امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
مرکز صارفین کے حقوق کا تحفظ صارفین کے تحفظ کے ایکٹ 2019 کے تحت مختلف دفعات کے ذریعے کرتا ہے
سینٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی نے گمراہ کن اشتہارات پر 24 کوچنگ اداروں پر 77 لاکھ 60 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے
محکمہ امور صارفین نے نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن کے ذریعے تعلیمی شعبے میں 600 سے زائد امیدواروں اور طلباء کے لیے 1.56 کروڑ روپے کی رقم واپس دلائی
Posted On:
25 MAR 2025 3:44PM by PIB Delhi
صارفین کے امور کا محکمہ ترقی پسند انہ قانون سازی کے ذریعے صارفین کے تحفظ اور صارفین کو بااختیار بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ عالم گیریت ، ٹیکنالوجیز، ای کامرس مارکیٹس وغیرہ کے نئے دور میں صارفین کے تحفظ کو کنٹرول کرنے والے فریم ورک کو جدید بنانے کے لیے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ، 1986 کو منسوخ کر دیا گیا اور کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ، 2019 نافذ کیا گیا۔
نئے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ، 2019 کی نمایاں خصوصیات مرکزی کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) کا قیام ہے؛ صارف کمیشنوں میں فیصلہ سازی کے عمل کو آسان بنانا، جیسے کہ صارف کمیشنوں کی مالی حدود میں اضافہ، صارفین کے کام یا رہائش کی جگہ کے دائرہ اختیار والے صارف کمیشن میں آن لائن شکایت درج کرانے کی سہولت (چاہے لین دین کہیں بھی ہوا ہو)، سماعت کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ، اور 21 دن کے اندر شکایت کے قابلِ قبول ہونے کا فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ازخود قبولیت۔مصنوعات کی ذمہ داری کا تعین،ملاوٹ شدہ اور نقلی اشیاء کی تیاری/فروخت پر سخت سزائیں،ای کامرس اور ڈائریکٹ سیلنگ میں غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو روکنے کے لیے قواعد بنانے کی گنجائش ۔
کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ، 2019 ضلع، ریاستی اور مرکزی سطحوں پر تین درجے کی نیم عدالتی مشینری فراہم کرتا ہے جسے عام طور پر صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے "کنزیومر کمیشنز" کے نام سے جانا جاتا ہے اور صارفین کے تنازعات بشمول غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے متعلق تنازعات کا آسان اور تیزی سے ازالہ کرنا ہے۔ کنزیومر کمیشنز کو ایک مخصوص نوعیت کا ریلیف دینے اور جہاں مناسب ہو صارفین کو معاوضہ دینے کا اختیار حاصل ہے۔
محکمہ امور صارفین کے زیر انتظام قومی صارف ہیلپ لائن (این سی ایچ) ملک بھر میں صارفین کے لیے ان کے مسائل کے ازالے کے لیے ایک واحد مرکزی ذریعہ بن کر ابھری ہے، جو عدالتی کارروائی سے قبل شکایات کے حل میں مدد فراہم کرتی ہے۔ صارفین پورے ملک سے 17 زبانوں میں اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں، جن میں ہندی، انگریزی، کشمیری، پنجابی، نیپالی، گجراتی، مراٹھی، کنڑ، تیلگو، تمل، ملیالم، میتھلی، سنتھالی، بنگالی، اوڑیا، آسامیہ اور منی پوری شامل ہیں۔ شکایات درج کرانے کے لیے ٹول فری نمبر 1915 فراہم کیا گیا ہے۔یہ شکایات انٹیگریٹڈ گریوینس ریڈریسل میکنزم (آئی این جی آر اے ایم) کے ذریعے مختلف ذرائع سے درج کی جا سکتی ہیں، جو ایک جدید آئی ٹی پر مبنی مرکزی پورٹل ہے۔ صارفین درج ذیل ذرائع کے ذریعے اپنی شکایات جمع کرا سکتے ہیں: واٹس ایپ (8800001915)، ایس ایم ایس ( 8800001915)، ای (nch-ca[at]gov[dot]in) ایپ، ویب پورٹل (consumerhelpline.gov.in) اور امنگ ایپ،'کنورجنس' پروگرام کے تحت 1049 کمپنیوں نے قومی صارف ہیلپ لائن (این سی ایچ) کے ساتھ رضاکارانہ طور پر شراکت داری کی ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کے مطابق براہ راست ان مسائل کو حل کرتی ہیں اور پورٹل کے ذریعے شکایت کنندہ کو فیڈ بیک فراہم کرتی ہیں۔ جن کمپنیوں نے این سی ایچ کے ساتھ شراکت نہیں کی ہے، ان کے خلاف شکایات ازالے کے لیے براہ راست متعلقہ کمپنی کو بھیجی جاتی ہیں۔
ای کامرس میں غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے صارفین کے مفادات کی حفاظت کے لیے، محکمہ امور صارفین نے صارفین کے تحفظ (ای کامرس) ضابطہ ، 2020 کو صارفین کے تحفظ ایکٹ، 2019 کے تحت نوٹیفائی کیا ہے۔ ان ضابطوں میں ای کامرس اداروں کی ذمہ داریوں اور مارکیٹ پلیس اور انوینٹری ای کامرس اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے، بشمول صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے التزامات ۔
محکمہ امور صارفین نے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک "سیفٹی پلیج" کو حتمی شکل دی ہے، جو ای کامرس پلیٹ فارمز کی جانب سے فروخت ہونے والی اشیاء کی حفاظت اور صارفین کے حقوق کے احترام کے لیے ایک رضاکارانہ عوامی عہد ہے۔ یہ اقدام عالمی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ ہے اور ای کامرس میں صارفین کے تحفظ کو مزید مستحکم کرتا ہے۔صارفین کے قومی دن 2024 کے موقع پر 13 بڑی ای کامرس کمپنیوں بشمول ریلائنس ریٹیل گروپ، ٹاٹا سنز گروپ، زومیٹو، اولا، سویگی وغیرہ نے سیفٹی پلیج پر دستخط کیے تاکہ صارفین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ بڑی ای کامرس کمپنیوں کی جانب سے سیفٹی پلیج کی پاسداری کا عہد صارفین کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
صارفین کے تحفظ ایکٹ، 2019 کے تحت، ایک ایگزیکٹو ایجنسی کے طور پر مرکزی صارف تحفظ اتھارٹی (سی سی پی اے) کا قیام 24 جولائی 2020 کو عمل میں آیا۔ اس کا مقصد غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے باعث صارفین کو پہنچنے والے نقصان کو روکنا، اور اجتماعی قانونی کارروائیوں جیسے واپسی، رقوم کی ادائیگی اور مصنوعات کی واپسی کے نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جھوٹے یا گمراہ کن اشتہارات کو روکنا اور عوامی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
ڈارک پیٹرن میں صارفین کو ایسے انتخاب کرنے پر مجبور یا بہکانے کے لیے ڈیزائن اور انتخابی آرکیٹیکچر کا استعمال کیا جاتا ہے جو ان کے مفاد میں نہ ہوں۔ ڈارک پیٹرن میں مختلف قسم کی دھوکہ دہی والی کارروائیاں شامل ہوتی ہیں جیسے ڈرپ پرائسنگ، چھپے ہوئے اشتہارات، بیٹ اینڈ سوئچ، جھوٹی ہنگامی صورتحال وغیرہ۔ ایسی کارروائیاں "غیر منصفانہ تجارتی طریقوں" کے زمرے میں آتی ہیں جیسا کہ صارف تحفظ ایکٹ 2019 کے سیکشن 2 کی ذیلی دفعہ 47 میں تعریف کی گئی ہے۔
سی سی پی اے نے صارفین تحفظ ایکٹ 2019 کے سیکشن 18 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 30 نومبر 2023 کو "ڈارک پیٹرنز کی روک تھام اور ضابطہ کے لیے رہنما اصول، 2023" جاری کیے ہیں، جو ای کامرس کے شعبے میں شناخت شدہ 13 مخصوص ڈارک پیٹرنز کی روک تھام اور ضابطہ کے لیے ہیں۔ یہ ڈارک پیٹرن میں شامل ہیں: جھوٹی ہنگامی صورتحال، باسکٹ اسنیکنگ، کنفرم شیمنگ ، زبردستی کارروائی، سبسکرپشن ٹریپ، انٹرفیس مداخلت، بیٹ اینڈ سوئچ، ڈرپ پرائسنگ، گمراہ کن اشتہارات، نیگنگ، الفاظ کا چالاکی سےاستعمال ، ساس بلنگ اور بددیانتی پر مبنی مالویئرز۔
سی سی پی اے نے 9 جون 2022 کو "غلط اشتہارات کی روک تھام اور غلط اشتہارات کوروکنے کے لیے رہنما اصول، 2022" بھی نوٹیفائی کیے ہیں۔ یہ رہنما اصولوں میں درج ذیل التزامات ہیں؛ (a) اشتہار کو غیر گمراہ کن اور درست ہونے کے لیے شرائط؛ (b) بیٹ اشتہارات اور مفت دعوے والے اشتہارات کے حوالے سے کچھ ضوابط؛ اور (c) تیار کنندہ، سروس فراہم کنندہ، اشتہار دینے والے اور اشتہاری ایجنسی کی ذمہ داریاں۔ ان رہنما اصولوں میں یہ کہا گیا ہے کہ اشتہارات کی حمایت کے لیے مناسب تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی اشتہار میں کی جانے والی حمایت وہی رائے دکھائے جو اس فرد، گروہ یا ادارے کی حقیقی، معقول طور پر حالیہ رائے ہو جو یہ نمائندگی کر رہا ہو اور یہ معلومات یا تجربہ پر مبنی ہو جو شناخت شدہ مال، مصنوعات یا خدمات کے بارے میں ہو اور یہ دھوکہ دہی پر مبنی نہ ہو۔
مزید برآں، صارفین کے تحفظ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سی سی پی اے نے "گرین واشنگ اور گمراہ کن ماحولیاتی دعووں کی روک تھام اور ضابطہ کے لیے رہنما اصول، 2024" (جو 15 اکتوبر 2024 سے نافذ ہیں ) جاری کیے ہیں، جو ماحولیاتی دعووں میں شفافیت کی ضرورت کو لازمی بناتے ہیں، اور "کوچنگ اداروں میں گمراہ کن اشتہارات کی روک تھام کے لیے رہنما اصول، 2024" (جو 13 نومبر 2024 سے نافذ ہیں) جاری کیے ہیں، جس میں کوچنگ انسٹی ٹیوٹس میں جھوٹے دعووں، مبالغہ آرائی شدہ کامیابی کی شرح اور غیر منصفانہ طریقوں پر غورکیاگیاہے۔
سی سی پی اے نے 24 کوچنگ انسٹی ٹیوٹس پر گمراہ کن اشتہارات کے لیے 77 لاکھ 60 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ صارفین کے امور کے محکمہ (ڈی او سی اے) نے نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن (این سی ایچ) کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں 600 سے زائد امیدواروں اور طلباء کو 1.56 کروڑ روپئےکا ری فنڈ کامیابی کےساھت حاصل کیا ہے۔ یہ طلباء، جو سول سروسز، انجینئرنگ کورس اور دیگر پروگرامز کے لیے کوچنگ سینٹرز میں داخلہ لے چکے تھے، ان انسٹی ٹیوٹس نے پہلے انکی رقم واپس کرنے کے حقوق سے انکار کیا تھا حالانکہ وہ انسٹی ٹیوٹس کی شرائط و ضوابط کی پیروی کر رہے تھے۔ محکمہ کی کارروائی نے طلباء کو ناقص خدمات، تاخیر سے کلاسز یا منسوخ کورسز کے لیے معاوضہ حاصل کرنے میں مدد دی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ غیر منصفانہ کاروباری طریقوں کا مالی بوجھ نہ اٹھائیں۔
سی سی پی اے نے صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی، جھوٹے اور گمراہ کن اشتہارات اور صارف تحفظ ایکٹ 2019 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی خلاف ورزی کرنے پر مختلف اداروں بشمول ای کامرس پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کی ہے۔ مزید برآں، سی سی پی اے نے ان ای کامرس پلیٹ فارمز پر گھریلو پریشر ککروں کی فروخت کے خلاف کارروائی کی ہے جو لازمی بی آئی ایس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اس کے علاوہ، سی سی پی اے کی ہدایت پر، سفری کمپنیوں نے 20 مارچ 2024 تک کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے باعث منسوخ شدہ پروازوں کے لیے 1,454 کروڑ روپئےکی واپسی کی ہے۔ سی سی پی اے نے ان کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر منسوخ ٹکٹوں سے متعلق رقم کی واپسی کے دعووں پر واضح ہدایات اور حیثیت کو اپڈیٹ کریں۔ مزید برآں، 13,118 کار سیٹ بیلٹ الارم اسٹاپر کلپس کی فہرست بڑی ای کامرس پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئی ہے کیونکہ یہ مصنوعات صارف کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور صارف تحفظ ایکٹ 2019 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی طریقہ ہے، کیونکہ ان مصنوعات کی فروخت یا مارکیٹنگ سیٹ بیلٹ نہ پہننے کی صورت میں الارم بیپ کو روک دیتی ہے، جو صارف کی زندگی اور حفاظت کے لیے خطرہ ہے۔
بھارتی معیارات کے بیورو (بی آئی ایس)نے 23 نومبر 2022 کو "آن لائن صارف کے جائزے — ان کے جمع کرنے، اعتدال اور اشاعت کے اصول اور تقاضے" پر ایک فریم ورک نوٹیفائی کیا ہے تاکہ ای کامرس میں جعلی اور دھوکہ دہی والے جائزوں سے صارف کے مفاد کا تحفظ کیا جا سکے۔ یہ معیار رضاکارانہ ہیں اور ہر آن لائن پلیٹ فارم پر لاگو ہوتے ہیں جو صارف کے جائزے شائع کرتے ہیں ۔ اس معیار کے رہنما اصول میں صداقت، درستگی، پرائیویسی، سیکیورٹی، شفافیت، رسائی اور جوابدہی شامل ہیں۔
کونفونیٹ اسکیم کے تحت، ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے لیے وی سی سامان کو نیشنل کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریس کمیشن (این سی ڈی آر سی)کی 10 بنچوں اور ریاستی صارف تنازعات کے حل کمیشن (ایس سی ڈی آر سیز) کی 35 بنچوں پر نصب اور فعال کر دیا گیا ہے۔
یہ معلومات صارفین کے امور، خوراک اور عوامی نظام تقسیم کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب دی۔
************
ش ح ۔ ف ا ۔ م ص
(U : 8868 )
(Release ID: 2115058)
Visitor Counter : 19