خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے پریشان حال خواتین کے لیے نفسیاتی اورسماجی تعاون کو بڑھانے کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کی خدمات حاصل کی


حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے ، خدمات تک رسائی بڑھانے اور مختلف اسکیموں اور قوانین کے تحت کارکنوں اور ڈیوٹی ہولڈرز کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ‘مشن شکتی پورٹل’ کا آغاز کیا

Posted On: 19 MAR 2025 3:57PM by PIB Delhi

گھریلو تشدد سے خواتین کے تحفظ سے متعلق  ایکٹ (پی ڈبلیو ڈی وی اے)  2005 دستور ہند کے آرٹیکل 14، 15 اور 21 کے تحت ضمانت دیے گئے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا گیا ہے تاکہ شہری قانون کے تحت تحفظ  فراہم کیا جا سکے جس کا مقصد خواتین کو گھریلو تشدد کا شکار ہونے سے بچانا اور معاشرے میں گھریلو تشدد جیسے  واقعات رونما ہونے کو روکنا ہے۔

ہندوستان میں گھریلو تشددکی، گھریلو تشدد سے خواتین کے تحفظ سے متعلق  ایکٹ (پی ڈبلیو ڈی وی اے)  2005کے تحت نگرانی کی جاتی ہے اور اس کی تعریف سیکشن 3 کے تحت کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کا کوئی بھی عمل ،حرکت یا برتاؤ کسی عورت کی صحت یا حفاظت کو نقصان پہنچاتا یا زخمی کرتا ہے یا خطرے میں ڈالتا ہے، خواہ وہ ذہنی ہو یا جسمانی، یہ گھریلو تشدد کے مترادف ہے۔ اس میں مزید یہ بھی شامل ہے کہ کسی بھی غیر قانونی مطالبہ کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی عورت یا اس سے متعلق کسی فرد کو پہنچنے والا نقصان، ہراساں کرنا یا چوٹ پہنچانا بھی گھریلو تشدد کے مترادف ہوگا۔

مذکورہ ایکٹ ان خواتین کا احاطہ کرتا ہے جو کسی بھی فرد کے ساتھ تعلقات میں ہیں یا رہی ہیں، جہاں دونوں فریق مشترکہ گھرانے میں ایک ساتھ  رہ رہے ہیں اور ان کا آپسی تعلق ہم آہنگی یا شادی یا گود لینے کی نوعیت کے رشتے کے ذریعے ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی) اپنی اشاعت میں ‘‘انڈیا میں جرائم’’ کے عنوان سےتفصیلات شائع کیا ہے جو کہ این سی آر بی کی آفیشل ویب سائٹ (https://ncrb.gov.in). پر دستیاب ہے،یہ تنظیم خواتین کے خلاف جرائم سمیت جرائم سے متعلق ڈیٹا مرتب اور شائع کرتا ہے۔ یہ رپورٹ سال 2022 تک دستیاب ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق، پی ڈبلیو ڈی وی اے کے تحت درج مقدمات کی تعداد 2021 میں 507 اور 2022 میں 468 تھی۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس۔ 5) کی تازہ ترین رپورٹ  نے 2019-2021کی مدت کے لیے اعداد و شمار فراہم کی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ18-49 سال کی عمر کی شادی شدہ خواتین کا فیصد جنہوں نے کبھی ازدواجی تشدد (جسمانی یا جنسی تشدد) کاسامنا کیا ہے، 29.3فیصد تک کم ہو گیا ہے جب کہ این ایف ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق2015-2016 میں 31.2فیصد تھی۔

‘‘پولیس’’ اور‘‘پبلک آرڈر’’ ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت  سرکاری ذمہ داری  ہے۔ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی تحقیقات اور مقدمہ چلانے سمیت امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری بنیادی طور پر متعلقہ ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اور وہ اس سے نمٹنے کی اہل ہیں۔ گھریلو تشدد سے خواتین کے تحفظ کے قانون (پی ڈبلیو ڈی وی اے) 2005  کی دفعہ 8 ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہر ضلع میں اتنی ہی تعداد میں پروٹیکشن آفیسرز کی تقرری کرنے کا حکم دیتی ہے اور اسے  ضروری  طور پرکیا جانا چاہیے اور اس علاقے کو بھی مطلع کرے جس کے اندر ایک پروٹیکشن آفیسر اختیارات کا استعمال کرے گا اور دیئے گئے فرائض کو انجام دے گا۔ پروٹیکشن آفیسر کا فرض ہے کہ وہ گھریلو تشدد کے مقدمات کی شکایت موصول ہونے پر مجسٹریٹ کو رپورٹ کرے اور مجسٹریٹ کو اس کے کاموں کی انجام دہی میں مدد فراہم کرے۔ تاہم، مجاز عدالت کی جانب سے ملزم کو سزا سنائی جاتی ہے، حقائق پر مبنی موقف، شواہد اور قانون کی دفعات کے مطابق تمام متعلقہ قانونی پہلوؤں پر غور و خوض کرنے کے بعد۔ پی ڈبلیو ڈی وی اے خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے جیسے کہ تحفظ کا حکم، رہائش کا حکم وغیرہ۔

اس کے باوجود، مرکزی حکومت خواتین کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنانے کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قانون سازی اور منصوبہ بندی کی  گئی ہیں۔ جس  میں ‘‘بھارتیہ نیا سنہتا’’، ‘‘بھارتیہ ناگرک  سرکشا سنہتا’’،‘‘گھریلو تشدد سے خواتین کا تحفظ ایکٹ، 2005’’، ‘‘جہیز کی روک تھام سے متعلق ایکٹ، 1961’’ وغیرہ جیسے قانون سازی شامل ہیں۔ ان قانونی دفعات کے علاوہ حکومت کی طرف سے نافذ کردہ متعدد اسکیمیں اور منصوبے ہیں جن میں ون اسٹاپ سینٹرز (او ایس سز) شامل ہیں۔ یونیورسلائزیشن آف ویمن ہیلپ لائنز (ڈبلیو ایچ ایل)، ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس) جو کہ ہنگامی حالات کے لیے ایک پین انڈیا سنگل نمبر (112) موبائل ایپ پر مبنی نظام ہے۔ بیداری  پھیلانے کے پروگراموں کے ذریعے کمیونٹی میں صلاحیت کی تعمیر، پولیس اسٹیشنوں میں خواتین ہیلپ ڈیسک (ڈبلیو ایچ ڈیز) کا قیام اور اسے مضبوط بنانا وغیرہ شامل ہیں۔

مشن شکتی امبریلا اسکیم کا ایک جز   ون اسٹاپ سینٹر (او ایس سی)ہے، جسے مرکزی حکومت کی طرف سے مکمل طور پر مالی امداد فراہم کی جاتی ہے اوریکم اپریل 2015 سے پورے ملک میں نافذ کیا گیاہے۔ یہ  پرائیویٹ اور پبلک دونوں جگہوں پر پریشانی میں مبتلا اورمتاثرہ خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے مربوط مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ خدمات کی ایک مربوط رینج بھی فراہم کرتا ہے جس میں طبی امداد، قانونی امداد اور مشورہ، عارضی پناہ گاہ، پولیس کی مدد اور ضرورت مند خواتین کو نفسیاتی ،سماجی مشاورت شامل ہیں۔ ملک بھر میں 802اوایس سی کام کر رہے ہیں اور 31 جنوری 2025 تک 10.80 لاکھ سے زیادہ خواتین کی مدد کی گئی ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پولیس اسٹیشنز زیادہ خواتین دوست اور قابل رسائی ہوں، کیونکہ یہ کسی بھی خاتون کے لیے پولیس اسٹیشن میں آنے جانے کا پہلا اور واحد مقام ہوں گے، 14,658 ویمن ہیلپ ڈیسک (ڈبلیو ایچ ڈیز) قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 13,743 خواتین پولیس افسران کی سربراہی میں ہیں۔ ضرورت مند خواتین اور مصیبت زدہ خواتین کو مدد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مختلف ہنگامی حالات کے لیے ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم (ای آر ایس ایس۔ 112) قائم کیا گیا ہے، جس میں فیلڈ اور پولیس وسائل کی کمپیوٹر کی مدد سے ترسیل کی جاتی ہے۔ اس کے آغاز کے بعد سے اب تک 43 کروڑ سے زیادہ کالز کو ہینڈل کیا جا چکا ہے۔ ای آر ایس ایس کے علاوہ، ایک مکمل طور پر فعال خواتین کی ہیلپ لائن (ڈبلیو ایچ ایل۔ 181) مغربی بنگال کے علاوہ 35 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کام کر رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ ایل کو بھی ای آر ایس ایس کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اب تک ویمن ہیلپ لائنز نے 2.10 کروڑ سے زیادہ کالیں کی ہیں اور 84.43 لاکھ سے زیادہ خواتین کی مدد کی ہے۔

سنٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی۔ڈی اے سی) کی طرف سے خواتین کی ہیلپ لائن کو نافذ کرنے والی تمام ریاستوں اور مرکز کےزیر انتظام ریاستوں میں کالوں کی نگرانی کے لیے ایک قومی ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے۔ یہ ڈیش بورڈ اہلکاروں کوموصول ہونے والی کالوں اور خواتین کی مدد کی حقیقی وقت کی نگرانی کے قابل بناتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے، مرکزی حکومت پورے ہندوستان میں خواتین کو درپیش تشدد کے بارے میں مرکزی ڈیٹا کو برقرار رکھنے کے قابل ہے، جس میں گھریلو تشدد کی مثالوں سمیت مقدمات کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بندی کی گئی ہے۔

تشدد سے متاثرہ خواتین اور پریشان حال  خواتین کو نفسیاتی مشاورت کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (این آئی ایم ایچ اے این ایس) کی خدمات کے تحت ‘‘استری  منورکشا’’ پروجیکٹ کے تحت ون اسٹاپ سینٹر (او ایس سی )کے اسٹاپ کو تربیت اور بنیادی معلومات فراہم کی جائے گی تاکہ اس طرح کے واقعات سےمتاثرہ خواتین کو مدد فراہم کیا جاسکے اور پریشان حال خواتین کو سماجی اورنفسیاتی طور پر دیکھ بھال فراہم کرنے کے  عمل کو منظم کیا جاسکے۔وزارت وقتاً فوقتاً خواتین اور بچوں کی حفاظت اور تحفظ کے لیے بیداری پیدا کرنےکی مشق بھی کرتی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت خواتین کے قومی کمیشن (این سی ڈبلیو) جیسے اداروں کے ذریعے سیمینار، ورکشاپس، سمعی و بصری پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا وغیرہ کے ذریعے بیداری پھیلا رہی ہے۔ساتھ ہی  لوگوں کو خواتین اور بچوں کی حفاظت اور قانون کی مختلف شقوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے بھی بیداری پھیلارہی ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت اور وزارت داخلہ نے وقتاً فوقتاً ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خواتین اور بچوں کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق مختلف امور پر ایڈوائزری  بھی جاری کیے ہیں۔

نربھیا فنڈ کے تحت، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (بی پی آر اینڈ ڈی) نے بھی کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں تفتیشی افسران، پراسیکیوشن افسران اور طبی افسران کے لیے تربیت اور ہنر مندی کے پروگرام شامل ہیں۔ بی پی آر اینڈ ڈی نے ‘‘پولیس اسٹیشنوں میں خواتین ہیلپ ڈیسک’’ کے لیے معیاری آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) بھی تیار کیے ہیں تاکہ چار اہم اجزاء مثلاً بنیادی ڈھانچے، تربیت، انسانی وسائل کی ترقی اور رسپانس میکنزم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان کے کام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اورایک کتاب جس کا نام ہے‘‘وومینس سیفٹی اینڈ سیکورٹی۔ اے ہینڈ بک فار فرسٹ رسپونڈرس اینڈ انویسٹی گیٹرس ان دی پولیس’’  تیار کی گئی ہے۔جس میں جنسی زیادتی کے جرم کے مخصوص حوالے سے خواتین کے خلاف جرائم کی تحقیقات جس میں تفتیش، متاثرہ معاوضہ اور بحالی شامل ہے۔ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان کا پتہ لگانے اور جرائم کے متاثرین کے ساتھ مناسب تعامل کے لیے پولیس فورس میں مناسب رویے اور رویہ کی مہارتیں پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ حساسیت کے ساتھ خواتین کی حفاظت، پولیس اہلکاروں کی صنفی حساسیت وغیرہ سے متعلق ویبینار۔ بی پی آر اینڈ ڈی کی طرف سے بھی منعقد کیا گیا ہے.

وزارت نے 22 جنوری 2025 کو تمام فعال خصوصیات کے ساتھ 'مشن شکتی پورٹل' شروع کیا ہے۔ اس پورٹل کا مقصد خواتین کے لیے مختلف سرکاری خدمات تک رسائی کو بڑھانا، بچاؤ، تحفظ اور بحالی کے لیے معیاری میکانزم قائم کرنا اور مختلف اسکیموں اور قانون سازی کے تحت کام کرنے والے افراداور ڈیوٹی ہولڈرز کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ نے ساوتری ٹھاکر نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔

****

( ش ح۔م م ع۔م ر)

U.No.8569


(Release ID: 2113204) Visitor Counter : 40