ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: شجرکاری

Posted On: 27 MAR 2025 5:45PM by PIB Delhi

راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب کیرتی ورادھن سنگھ نے بتایا کہ وزارت نگر ون یوجنا(این وی وائی) ، نیشنل مشن فار گرین انڈیا( جی آئی ایم) مین گروو انیشی ایٹو فار شور لائن ہیبٹ اور ٹینجبل بینیفٹس(ایم آئی ایس ایچ ٹی آئی) سمیت  مختلف اسکیموں کے تحت شجرکاری مہم چلارہی ہے۔ نیشنل کمپینسنٹری افورسٹیشن  فنڈ مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی(سی اے ایم پی اے) کے تحت معاوضاتی جنگلاتی فنڈز کا استعمال کرتےہوئے جنگلاتی سرگرمیاں بھی بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہیں، جس کے تحت ‘‘ایک پیر ماں کے نام کے عنوان سے ایک رضاکارانہ پہل شروع کی گئی ہے، جو 5 جون 2024 کو ماں اور مادرِ زمین (دھرتی ماں)کے لیے دل سے پیش کیا گیا خراجِ عقیدت  ہے اور یہ ماحولیات کی ذمہ داری کا امتزاج پیش کرتا ہے۔ رواں مالی  سال میں درختوں کی تعداد کی ریاستی تفصیلات اینکسچر-I میں دی گئی ہے۔

جنگلات اور درختوں کے وسائل کا تحفظ اور انتظام بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظاعلاقوں  کی ذمہ داری ہے اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور اس کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات ان کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ درختوں کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کے لیے ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں  میں مختلف تدابیر اختیار کر رہی ہیں، جیسے جنگلاتی علاقوں میں فرنٹ لائن جنگلاتی عملے کے ذریعے باقاعدہ گشت، غیر قانونی/ممنوعہ سرگرمیوں کے وقوع کو روکنے کے لیے گشت کے کیمپوں/اینٹی پوچنگ کیمپوں کا قیام، اسٹریٹجک اور حساس مقامات پر چیک پوسٹس کا قیام، نگرانی اور فلائنگ اسکواڈ کی تعیناتی، حساس علاقوں میں باقاعدہ معائنوں کا انعقاد وغیرہ۔اس کے علاوہ، ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں جنگلاتی محکمے مشترکہ جنگلاتی انتظام (جوائنٹ فاریسٹ مینجمنٹ )کے پروگرامز،بیداری کی  مہمات، تعلیمی پروگرامز وغیرہ بھی عمل میں لا رہے ہیں تاکہ کمیونٹیز کو جنگلاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے۔ ملک کے جنگلات اور درختوں کے وسائل کے تحفظ اور انتظام کے لیے قانونی فریم ورک موجود ہیں، جن میں انڈین فارسٹ ایکٹ 1927، وَن (سنرکشن ایوَم سموردھن) ادھینیم 1980، وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ 1972، ریاستی جنگلاتی قوانین، درختوں کے تحفظ کے قوانین اور ضوابط وغیرہ شامل ہیں۔ جب بھی درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے واقعات سامنےآتے ہیں ریاستی حکومتیں/مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی انتظامیہ ان قوانین/ضوابط کے تحت مناسب اقدامات کرتی ہیں تاکہ جنگلات اور درختوں کا تحفظ کیا جا سکے ۔

موجودہ مالی سال میں جنگلاتی اسکیموں کے تحت شجرکاری کے لیے 684.54 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

ضمیمہ -1

نمبر شمار

ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے

لگائے گئے درختوں کی تعداد

1

انڈمان اور نکوبار (اے این)

2261808

2

آندھرا پردیش (اے پی)

60904135

3

اروناچل پردیش (اے آر)

4857910

4

آسام (اے ایس)

32215542

5

بہار (بی آر)

35321797

6

چندی گڑھ (سی ایچ)

280887

7

چھتیس گڑھ (سی جی)

33121988

8

دادرہ اور نگر حویلی (ڈی این)

612502

9

دمن اور دیو (ڈی ڈی)

3562

10

دہلی (ڈی ایل)

4125328

11

گوا (جی اے)

541794

12

گجرات (جی جے)

173317655

13

ہریانہ (ایچ آر)

12950177

14

ہماچل پردیش (ایچ پی)

4883847

15

جموں و کشمیر (جے کے)

10119287

16

جھارکھنڈ (جے ایچ)

23601649

17

کرناٹک(کے اے)

19069351

18

کیرالہ(کے ایل)

1932248

19

لداخ

155532

20

لکش دیپ (ایل ڈی)

157044

21

مدھیہ پردیش (ایم پی)

64019290

22

مہاراشٹر (ایم ایچ)

43495069

23

منی پور (ایم این)

5176249

24

میگھالیہ (ایم ایل)

88066

25

میزورم (ایم زیڈ)

504768

26

ناگالینڈ (این ایل)

3692248

27

اوڈیشہ(او ڈی)

56071322

28

پڈوچیری (پی وائی)

104694

29

پنجاب (پی بی)

18464163

30

راجستھان (آر جے)

56834461

31

سکم(ایس کے)

1895204

32

تمل ناڈو (ٹی این)

23033367

33

تلنگانہ

176471148

34

تریپورہ (ٹی آر)

4143628

35

اتر پردیش (یوپی)

395214001

36

اتراکھنڈ (یوکے)

25813947

37

مغربی بنگال (ڈبلیو بی)

482485

لگائے گئے درختوں کی تعداد

1295938153

* * * ** * * *

ش ح۔م ع ن-ت ا

U-NO: 9094


(Release ID: 2116074) Visitor Counter : 11


Read this release in: English , Hindi , Bengali