زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مٹی میں نامیاتی کاربن کی کمی کو دور کرنے کے اقدامات
Posted On:
21 MAR 2025 4:57PM by PIB Delhi
اب تک کل 24.84 کروڑ سوائل ہیلتھ کارڈ (ایس ایچ سی) بنائے گئے ہیں۔ زمین میں پی ایچ، برقی ایصالیت، دستیاب نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم، سلفر، مائیکرو نیوٹرینٹ (زنک، کاپر، آئرن، مینگنیز اور بورون) بشمول نامیاتی کاربن کی حالت بتانے کے لیے کاشتکاروں کو ایس ایچ سی جاری کیے جاتے ہیں۔ انٹیگریٹڈ نیوٹرینٹ مینجمنٹ (آئی این ایم) پر کسانوں کو مشورے دیے جاتے ہیں۔ آئی این ایم زمین کے نامیاتی کاربن اور مٹی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے نامیاتی کھادوں اور بایو فرٹیلائزر کے ساتھ ثانوی اور مائیکرو نیوٹرینٹ سمیت کیمیائی کھادوں کے معقول استعمال کے لیے کسانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ مظاہرے، تربیت اور میلوں کے ذریعے کسانوں کو ایس ایچ سی کی سفارشات سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ مٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کھادوں کے متوازن استعمال پر تقریباً 7 لاکھ مظاہرے، 93,781 کسانوں کے تربیتی پروگرام اور 7,425 کسان میلوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ زرعی ٹیکنالوجی مینجمنٹ ایجنسی (اے ٹی ایم اے) اور کرشی وگیان کیندر (کے وی کے) کے ذریعے کسانوں کو مشورے جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، 70,002 کرشی سکھیوں کو دیگر مسائل کے علاوہ ایس ایچ سی کو سمجھنے میں کسانوں کی مدد کرنے کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔
حکومت نامیاتی کاشتکاری کو پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) کی اسکیم کے ذریعے فروغ دے رہی ہے جو نامیاتی کسانوں کو شروع سے آخر تک یعنی پیداوار سے لے کر پروسیسنگ، سرٹیفیکیشن اور کلسٹر پر مبنی نقطہ نظر میں مارکیٹنگ تک مدد فراہم کرتی ہے۔ اسکیم کا بنیادی فوکس ایک ایسے کلسٹر میں نامیاتی کلسٹر بنانا ہے جہاں چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ سپلائی چین بنانے میں ان کی مدد کی جا سکے۔ کسانوں کو ان علاقوں میں زراعت میں پائیداری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کھیتوں میں اور کھیت سے باہر نامیاتی انپٹ کے لیے نامیاتی کلسٹر میں مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔
************
ش ح۔ ف ش ع
U: 8693
(Release ID: 2113847)
Visitor Counter : 21