امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل گرفتاری کے واقعات

Posted On: 25 MAR 2025 1:41PM by PIB Delhi

ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے مطابق ’پولیس‘ اور ’پبلک آرڈر‘ ریاستی موضوعات ہیں۔ ریاستیں/یو ٹی بنیادی طور پر اپنی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں (ایل ای اے) کے ذریعے سائبر کرائم اور ڈیجیٹل گرفتاری کے گھوٹالوں سمیت جرائم کی روک تھام، پتہ لگانے، تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ مرکزی حکومت ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کے اقدامات کو ان کے ایل ای اے کی صلاحیت سازی کے لیے مختلف اسکیموں کے تحت مشاورتی اور مالی امداد کے ذریعے پورا کرتی ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) اپنی اشاعت ”کرائم ان انڈیا“ میں جرائم کے اعداد و شمار کو مرتب اور شائع کرتا ہے۔ تازہ ترین شائع شدہ رپورٹ سال 2022 کے لیے ہے۔ ڈیجیٹل گرفتاری کے گھوٹالوں سے متعلق مخصوص ڈیٹا کو این سی آر بی کے ذریعے الگ سے برقرار نہیں رکھا جاتا ہے۔

ڈیجیٹل گرفتاری کے گھوٹالوں سمیت سائبر جرائم سے نمٹنے کے طریقہ کار کو ایک جامع اور مربوط انداز میں مضبوط کرنے کے لیے، مرکزی حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن میں دوسری باتوں کے ساتھ، درج ذیل شامل ہیں:

  1. وزارت داخلہ نے ملک میں تمام قسم کے سائبر جرائم سے مربوط اور جامع انداز میں نمٹنے کے لیے ’انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سنٹر‘ (I4C) کو ایک منسلک دفتر کے طور پر قائم کیا ہے۔
  2. مرکزی حکومت نے ڈیجیٹل گرفتاری کے گھوٹالوں کے بارے میں ایک جامع بیداری پروگرام شروع کیا ہے جس میں دیگر باتوں کے ساتھ اخباری اشتہار، دہلی میٹرو میں اعلان، خصوصی پوسٹس بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والوں کا استعمال، پرسار بھارتی اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مہم، آکاشوانی پر خصوصی پروگرام اور 27.11.2024 کو نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں راہگیری تقریب میں شرکت شامل ہیں۔
  • iii. عزت مآب وزیر اعظم نے 27.10.2024 کو "من کی بات" ایپی سوڈ کے دوران ڈیجیٹل گرفتاریوں کے بارے میں بات کی اور ہندوستان کے شہریوں کو آگاہ کیا۔
  • iv. I4C نے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن (DoT) کے تعاون سے سائبر کرائم کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 اور 'نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل' (NCRP) کو فروغ دینے کے لیے کالر ٹیون مہم شروع کی ہے۔ کالر ٹیون علاقائی زبانوں میں بھی نشر کی جا رہی ہے، جو ٹیلی کام سروس پرووائیڈر (ٹی ایس پی) کے ذریعے دن میں 7 سے 8 بار فراہم کی جاتی ہے۔
  1. I4C نے ڈیجیٹل گرفتاری کے لیے استعمال ہونے والے 3,962 سے زیادہ Skype ID اور 83,668 Whatsapp اکاؤنٹس کو فعال طور پر شناخت اور بلاک کیا۔
  • vi. مرکزی حکومت نے ریاست/ یو ٹی میں پولیس، این سی بی، سی بی آئی، آر بی آئی اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی شناخت اپنانے والے سائبر مجرموں کی طرف سے 'بلیک میل' اور 'ڈیجیٹل گرفتاری' کے واقعات کے خلاف الرٹ پر ایک پریس ریلیز شائع کی ہے۔
  1. مرکزی حکومت اور ٹیلی کام سروس پرووائیڈر (ٹی ایس پی) نے آنے والی بین الاقوامی جعلی کالوں کی شناخت اور بلاک کرنے کے لیے ایک نظام وضع کیا ہے اور بین الاقوامی جعلی کالوں کو بلاک کرنے کے لیے ٹی ایس پی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
  2. پولیس حکام کے ذریعے اطلاع دیے جانے کے مطابق 28.02.2025 تک، 7.81 لاکھ سے زیادہ سم کارڈز اور 2,08,469 آئی ایم ای آئی  کو حکومت ہند نے بلاک کر دیا ہے۔
  • ix. 'نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل' (https://cybercrime.gov.in) کو I4C کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا گیا ہے، تاکہ عوام کو خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ، تمام قسم کے سائبر جرائم سے متعلق واقعات کی رپورٹ کرنے کے قابل بنایا جائے۔ اس پورٹل پر رپورٹ ہونے والے سائبر کرائم کے واقعات، ان کی ایف آئی آر میں تبدیلی اور اس کے بعد کی کارروائی کو قانون کی دفعات کے مطابق متعلقہ ریاست/ یو ٹی کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں سنبھالتی ہیں۔
  1. I4C کے تحت 'سٹیزن فنانشل سائبر فراڈ رپورٹنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم' مالیاتی فراڈ کی فوری رپورٹنگ اور فراڈ کرنے والوں کی جانب سے رقوم کی منتقلی کو روکنے کے لیے سال 2021 میں شروع کیا گیا ہے۔ اب تک 13.36 لاکھ سے زیادہ شکایات میں 4,386 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالی رقم بچائی گئی ہے۔ آن لائن سائبر شکایات درج کرنے میں مدد حاصل کرنے کے لیے ایک ٹول فری ہیلپ لائن نمبر '1930' کو فعال کیا گیا ہے۔
  • xi. سائبر کرائم کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے، مرکزی حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن میں، دیگر چیزوں کے ساتھ ایس ایم ایس، I4C سوشل میڈیا اکاؤنٹ یعنی X (سابقہ ​​ٹویٹر) کے ذریعے پیغامات کی ترسیل شامل ہیں۔

وزارت داخلہ میں وزیر مملکت جناب بندی سنجے کمار نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات دی۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع- ج ا

U: 8881


(Release ID: 2115018) Visitor Counter : 18