتی ہے۔ وزیرموصوف نے مزید کہا کہ اس ٹیکنالوجی میں30فیصد سے زائد کی کارکردگی حاصل کرنے کی صلاحیت ہے، جو روایتی شمسی پینلز سے کہیں زیادہ ہے، اور اس سے بھارت کو اگلی نسل کے فوٹو وولٹائکس میں عالمی رہنما بنانے کی صلاحیت ملے گی۔ جناب جوشی نے مزید کہاکہ’’ ایسی اختراعات میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ہم شمسی توانائی کی قیمت کو کم کر رہے ہیں، جس سے یہ تمام بھارتیوں کے لیے زیادہ قابل رسائی ہو رہی ہے۔‘‘’’یہ صرف تجرباتی سطح کی حصولیابی نہیں ہے، یہ صاف، قابل پیمائش اور خود انحصار توانائی کی پیداوار کا ایک خاکہ ہے۔‘‘ مرکزی وزیر جناب جوشی نے یہ بھی کہا کہ’’بھارت صرف تجدیدی توانائی کو اپنا نہیں رہا بلکہ پیرووسکائٹ سولر سیلز، انورٹر ٹیکنالوجی، پی وی-ریلیبلٹی،گرین ہائیڈروجن، اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبوں میں تحقیق کے ذریعے اپنے مستقبل کاتعین کر رہا ہے۔‘‘
جناب پرلہاد جوشی نے کہا کہ مرکزی وزارت نئی و تجدید توانائی (ایم این آرای) ’’آتم نربھار بھارت‘‘ کے ویژن کے تحت جدید ترین تجدیدی توانائی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے پُر عزم ہے، تاکہ بھارت صاف توانائی کی اختراعات میں قیادت کر سکے۔ اس بارے میں ایم این آرای کااین سی پی آرای، آئی آئی ٹی بامبے جیسے اہم اداروں کی حمایت ملکی تحقیق و ترقی (آراینڈ ڈی) کو مستحکم کرتی ہے، درآمد شدہ ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرتی ہے اور مقامی پیداوار کو فروغ دیتی ہے۔ جناب جوشی نے مزید کہا کہ ’’ری نیوایبل انرجی ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ (آرای-آرٹی ڈی)‘‘ اور تحقیق و ترقی کی مالی معاونت کے منصوبوں جیسی اقدامات کے ذریعے، ایم این آرای اداروں جیسے این سی پی آرای کو لیب سے مارکیٹ تک منتقلی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔‘‘ جانہوں نے یہ بھی کہا کہ این سی پی آرای کا کام اس بات کی مثال ہے کہ جب پالیسی حمایت کے ساتھ عوامی مالی امداد سے کی جانے والی تحقیق ہوتویہ بھارت کو صاف توانائی کے عالمی مرکز کا مقام دلاسکتی ہے۔
ایم این آرای کی تحقیق و ترقی (آراینڈ ڈی) اور تجارتی بنیادوں پر انضمام کے لیے حکمت عملی کی حمایت پر زور دیتے ہوئے، جناب پرلہاد جوشی نے آئی آئی ٹی بامبے-آر ٹی پی وی (اے آرٹی-پی وی) ٹیم سے کہا کہ وہ تجارتی طور پر یہ ثابت کریں کہ پیرووسکائٹ ٹینڈم سولر سیلز نہ صرف اسکیل ایبل ہیں بلکہ منافع بخش بھی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہاکہ’’جدید ٹیکنالوجیز کو صنعت کے لیے قابل رسائی بنا کر ہم صرف کارکردگی کو بہتر نہیں کریں گے، بلکہ ایک مضبوط اختراعی ماحولیاتی نظام بھی قائم کریں گے۔‘‘جناب جوشی نے مزید کہا کہ یہ نقطہ نظر مرکزی حکومت کے وسیع ویژن سے مکمل ہم آہنگ ہے، جو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی تحقیق و ترقی کو عالمی معیار میں تبدیل کرنے کی سمت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کابینہ نے تحقیق و ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) اسکیم کو صرف دو ہفتے پہلے منظور کیا ہے، اور تحقیق و ترقی پر مجموعی اخراجات (جی ای آرڈی) کا بجٹ 1.27 لاکھ کروڑ روپے ہیں۔

اس موقع پر ئی آئی ٹی بامبے کے ڈائریکٹر پروفیسر شیریش کیدارے، این سی پی آرای کے پرنسپل انویسٹی گیٹرز(پی آئیز) پروفیسربیلون جی فرنانڈیز اور پروفیسرچیتن سنگھ سولنکی اوراے آرٹی-پی وی انڈیا کے شریک بانی پروفیسردنیش کابرا موجود تھے۔
************
ش ح ۔ ض ر ۔ م ا
Urdu Release No-2780
(Release ID: 2144971)
Visitor Counter : 2