وزارت خزانہ
پنشن سے متعلق 2025 کی پہلی بین الاقوامی ریسرچ کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر، عالمی بینک سمیت عالمی ماہرین اور قائدین کی شرکت
’’سب کے لیے پنشن‘‘ کو قومی ترجیح بننا چاہیے: جناب پنکج چودھری
یونائیٹڈ پنشن سسٹم کے آغاز کے ذریعے ہم ریٹائرمنٹ کی محفوظ بنیاد کی خاطر ایک مضبوط ڈھانچہ قائم کر رہے ہیں: دیہی ترقیات کے سیکریٹری
نیشنل پنشن سسٹم بھارت کے پنشن سیکٹر میں ایک بنیاد کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جو کروڑوں افراد کے لیے مالی تحفظ کو فروغ دے رہا ہے: ڈاکٹر دیپک موہنتی
Posted On:
05 APR 2025 11:17AM by PIB Delhi
پنشن سے متعلق 2025 کی پہلی بین الاقوامی ریسرچ کانفرنس جو نئی دہلی میں منعقد ہوئی، کل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ اس کانفرنس کا افتتاح 3 اپریل کو خزانہ کے وزیر ملکت جناب پنکج چودھری نے کیا۔
یہ دو روزہ پروگرام پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، احمد آباد کے اشتراک سے منعقد کیا، جو بھارت میں بڑھاپے کے لیے مستحکم مالی تحفظ کی جانب ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ پلیٹ فارم پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، صنعت کے رہنماؤں، اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک ساتھ لایا تاکہ پنشن اصلاحات کی بدلتی ہوئی صورتحال، ریٹائرمنٹ کے لیے مالی تیاری، اور عمر رسیدہ آبادی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جدید حکمت عملیوں پر غور و خوض کیا جا سکے۔
بھارت کی آبادیاتی ساخت میں ایک بڑے اور اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر مملکت برائے خزانہ جناب پنکج چودھری نے اپنی کلیدی تقریر میں کہا کہ آنے والی دہائیوں میں بھارت کا آبادیاتی منظرنامہ ایک گہری تبدیلی سے گزرے گا۔ سنہ 2050 تک، ہر پانچ میں سے ایک بھارتی شہری 60 سال سے زیادہ عمر کا ہوگا، اور 2047 تک بزرگوں کی تعداد بچوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ وسطِ صدی تک متوقع 19 فیصد بزرگ آبادی—جن میں اکثریت خواتین کی ہوگی—کو مالی خودمختاری فراہم کرنا صرف ایک ہدف نہیں بلکہ ملک کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ’سب کے لیے پنشن‘ کو قومی ترجیح بننا چاہیے، اور اس کے لیے ایسی پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے جو ہماری عمر رسیدہ آبادی کے لیے باوقار اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنائیں۔
اپنے خطاب میں، محکمہ مالیاتی خدمات کے سیکریٹری جناب ناگراجو مدّیرا نے کہا کہ بھارت کا پنشن نظام ایک اہم دورِ تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ یونائیفائیڈ پنشن سسٹم کے آغاز اور دائرہ کار کو وسعت دینے کی کوششوں کے ذریعے ہم ریٹائرمنٹ کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کر رہے ہیں۔ یو پی ایس کے تحت سبکدوشی سے قبل 12 ماہ کی اوسط بنیادی تنخواہ کا 50 فیصد بطور یقینی پنشن فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت میں پنشن اثاثے جی ڈی پی کا تقریباً 17 فیصد ہیں، جو کہ او ای سی ڈی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، جہاں یہ شرح عموماً 80 فیصد سے تجاوز کرتی ہے۔ یہ فرق ریٹائرمنٹ کے لیے تیاری میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
معزز مہمانوں، عالمی فکری رہنماؤں، اور صنعت کے متعلقین کو خوش آمدید کہتے ہوئے، پی ایف آر ڈی اے کے چیئرمین ڈاکٹر دیپک موہنتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل پنشن سسٹم ہندوستان کے پنشن سیکٹر کا ایک ستون بن کر ابھرا ہے، جو کروڑوں افراد کے لیے مالی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ اس نظام کے تحت این پی ایس اور اٹل پنشن یوجنا میں 14.4 لاکھ کروڑ روپے کا مجموعی سرمایہ اور 8.4 کروڑ سبسکرائبرز موجود ہیں۔ ڈاکٹر موہنتی نے کہا کہ جیسے جیسے ہم ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات اور پالیسی میں جدت کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہماری توجہ پنشن کے دائرہ کار کو بڑھانے، مالی استحکام کو یقینی بنانے، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پنشن شراکتی سماج قائم کرنے پر مرکوز ہے۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی پنشن تحقیقاتی کانفرنس 2025 کے افتتاحی دن کی تقریبات انتہائی کامیاب رہیں، جن میں تین دلچسپ پینل مباحثے شامل تھے، جنہوں نے حاضرین کو اپنی گہرائی اور تنوع سے متاثر کیا۔
پہلا سیشن، جس کا عنوان تھا ’’ پائیدار مستقبل کی پنشن: بزرگوں کی آمدنی کا تحفظ قائم کرنا‘‘، میں ماہرین نے مختلف ممالک کی جانب سے پنشن احاطے کو بہتر بنانے، ایک پائیدار پنشن نظام قائم کرنے، اور غیر رسمی شعبے و گِگ معیشت کے کارکنان کی شمولیت کے چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس پینل کی صدارت سولہویں فنانس کمیشن کے رکن سومیہ کانتی گوش نے کی، جبکہ اس سے ڈاکٹر دیپک موہنتی (چیئرمین، پی ایف آر ڈی اے)، جناب آسٹریڈ لڈن (ڈپٹی کمشنر، ایف ایس سی اے، جنوبی افریقہ)، محترمہ اومولولا اولوووران (ڈائریکٹر جنرل، پین کام، نائجیریا) اور جناب ولیم پرائس (سی ای او، ڈی تھری پی گلوبل) نے خطاب کیا۔
اس کے بعد دوسرا سیشن ’’ پنشن انڈسٹری میں نئی اور جدید سرمایہ کاری کی عالمی مثالیں‘‘ منعقد ہوا، جس میں پنشن سیکٹر میں جدید سرمایہ کاری کے طریقے، پروڈکٹ ڈیزائن کے نئے زاویے، اور بین الاقوامی کامیابی کی کہانیاں شیئر کی گئیں تاکہ بھارت کے پنشن سیکٹر کو تحریک دی جا سکے۔ یہ سیشن پروفیسر ابھیمان داس (ڈائریکٹر، آئی آئی ایم احمد آباد) کی سربراہی میں ہوا، جبکہ جناب توشار اروڑا (سینئر فنانشل سیکٹر اسپیشلسٹ، ورلڈ بینک) شریک ناظم تھے۔ مقررین میں برائن ایم ملر (وینگوارڈ)، ڈاکٹر پال یو (ڈائریکٹر، ایم پی ایف ایس اے، ہانگ کانگ، چین)، ولیم پرائس (سی ای او، ڈی تھری پی گلوبل)، پروفیسر پراچی مشرا (ڈائریکٹر و سربراہ، اشوکا آئزک سینٹر فار پبلک پالیسی) اور آر۔ مارک ڈیوس (سینئر فنانشل سیکٹر اسپیشلسٹ، ورلڈ بینک) شامل تھے ۔
پہلے دن کا اختتام ’’ریگولیٹری ہم آہنگی اور پنشن مصنوعات کی ترقی کے لیے پنشن فورم‘‘ کے ساتھ ہوا، جہاں ریگولیٹرز اور سرکاری نمائندگان پر مشتمل ایک پینل نے پنشن مصنوعات کے لیے مختلف ریگولیٹرز کی پالیسیوں کو ہم آہنگ بنانے اور بھارت میں پنشن مصنوعات کی ترقی و رسائی کو بڑھانے کے لیے جدید حکمتِ عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس سیشن کی صدارت ڈاکٹر ایم ایس ساہو (سابق چیئرمین، آئی بی بی آئی) نے کی۔ مقررین میں شامل تھے: پنکج شرما (جوائنٹ سیکریٹری، ڈی ایف ایس)، رمیش کرشن مورتی (سی ای او، ای پی ایف او)، مسٹر امرجیت سنگھ (مکمل وقت ممبر، سیبی)، مسٹر رجے کمار سنہا (مکمل وقت ممبر، آئی آر ڈی اے آئی)، ڈاکٹر منوج آنند (مکمل وقت ممبر برائے فنانس، پی ایف آر ڈی اے)، اور دیگر معزز اداروں کے نمائندگان شامل تھے، جنہوں نے اپنی مہارت سے گفتگو کو مزید نتیجہ خیز بنایا۔ یوں پہلے دن کا اختتام پنشن سیکٹر پر عالمی بصیرتوں کے ایک حسین امتزاج کے ساتھ ہوا۔
دوسرا دن، جو 4 اپریل 2025 کو منعقد ہوا، تحقیقی مقالہ جات کی پیشکشوں سے سجا رہا، جن میں پنشن نظاموں پر جدید مطالعات کو پیش کیا گیا۔ اختتامی دن کے موقع پر دو مزید پینل مباحثے بھی منعقد ہوئے۔
پہلا پینل مباحثہ ’’پائیدار ریٹائرمنٹ منصوبہ بندی کے لیے مالی خواندگی کو فروغ دینا‘‘ کے موضوع پر تھا، جس میں ممتاز تعلیمی اداروں کے معزز اسکالرز نے شرکت کی۔ پنشن کوریج کو بڑھانے کے لیے مؤثر حکمت عملی، مستقل مزاجی کو برقرار رکھنا، آبادیاتی رجحانات میں تبدیلی، سماجی دباؤ اور صنفی تعصبات، نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے تحت اسکول کے نصاب میں مالی خواندگی کے کورسز کو شامل کرنا، مختلف آبادیاتی طبقات کے لیے مخصوص حکمت عملی اپنانا، اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی پھیلانے کے لیے انفلوئنسر مارکیٹنگ کو اپنانا وغیرہ شامل تھے۔
اس سیشن کی نظامت محترمہ ممتا شنکر (کل وقتی ممبر، پی ایف آر ڈی اے) نے کی، جبکہ مقررین میں پروفیسر سمرِت کور (پرنسپل، ایس آر سی سی)، ڈاکٹر اروند سہائے (ڈائریکٹر، ایم ڈی آئی)، ڈاکٹر پون کمار سنگھ (ڈائریکٹر، آئی آئی ایم تروچیراپلی)، ڈاکٹر اشوک بینرجی (ڈائریکٹر، آئی آئی ایم اودے پور)، ڈاکٹر بھیمرایا میتری (ڈائریکٹر، آئی آئی ایم ناگپور)، اور جناب کارتیکین (ڈائریکٹر، ڈی ایف ایس، وزارت خزانہ) وغیرہ شامل تھے۔
دوسرا سیشن ’’پنشن فنڈ سرمایہ کاری میں خطرے اور منافع پر توجہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا، جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ پنشن فنڈز طویل مدتی پنشن کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کن حکمتِ عملیوں کو اختیار کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ پورٹ فولیو کے خطرے اور منافع میں توازن کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اہم نکات میں اثاثوں کی تقسیم کو بہتر بنانا، سرمایہ کاری میں تنوع لانا، دباؤ کا جائزہ لینا، سرمایہ کاری کے فیصلوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)اور مشین لرننگ (ایم ایل) کے ممکنہ اثرات، اور ’لائبیلٹی ڈرِون انویسٹمنٹ‘ کی حکمت عملی شامل تھی تاکہ مستقبل کی ادائیگیوں سے ہم آہنگ کیش فلو کو ترقی کی صلاحیت کو متاثر کیے بغیر یقینی بنایا جا سکے۔
اس اجلاس کی نظامت پروفیسر وی روی انشومن، آئی آئی ایم بنگلور نے کی، جب کہ مقررین میں پروفیسر ایس وی ڈی ناگیسورا راؤ (سربراہ، اسکول آف مینجمنٹ، آئی آئی ٹی بمبئی)، پروفیسر روپ منجری سنہا رے (منیجمنٹ ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ، گڑگاؤں) اور وویک ائیر (گرینٹ تھارنٹن بھارت ایل ایل پی) شامل تھے۔
پینل گفتگو کے بعد ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں راجن راجو (انوِسپر پیٹیڈ لمیٹڈ)، روی ساراگی (سمستھیتی ایڈوائزرز انڈیا)، محترمہ پنکھڑی سنہا اور لوک نندہ ریڈی ایرالا (یونیورسٹی آف حیدرآباد) کو بہترین تحقیقی مقالوں پر اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب کا اختتام ایک یادگار انداز میں ہوا، جس میں محترمہ سُمت کور کپور (ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پی ایف آر ڈی اے) نے کانفرنس میں ہونے والی بصیرت افروز گفتگوؤں اور سیکھنے کے نکات پر روشنی ڈالی۔ اختتامی کلمات پی اروموگراجن (چیف جنرل منیجر، پی ایف آر ڈی اے) نے ادا کیے، جنہوں نے معزز مقررین، پینلسٹس، محققین اور شرکاء کا قیمتی خیالات اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریب کے کامیاب اختتام کا اعلان کیا۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9569
(Release ID: 2119182)
Visitor Counter : 23