اقلیتی امور کی وزارتت
azadi ka amrit mahotsav

وقف (ترمیمی) بل، 2025: ایکٹ بمقابلہ بل کا جائزہ

Posted On: 04 APR 2025 4:03PM by PIB Delhi

تعارف

وقف (ترمیمی) بل، 2025 کا مقصد وقف ایکٹ، 1995 میں ترمیم کرنا ہے، تاکہ وقف املاک  سے متعلق امور کو حل کیا جا سکے۔  مجوزہ تبدیلیوں میں درج ذیل امور کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

• سابقہ ​​ایکٹ کی خامیوں کو دور کرنا اور وقف بورڈوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا

• وقف کی تعریفوں کو اپ ڈیٹ کرنا

• رجسٹریشن کے عمل کو بہتر بنانا

• وقف ریکارڈ کے انتظام میں ٹیکنالوجی کے کردار کو بڑھانا۔

مسلمان وقف (منسوخی) بل، 2025 کا بنیادی مقصد ازکار رفتہ مسلمان وقف ایکٹ، 1923 کو منسوخ کرنا ہے، جو جدید ہندوستان کے لئے ناکافی ہوچکا ہے۔ منسوخی:

  • وقف ایکٹ ، 1995 کے تحت وقف کی جائیدادوں کے انتظام کے لیے یکساں قوانین کو یقینی بنائے گی۔
  • وقف کے انتظام میں شفافیت اور جوابداری بہتر بنے گی۔
  • پرانے قانون کی وجہ سے پیدا ہونے والی الجھن اور قانونی تضادات کو ختم  ہو ں گے۔

اہم مسائل:

وقف املاک  کا ناقابل تنسیخ ہونا:ایک بار وقف ، ہمیشہ کے لئے وقف کا اصول مختلف تنازعات کا باعث بنا ہے ۔  جیسے کہ بیٹ دوارکا کے دو جزیروں کے دعوے کو عدالتوں نے الجھن کا باعث قرار دیا ہے ۔

قانونی چارہ جوئی اور بدانتظامی:وقف ایکٹ، 1995 اور اس میں 2013 میں کی گئی  ترمیم کو غیر موثر نہیں رہ گئے  ہیں۔اس میں جو  مسائل ہیں ان میں  شامل ہیں:

  • وقف زمین پر ناجائز قبضہ
  • بدانتظامی اور ملکیت سے  متعلق تنازعات
  • اثاثہ جات کے رجسٹریشن اور سروے میں تاخیر
  • بڑے پیمانے پر قانونی چارہ جوئی سے متعلق مقدمات اور وزارت کے پاس شکایات

3.کوئی عدالتی نگرانی نہیں:

  • وقف ٹریبونل کے فیصلوں کو اعلی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
  • اس سے وقف کے انتظام میں شفافیت اور جوبداری میں کمی آتی ہے۔

4.وقف اثاثہ جات کا نامکمل سروے :  

  • سروے کمشنر کا کام ناقص رہا ہے ، جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے ۔
  • گجرات اور اتراکھنڈ جیسی ریاستوں میں سروے شروع بھی نہیں ہوئے ہیں ۔
  • اتر پردیش میں 2014 میں حکم دیا گیا سروے ابھی زیر التوا ہے ۔
  • مہارت کی کمی اور محکمہ ریونیو کے ساتھ ناقص ہم آہنگی نے رجسٹریشن کے عمل کو سست کر دیا ہے ۔

5.دفعات کا غلط استعمال:

  • کچھ ریاستی وقف بورڈز نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے ، جس کی وجہ سے کمیونٹی میں تناؤ پیدا ہوا ہے ۔
  • وقف ایکٹ کی دفعہ 40 کا نجی املاک کو وقف کی جائیدادیں قرار دینے کے لیے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا گیا ہے ، جس سے قانونی لڑائیاں اور بدامنی پیدا ہوتی ہے ۔
  • 30 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے معلومات کے مطابق ، اعداد و شمار صرف 8 ریاستوں کے ذریعے دیے گئے تھے جہاں دفعہ 40 کے تحت 515 جائیدادوں کو وقف قرار دیا گیا ہے ۔

6.وقف ایکٹ آئینی جواز:

  • وقف ایکٹ صرف ایک مذہب پر لاگو ہوتا ہے ، جبکہ دوسروں کے لیے ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔
  • دہلی ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل (مفاد عامہ کی عرضی) دائر کی گئی ہے ، جس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا وقف ایکٹ آئینی ہے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے ۔

 

وقف (ترمیمی ) بل ، 2025 کی اہم خصوصیات

خصوصیات

وقف ایکٹ 1995

وقف (ترمیمی) بل 2025

ایکٹ کا نام

وقف ایکٹ 1995

 یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 2025

وقف کی تشکیل

وقف  کی تشکیل اعلان، استعمال (یوزر)یا عطیہ (وقف علی الاولاد) کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔

  • وقف بائی یوزر کو ختم کرتا ہے اور صرف اعلان یا  عطیہ کے ذریعے تشکیل کی اجازت دیتا ہے۔
  • عطیہ دہندہ کم از کم 5 سال تک عملی مسلمان ہو اور جائیداد کا مالک ہو۔
  • وقف علی الاولاد  خواتین واثین کو حقوق وراثت سے روک  نہیں سکتا۔

سرکاری املاک بطور وقف

کوئی واضح التزام نہیں۔

وقف کے طور پر شناخت کی گئی کوئی بھی سرکاری جائیداد وقف نہیں رہے گی۔ ملکیت کے تنازعات کو کلکٹر حل کرے گا جو ریاستی حکومت کو رپورٹ پیش کرے گا۔

وقف املاک کے تعین کا اختیار

یہ ایکٹ وقف بورڈ کو  جانچ کرنے اور اس بات کا تعین کرنے کا اختیار دیتا ہے کہ آیا کوئی جائیداد وقف ہے۔

التزام ہٹا دیا گیا ۔

وقف کا سروے

سروے کمشنر اور ایڈیشنل کمشنروں کووقف املاک کا سروے کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

کلکٹروں کو سروے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ زیر التواء سروے ریاستی محصولات کے قوانین کے مطابق کئے جائیں گے۔

مرکزی وقف کونسل کی تشکیل

مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور وقف بورڈز کو مشورہ دینے کے لیے مرکزی وقف کونسل  کی تشکیل
کونسل کے تمام اراکین کو کم از کم دو خواتین اراکین کے ساتھ مسلمان ہونا چاہیے ۔

دو ارکان کا غیر مسلم ہونا لازمی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ، سابق ججز اور ایکٹ کے مطابق کونسل میں مقرر کردہ نامور افراد کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔

درج ذیل ارکان کا مسلمان ہونا ضروری ہے:

  • مسلم تنظیموں کے نمائندے۔
  • اسلامی قانون کے واقف کار
  • وقف بورڈ کے چیئرپرسن
  • مسلم ارکان میں سے دو خواتین کا ہونا ضروری ہے۔

وقف بورڈ کی تشکیل

  1. ایکٹ مسلمانوں کے الیکٹورل کالجوں سے ہر دو ممبران کے انتخاب کا التزام کرتا ہے: (i) ایم پیز، (ii) ایم ایل ایز اور ایم ایل سیز، اور (iii) ریاست سے بورڈ تک بار کونسل کے ممبران۔
  2. کم از کم دو ارکان  کا خاتون ہونا ضروری ہے۔
  1. بل ریاستی حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ہر پس منظر سے ایک شخص کو بورڈ میں نامزد کرے۔ ان کا مسلم ہونا ضروری نہیں۔  اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بورڈ  میں ہوں:
  • دو غیر مسلم ارکان
  • شیعہ، سنی اور مسلمانوں کے پسماندہ طبقات میں سے ہر ایک میں کم از کم ایک رکن
  • بوہرہ اور آغاخانی برادریوں سے ایک ایک رکن (اگر ان  کی ریاست میں وقف ہے)
  1. بل میں دو مسلم ارکان کا خواتین ہونا ضروری

ٹریبونل کی تشکیل

ایکٹ کے تحت ریاستوں سے وقف کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے ٹریبونل تشکیل دیا جانا ضروری ۔

ان ٹربیونلز کے چیئرمین کو کلاس۔1، ڈسٹرکٹ، سیشن یا سول جج کے برابر درجہ کا جج ہونا چاہیے۔

دیگر اراکین میں شامل ہیں:

.i ایک ریاستی افسر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے برابرکا،

.ii مسلم قانون اور فقہ کا علم رکھنے والا شخص

اس ترمیم کے ذریعہ قانونی ماہر کے التزام کو ختم کردیا گیا ہےاور اس کی جگہ مندرجہ ذیل کو بطور ممبر شامل کیا گیا ہے۔

.iایک موجودہ یا سابق ڈسٹرکٹ کورٹ جج بطور چیئرمین

.iiریاستی حکومت کے جوائنٹ سکریٹری رینک کا موجودہ یا سابق افسر

 

ٹریبونل کے احکامات پر اپیل

ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہے اور عدالتوں میں اس کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں ممنوع ہیں۔

 صرف ہائی کورٹ خصوصی حالات میں مداخلت کرسکتےہیں۔  

بل میں ٹربیونل کے فیصلوں کی حتمی  حیثیت کو ختم کردیا گیا ہے۔

ٹریبونل کے احکامات کے خلاف 90 دنوں کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

 

 

مرکزی حکومت کے اختیارات

ریاستی حکومت کسی بھی وقت وقف کے کھاتوں کا آڈٹ کروا سکتی ہے۔

یہ بل مرکزی حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ وقف بورڈ  کے رجسٹریشن، وقف کے کھاتوں کی اشاعت اور وقف بورڈوں کی کارروائیوں کی اشاعت کرسکے۔

یہ بل مرکزی حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ سی اے جی (کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) یا کسی نامزد افسر سے ان کا آڈٹ کروائے۔

فرقوں کے لیے الگ وقف بورڈ

اگر ریاست میں تمام وقف املاک یا وقف آمدنی کا 15فیصد سے زیادہ شیعہ وقف ہے تو سنی اور شیعہ فرقوں کے لیے الگ الگ  وقف بورڈ کاقیام۔

شیعہ اور سنی فرقوں کے ساتھ بوہرہ اور آغاخانی فرقوں کے لیے الگ وقف بورڈ کی اجازت ۔

 

وقف بورڈ اور سنٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم ممبران کی شمولیت

نتیجہ:

وقف (ترمیم) بل ، 2025 ، ہندوستان میں وقف املاک کے انتظام و انصرام ، شفافیت اور کارکردگی کو بڑھانے کے مقصد سے اہم اصلاحات متعارف کراتا ہے ۔ قانونی چارہ جوئی اور عدالتی نگرانی کی کمی جیسے دیرینہ مسائل کو حل کرکے ، بل ایک زیادہ منظم اور جوابدہ فریم ورک بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اہم تبدیلیوں میں وقف کی تشکیل کی نئی تعریف ، سروے اور رجسٹریشن کے عمل کو بہتر بنانا ، سرکاری نگرانی کو بااختیار بنانا ، غیر مسلم اراکین اور خواتین کو وقف سے متعلق اداروں میں شامل کرکے شمولیت کو یقینی بنانا شامل ہے ۔ یہ التزامات ہندوستان میں وقف املاک کے انتظام کو جدید بنانے کی طرف ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں:

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/apr/doc202544533401.pdf

*****

ش ح ۔ م م۔ ج

Uno-9526


(Release ID: 2118962) Visitor Counter : 109


Read this release in: English , Hindi , Gujarati , Tamil