وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
لائیوا سٹاک کی مردم شماری
Posted On:
25 MAR 2025 12:51PM by PIB Delhi
یہ جانکاری ماہی پروری، حیوانات اور دودھ کی پیداوار کے مرکزی وزیر مملکت، پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے 25 مارچ 2025 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب دیتے ہوئےبتایا کہ مویشیوں کی مردم شماری محکمہ مویشی پروری اور ڈیری مصنوعات (ڈی اے ایچ ڈی) کی ایک باقاعدہ سہ ماہی مشق ہے۔ مویشیوں کی پہلی مردم شماری سال 1919 میں کی گئی تھی اور آخری مردم شماری یعنی 20 ویں مویشیوں کی مردم شماری 2019 میں کی گئی تھی۔ 21 ویں لائیوا سٹاک مردم شماری کا آغاز 25 اکتوبر 2024 کو ملک بھر میں کیا گیا ہے اور 31 مارچ تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ اس میں 2025 کے جانوروں کی تعداد شامل ہے۔ یعنی گائے، بھینس، بکری، بھیڑ، یاک، متھون، کتا، خرگوش، سور، گھوڑا، ٹٹو، گدھا، خچر، اونٹ، ہاتھی اور مرغیاں شامل ہیں۔ بہتر پالیسی سازی کے لیے مویشیوں اور نسلوں کے رجحانات کا اندازہ لگانا، ان کے تحفظ اور افزائش کے پروگراموں کے لیے مقامی اور غیر ملکی نسلوں کے اعدادوشمار کوجمع کرنا، مختلف حکومتی منصوبہ بندی اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں ترقی اور بہبود کے لیے اقدامات کے لیے قابل قدر معلومات فراہم کرنا اس مشق کے کچھ اغراض و مقاصد ہیں۔
21ویں لائیوا سٹاک کی مردم شماری کا کام جاری ہے۔ تاہم، 20ویں مویشیوں کی مردم شماری کے مطابق، ریاست راجستھان کے ساتھ ساتھ سری گنگا نگر اور ہنومان گڑھ کے اضلاع میں مویشیوں کی گنتی کی تفصیلات حسب ذیل ہیں۔–
اضلاع/ریاست
|
مویشی
|
مویشی
|
بھینس
|
بکری
|
بھیڑ
|
دیگر
|
کل
|
سری گنگا نگر
|
6,36,702
|
2,00,125
|
303487
|
233917
|
9081
|
13,83,312
|
ہنومان گڑھ
|
5,44,264
|
3,02,203
|
180537
|
170021
|
20143
|
12,17,168
|
کل: راجستھان
|
1,39,37,630
|
1,36,93,316
|
20840203
|
7903857
|
425939
|
5,68,00,945
|
نوٹ: دیگر میں گھوڑا، ٹٹو، خچر، گدھا، اونٹ اور خنزیر شامل ہیں۔
*******
(ش ح۔ م ح۔ اش ق)
UR-8847
(Release ID: 2114816)
Visitor Counter : 21