وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

کیرالہ میں اندرون ملک ماہی پروری کو فروغ

Posted On: 19 MAR 2025 2:07PM by PIB Delhi

ماہی پروری کا محکمہ، حکومت ہند (ڈی او ایف، جی او آئی) اپنی اسکیموں، پالیسیوں اور پروگراموں کے ذریعے کیرالہ سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سمندری اور اندرون ملک ماہی پروری کے شعبے کی مجموعی ترقی کے لیے کئی اقدامات کر رہا ہے ۔ مچھلی کی پیداوار کو فروغ دینا اور ماہی پروری کے ویلیو چین سسٹم کو مضبوط کرنا ان اقدامات کا بنیادی مرکز رہا ہے۔

ڈی او ایف، حکومت کیرالہ سمیت ہندوستان کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مالی سال 21 – 2020  سے مالی سال 25 – 2024 تک 5 (پانچ) سال کی مدت کے لیے اہم اسکیم 'پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا' (پی ایم ایم ایس وائی) نافذ کر رہی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کا مقصد ماہی پروری کی صلاحیت بشمول اندرون ملک ماہی پروری کو پائیدار طریقے سے بروئے کار لانا، توسیع، شدت، تنوع اور زمین اور پانی کے پیداواری استعمال کے ذریعے مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانا، ویلیو چین کو مضبوط کرنا، ماہی پروروں اور مچھلی کاشتکاروں کی آمدنی کو دوگنا کرنا اور روزگار پیدا کرنا اور ماہی پروروں اور مچھلی کاشتکاروں کے لیے سماجی اور اقتصادی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

پی ایم ایم ایس وائی کے تحت پچھلے چار سالوں (21- 2020 سے 24 -2023) اور موجودہ مالی سال (25 - 2024) کے دوران، ڈی او ایف، حکومت ہند نے حکومت کیرالہ کی ماہی پروری کی ترقیاتی تجاویز کو 1358.10 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ منظور شدہ سرگرمیوں میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک ماہی پروری کی ترقیاتی سرگرمیاں جیسے میٹھے پانی کی فن فش ہیچریوں کی تعمیر میں مدد (05 نمبر) مچھلی کی کاشت کے لیے نئے پالنے اور اگانے والے تالاب (89 ہیکٹر) شامل ہیں) فش فیڈ ملز (05 نمبر) آرائشی مچھلی کی پرورش اور افزائش یونٹس (798 نمبر) آبی ذخائر میں کیج کلچر (750 نمبر) ہائی ٹیک کلچر سسٹم جیسے ری سرکولیٹری ایکواکلچر سسٹم (646 نمبر) بائیو فلوک کلچر یونٹس (850 نمبر) پین کلچر یونٹس (31 ہیکٹر ۔ روایتی ماہی گیروں کے لیے آبی ذخائر (07 نمبر) کشتیوں اور جالوں کی مربوط ترقی (200 نمبر) 'متسیہ سیوا کیندروں' (10 نمبر) کے تحت توسیع اور معاون خدمات منظور شدہ سرگرمیوں میں کولڈ چین اور مارکیٹنگ کی سرگرمیاں جیسے آئس پلانٹس/کولڈ اسٹوریج (16 نمبر) مچھلی کی نقل و حمل کی گاڑیاں (468 نمبر) لائیو فش وینڈنگ سینٹر (77 نمبر) ویلیو ایڈڈ انٹرپرائزز (10 نمبر) فش ریٹیل مارکیٹس (05 نمبر) ہول سیل فش مارکیٹس (02 نمبر) اور بروقت بیماری کی تشخیص کے لیے ریفرل لیب اور بیماری کی تشخیصی لیبز (02 نمبر) بھی شامل ہیں۔ کیرالہ میں اندرون ملک ماہی پروری کے مختلف شعبوں میں نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کے ذریعے آگاہی مہم اور صلاحیت سازی کے پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت ہند نے ماہی پروری اور مچھلی کے کاشتکاروں کو مالی سال 19 -2018  سے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کی سہولیات بھی فراہم کی ہیں تاکہ کیرالہ سمیت تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ان کی مالی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

مزید برآں ، حکومت کیرالہ نے مطلع کیا ہے کہ ریاستی منصوبہ اسکیم، جنکیا متسیہ کرشی کے تحت انواع اور آبی زراعت کے طریقوں کا تنوع، آبی ذخائر میں صلاحیت کے موثر استعمال کے لیے کیرالہ ریزروائر فشریز ڈیولپمنٹ پروگرام ، کھیتی باڑی ، مچھلی/کلیم محفوظ علاقوں کا قیام جیسی مختلف اسکیمیں شامل ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیرالہ کے مختلف اضلاع میں متسیہ فیڈ کے ذریعے ہائی ٹیک فش مارٹس قائم کیے گئے ہیں جن میں تازہ مچھلیاں براہ راست ماہی گیروں/کسانوں سے حاصل کی جاتی ہیں اور صارفین کو فراہم کی جاتی ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی اور سہولت فراہم کرنے کی وجہ سے کچھ اضلاع میں متسیہفیڈ کے ذریعے پکانے میں آسان/کھانے کے لیے تیار قسم کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات جیسے فش کری ، فش کٹلیٹ ، فش ارکل فروخت کیے جاتے ہیں۔

حکومت کیرالہ نے بتایا ہے کہ مرکز اور ریاست کے ان اقدامات سے اندرون ملک  میں مچھلی کی پیداوار 20 – 2019  میں 2.05 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 24 – 2023 میں 2.51 لاکھ ٹن ہو گئی ہے۔

یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر مملکت جناب جارج کورین نے 19 مارچ 2025 کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔

***

ش ح ۔   م ع۔   م ت                                           

U - 8523


(Release ID: 2112941) Visitor Counter : 17


Read this release in: English , Hindi , Malayalam