نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

عالمی طاقت کے طور پر ہندوستان کا عروج اس کی دانشورانہ اور ثقافتی کشش کی بلندی کے ساتھ ہونا چاہیے: نائب صدرجمہوریہ


نائب صدرجمہوریہ نے زور دے کر کہا کہ’’ ایک ملک کی طاقت اس کے اصل خیالات اور اس کی اقدار کی ابدیت میں مضمر ہے‘‘

نائب صدرجمہوریہ نے کہا ہے کہ’’بھارت شعور،تفتیش اورسیکھنے کا ایک بہتا ہوا دریا ہے جوبھارتی تہذیب کا ایک تسلسل ہے‘‘

نائب صدرجمہوریہ نے اس بات کو اجاگرکیا کہ’’مقامی بصیرتوں کو ابتدائی ماضی کی باقیات قرار دے کر نظر انداز کیا گیا؛اوریہ کہ آزادی کے بعد بھی منتخب یادداشت کا تسلسل برقرار رہا‘‘

نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ’’مغربی تصورات کو عالمی حقیقتیں قرار دے کر پیش کیا گیا،جونیست ونابود کرنے اور تباہی کا ایک ڈھانچہ تھا‘‘

نائب صدر جمہوریہ نے اس بات کو اجاگر کیاکہ’’نوآبادیات نے مفکرین کے بجائے کلرکس اور کسان پیدا کیے؛ گریڈز نے تنقیدی سوچ کی جگہ لے لی‘‘

نائب صدر جمہوریہ نے اس بات پرزوردیاکہ’’ایک حقیقی بھارتی علم کے نظام کامتن اور اصل تجربے،دونوں کااحترام کرنا ضروری ہے‘‘

نائب صدرجمہوریہ نے نئی دہلی میں بھارتی علم کے نظام (آئی کے ایس) کی سالانہ افتتاحی کانفرنس سے خطاب کیا

Posted On: 10 JUL 2025 2:03PM by PIB Delhi

بھارت کے نائب صدرجمہوریہ جناب جگدیپ دھنکھڑ نے آج کہاکہ،’’بھارت کی عالمی طاقت کے طور پر اُبھرتی ہوئی حیثیت کے ساتھ اس کی فکری اور ثقافتی اہمیت کا ابھرنا بھی ضروری ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ اس کے بغیرعروج دیرپا نہیں ہوتا اور ہماری روایات کے ساتھ یہ ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ایک ملک کی طاقت اس کے اصل خیالات اور اس کی اقدار کی ابدیت اوراس کی دانشورانہ رویات کی لچک میں مضمر ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو دیرپا ہوتی ہے اور یہ طاقت اس دنیا میں مضبوطی کی حامل ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔‘‘

بھارت کی پہچان کو نوآبادیاتی تصورات کی حدود سے آگے پیش کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ،’’بھارت صرف ایک سیاسی تشکیل نہیں ہے جو بیسویں صدی کے وسط میں قائم ہوئی تھی۔بلکہ بھارت شعور،تفتیش اورسیکھنے کا ایک بہتا ہوا دریا ہے جوبھارتی تہذیب کا ایک تسلسل ہے۔‘‘

مقامی حکمت کی تاریخی نظراندازی پر تنقید کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ، ’’جبکہ مقامی بصیرتوں کو ابتدائی ماضی کی باقیات قرار دے کر نظرانداز کیا گیا،جبکہ یہ تفسیر کی غلطی نہیں تھی۔ مغربی تصورات کو عالمی حقیقتیں قرار دے کر پیش کیا گیا،جونیست ونابود کرنے اور تباہی کا ایک ڈھانچہ تھا۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ منتخب یادداشت کا تسلسل آزادی کے بعد بھی برقرار رہا۔ مغربی تصورات کو عالمی سچائیاں قرار دے کر پیش کیا گیا اور اگر صاف طور پر کہا جائے تو، جھوٹ کو سچ کے طور پر پیش کیا گیا۔‘‘

انہوں نے سوال کیاکہ’’جو ہماری بنیادی ترجیح ہونی چاہیے تھی، وہ حتیٰ کہ ہماری سوچ میں بھی نہیں تھی، آپ اپنے بنیادی اقدار سے باخبر کیسے نہیں ہو سکتے؟۔‘‘

بھارت کے فکری سفر میں تاریخی بندشوں پر غور کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ،’’بھارت پر اسلامی حملے نے بھارتیہ وِدیا پرمپرا(بھارتیہ وِدیا پرمپرا) کے شاندار سفر میں پہلی رکاوٹ ڈالی، جہاں گلے ملنے اور ہم آہنگ ہونے کی جگہ نفرت اور تباہی کا سامنا ہوا۔ برطانوی نوآبادیات نے دوسری رکاوٹ پیدا کی، جب بھارتی علم کا نظام رکا، ماند پڑا اور پھر بدل دیا گیا۔ تعلیمی مراکز کے مقاصد تبدیل ہو گئے اور علم کا رخ بدل دیا گیا۔ قطب نما کی سمت تبدیل ہوئی اور شمالی ستارہ بدل دیا گیا۔ جہاں پہلے حکیم اور دانشور پیدا ہوتے تھے، وہاں اب کلرکس اور کسان جنم لینے لگے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ضروریات نے دفتری ملازمین کی ضرورت کو قوم کی فکری رہنمائی کرنے والوں کی ضرورت سے بدل دیا۔‘‘

انہوں نے اس بات کابھی تذکرہ کیاکہ’’ہم نے فکرکرنا، غور کرنا، لکھنا اور فلسفہ کرنا چھوڑ دیا۔ ہم نے یاد کرنا، دہرانا اور نگلنا شروع کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گریڈز نے تنقیدی طرز فکر کی جگہ لے لی۔ عظیم بھارتیہ ودیا پرمپرا (بھارتیہ ودیا پرمپرا) اور اس کے متعلقہ اداروں کو منظم طریقے سے محدود کیا گیا، تباہ کیا گیا اور ختم کر دیا گیا۔‘‘

نئی دہلی میں بھارتی علم کے نظام (آئی کے ایس) کی سالانہ افتتاحی کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے جناب جگدیپ دھنکھڑ نے کہاکہ، ’’یورپ کی یونیورسٹیاں قائم ہونے سے بہت پہلے ہی، بھارت کی یونیورسٹیاں علم کے پھلتے پھولتے مراکز کے طور پر قائم ہو چکی تھیں۔ ہماری قدیم سر زمیں پرتکششلا، نالندہ، وکرمشیلا، وللبھی اور اودانتاپوری روشن طرز فکرکا مرکز تھیں۔یہ علم کے عظیم مراکز تھے۔ ان کی لائبریریاں حکمت کے وسیع سمندر کی مانند تھیں، جن میں ہزاروں کی تعداد میں مخطوطات محفوظ تھے۔‘‘

انہوں نے مزید کہاکہ، ’’یہ عالمی یونیورسٹیاں تھیں، جہاں طلبہ دور اورپاس کے مقامات سے آتے تھے، جیسے کہ کوریا، چین، تبت اور ایران۔ یہ وہ مقامات تھے جہاں دنیا کا فکری شعور بھارت کی روح سے جڑتا تھا۔‘‘

علم کی زیادہ جامع تفہیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ، ’’علم محض مخطوطات کاحصہ نہیں رہا،بلکہ یہ کمیونٹیز میں، جسمانی طور پر کی جانے والی سرگرمیوں میں اور حکمت کی بین نسلی منتقلی میں مضمر ہے۔‘‘

 

انہوں نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ بصیرت صرف متن سے ہی نہیں، بلکہ اس کے سیاق و سباق سے بھی ابھرتی ہے،تاکید کرتے ہوئے کہاکہ’’ایک حقیقی بھارتی علم کے نظام کا تحقیقی ماحولیاتی نظام دونوں تحریری الفاظ اور جیتی جاگتی حقیقت کا احترام کرنا ضروری ہے۔‘‘

بھارتی علم کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ’’ہمیں اپنی توجہ عملی اقدامات پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ کلاسیکی بھارتی متون کے ڈیجیٹائزڈ ذخائر کا قیام ایک فوری ترجیح ہے، جس میں تمام کلاسیکی زبانیں جیسے سنسکرت، تمل، پالی، اور پراکرت شامل ہوں، یہ محض چند مثالیں ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہاکہ، ’’یہ ذخائر وسیع پیمانے پر دستیاب ہونے چاہئیں، تاکہ بھارت کے اسکالرز اور دنیا بھر کے محققین ان ذرائع کے ساتھ بامعنی طریقے سے منسلک ہو سکیں۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے تربیتی پروگراموں کوفروغ جائے جو نوجوان محققین کو مضبوط طریقہ کار کے آلات فراہم کریں،تاکہ فلسفہ، کمپیوٹیشنل تجزیہ، قوم نگاری اور موازنہ تحقیق سب کو ملا کر بھارتی علم کے نظام کے ساتھ انہیں گہرائی سے   منسلک کیا جا سکے۔‘‘

مشہور دانشور میکس مولر کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ، ’’اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کس آسمان کے نیچے انسانی ذہن نے اپنی بہترین خصوصیات کو سب سے زیادہ مکمل طور پر پروان چڑھایا ہے، زندگی کے سب سے بڑے مسائل پر سب سے گہرائی سے غور کیا ہے، اور ان میں سے بعض کے حل تلاش کیے ہیں جو ان لوگوں کی توجہ کے مستحق ہیں جنہوں نے افلاطون اور کانٹ کا مطالعہ کیا ہےتو میں بھارت کی طرف اشارہ کروں گا۔‘‘

نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ’’دوستوں، سوائے ابدی سچائی کے اظہار کےیہ کچھ نہیں تھا ۔‘‘

روایات اور جدت کے درمیان متحرک تعلق پر بات کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ، ’’ماضی کی حکمت جدت کو روک نہیں سکتی،بلکہ اسے ترغیب دیتی ہے۔ مابعدالطبیعیات، مادیات سے بات کر سکتی ہے۔ روحانی بصیرت سائنسی درستگی کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے آپ کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ روحانی بصیرت دراصل کیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہاکہ، ’’ریگ وید کے کائنات سے متعلق گیتوں کو فلکیاتی طبیعیات کے دور میں نئی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔ چراکا سمہیتا کو عالمی صحت عامہ کے اخلاقی مباحثوں کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے۔‘‘

نائب صدرجمہوریہ نے آخر میں اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ’’جب ہم ایک بکھری ہوئی دنیا میں راستہ تلاش کرتے ہیں، تو عالمی آگ کے مناظر ہمیں حیران کن انداز میں چونکا دیتے ہیں۔ ہم ایک ٹوٹی ہوئی دنیا کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ علم کے نظام جو طویل عرصے سے ذہن اور مادہ، فرد اور کائنات، فرض اور نتائج کے درمیان تعلق پر غور کرتے رہے ہیں، اب نہایت اہم اور ضروری ہو گئے ہیں تاکہ ہم اس کے سوچ سمجھ کر اور دیرپا جوابات تیارکرسکیں۔‘‘

اس موقع پربھارتی حکومت کے بندرگاہوں، جہاز رانی اورآبی گزرگاہوں کے وزیر جناب سربانند سونووال، پروفیسر سنتی شری دھولی پوڑی پنڈت،جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایم ایس چیترا، آئی کے ایس ایچ اے، اکھیل بھارتیہ ٹولی سدسیہ کے ڈائریکٹر پرجنا پراوہ اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

************

ش ح ۔ ش م ۔ م ا

Urdu Release No-2625


(Release ID: 2143717) Visitor Counter : 2