اقلیتی امور کی وزارتت
وقف ترمیمی بل، 2025: متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اصلاحات
Posted On:
04 APR 2025 3:45PM by PIB Delhi
تعارف
وقف ترمیمی بل 2025 کو وقف املاک کے بندوبست اور نظم و نسق میں بدعنوانی سے نمٹنے کے بنیادی مقصد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان ترامیم کا مقصد زیادہ وضاحت فراہم کرنا، فیصلہ سازی میں زیادہ لوگوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے اور وقف اثاثوں کے استعمال میں بہتری پیدا کرنا ہے۔
آٹھ (8 ) اگست 2024 کو لوک سبھا میں دو بل، وقف (ترمیمی) بل، 2024، اور مسلمان وقف (منسوخی) بل، 2024 پیش کیے گئے تھے، جس کا مقصد وقف بورڈ کے کام کو ہموار کرنا اور وقف املاک کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا ہے۔
مسلمان وقف (منسوخی) بل، 2024 کا بنیادی مقصد مسلمان وقف ایکٹ، 1923 کو منسوخ کرنا ہے، جو نوآبادیاتی دور کا ایک قانون ہے اور جو جدید ہندوستان میں وقف املاک کے انتظام و انصرام کے لیے پرانا اور ناکافی ہو چکا ہے۔ منسوخی کا مقصد وقف ایکٹ 1995 کے تحت وقف املاک کے انتظام و انصرام میں یکسانیت، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے، نیز اس پرانے قانون کی وجہ سے پیدا ہونے والی تضادات اور ابہام کو بھی ختم کرنا ہے۔
وقف (ترمیمی) بل، 2025 کا مقصد وقف ایکٹ، 1995 میں ترمیم کرنا ہے، تاکہ وقف املاک کو منظم بنانےاور اس کے بندوبست میں درپیش مسائل اور چیلنجوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس میں کئی بہتریوں کی تجویز ہے ، جیسے:
- وقف سے متعلق پرانے قانون کی خامیوں کو دور کرنا اور ایکٹ کا نام تبدیل کرنے جیسی تبدیلیاں متعارف کراکر وقف بورڈز کی کارکردگی میں اضافہ کرنا
- وقف کی تعریف کو اَپ ڈیٹ کرنا
- رجسٹریشن کے عمل کو بہتر بنانا
- وقف ریکارڈ کے انتظام میں ٹیکنالوجی کے کردار کو بڑھانا ۔
اس بل کے مخصوص پہلو:
- نو (9 ) اگست 2024 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی طرف سے منظور کی گئی الگ الگ تحریکوں کے ذریعہ مذکورہ بل کو اس ایک مشترکہ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا، جس کے پاس بل کی جانچ پڑتال اور رپورٹ تیار کرنے کا اختیار ہے۔ یہ مشترکہ کمیٹی لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان پر مشتمل تھی۔
- بل کی اہمیت اور اس کے وسیع اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مذکورہ کمیٹی نے بل کی دفعات پر عام طور پر عوام، ماہرین،متعلقہ فریقوں اور دیگر متعلقہ اداروں سے خاص طور پر رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
- پہلی نشست 22 اگست 2024 کو ہوئی اور اجلاس کے دوران جن اہم تنظیموں اور شراکت داروں سے صلاح و مشورہ کیا گیا وہ درج ذیل ہیں:
- آل انڈیا سنی جمعیت العلماء، ممبئی
- انڈین مسلم آف سول رائٹس (آئی ایم سی آر)، نئی دہلی
- متحدہ مجلس علماء، جموں و کشمیر (میرواعظ عمر فاروق)
- زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا
- انجمن شیعۃ علی داؤدی بوہرہ کمیونٹی
- چانکیہ نیشنل لاء یونیورسٹی، پٹنہ
- آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ، دہلی
- آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ(اے آئی ایم پی ایل بی) ، دہلی
- آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل(اے آئی ایس ایس سی) ، اجمیر
- مسلم راشٹریہ منچ، دہلی
- مسلم انٹلیکچول گروپ - ڈاکٹر شالنی علی، نیشنل کنوینر
- جمعیۃ علماء ہند، دہلی
- شیعہ مسلم دھرم گرو اورانٹلیکچول گروپ
- دارالعلوم دیوبند
- مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے چھتیس اجلاس منعقد کیے، جس میں انہوں نے مختلف وزارتوں،محکموں، ریاستی حکومتوں، ریاستی وقف بورڈز اور ماہرین اور متعلقہ فریق کے نمائندوں کی آراء اورتجاویز کی سماعت کی۔ کمیٹی کو آف لائن یعنی شخصی طور پر اور ڈیجیٹل دونوں طریقوں سےمجموعی طور پر 97,27,772 میمورنڈم موصول ہوئے ۔
- وقف ترمیمی بل2024 کے جامع جائزہ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کمیٹی نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں وسیع مطالعاتی دورے کئے۔ 10 شہروں میں مطالعاتی دورے سے متعلق تفصیلات ذیل میں ہیں:
- 26.09.2024 سے 010.2024: ممبئی، احمد آباد، حیدرآباد، چنئی اور بنگلورو
- 09.11.2024 سے 11.11.2024: گوہاٹی، بھونیشور
- 18.01.2025 سے 21.01.2025: پٹنہ، کولکتہ اور لکھنؤ
- کمیٹی نے اس موضوع پر جامع طور پر غور و خوض کیا جس میں 284 متعلقہ فریقوں، 25 ریاستی وقف بورڈز، 15 ریاستی حکومتوں، 5 اقلیتی کمیشنوں اور 20 وزراء/ رکن پارلیمنٹ /ایم ایل ایز اورایم ایل سیز کے ساتھ بات چیت شامل ہے۔ ان دوروں سے کمیٹی کے ارکان کو متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کرنے، زمینی حقائق کا جائزہ لینے اور علاقے سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے میں مدد ملی۔
- وقف (ترمیمی) بل میں 44 شقیں ہیں اور مشترکہ کمیٹی برائے وقف ترمیم بل (جے سی ڈبلیو اے بی) نے 19 شقیں تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے ۔
- مشترکہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ 31 جنوری 2025 کو لوک سبھا کے معزز اسپیکر کو پیش کی اور یہ رپورٹ 13 فروری 2025 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے رکھی گئی ۔
پیش کردہ سفارشات کی ایک جھلک:
آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ پسماندہ لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے وقف (ترمیمی) بل 2024 سے متعلق مشترکہ کمیٹی کے سامنے اپنی تجاویز پیش کیں۔
- اپیل کی سماعت کرنے کے نظام کو متعارف کرانا
- وقف ریکارڈ کا بہتر ین بندوبست
- تجاوزات اور غلط استعمال کے لیے سخت جرمانہ
- بے ضابطگیوں میں ملوث بورڈ ممبران کو نااہل قرار دینا
- وقف املاک کی آمدنی کا صحیح استعمال
- منصفانہ انکوائری کے لیے سینئر ریوینیو افسران کو بااختیار بنانا
نتیجہ:
وقف (ترمیم) بل ، 2024 پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں وقف جائیداد کے انتظام کو منصفانہ، شفاف اور موثر بنانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کمیٹی نے مختلف نقطہ نظر کو سنا، مطالعاتی دورے کیے اور متعلقہ فریقوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے تفصیلی بات چیت کی۔ بل میں مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد ایک زیادہ جامع اور ذمہ دار نظام تشکیل دینا ہے، جو معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرے۔
پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
********
ش ح۔ ش م ۔ م ر
Urdu No. 9521
(Release ID: 2118879)
Visitor Counter : 49