زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پرالی جلانے سے متعلق اطلاعات

Posted On: 18 MAR 2025 6:02PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ  زراعت اور کسانوں کی بہبود کا محکمہ (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو) بنیادی طور پر پنجاب ، ہریانہ ، اتر پردیش اور  قومی راجدھانی خطہ دہلی کی ریاستوں کی 2019-18 سے نافذ کردہ فصلوں کی باقیات کے انتظام کی اسکیم کے تحت دھان کی فصل کے باقیات  کو جلانے سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے ، جس میں دھان کے بھوسے کو اس کی اصل جگہ اورکھیتوں سے باہر انتظام وانصرام ، دونوں پر توجہ دی جا رہی ہے ۔

اس اسکیم کے تحت، کسانوں کو فصل کی باقیات کے انتظام کی مشینری کی خریداری کے لیے مشین کی لاگت کا50فیصد اور 30 لاکھ روپے تک کے منصوبوں کے لیے 80 فیصد کی مالی امداد  دیہی تاجروں (دیہی نوجوان اور کسان بطور کاروباری)، کسانوں کی کوآپریٹو سوسائیٹیوں، رجسٹرڈ کسانوں کی سوسائٹیوں،  کاشت کاروں کی تنظیموں (ایف پی اوز) اور پنچایتوں کو فصلوں کی باقیات کے انتظام کی مشینوں کے کسٹم ہائرنگ سینٹرز ( سی ایچ سیز) کے قیام کے لیےفراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ اسکیم مشینوں اور آلات جیسے سپر اسٹرا مینجمنٹ سسٹم، ہیپی سیڈر، سپر سیڈر، اسمارٹ سیڈر، سرفیس سیڈر، زیرو ٹل سیڈ کم فرٹیلائزر ڈرل وغیرہ کے استعمال کو فروغ دیتی ہے تاکہ فصل کی باقیات اور بیلرز اور اسٹرا ریک کو  کھیتوں سے باہر فصل کی باقیات کے انتظام کے لیے اور  پرالی کو جمع کرنے کے واسطے بیلرز اور اسٹرا ریک استعمال میں لایا جاسکے۔

ان ریاستوں میں پیدا ہونے والے دھان کی پرالی کو کھیتوں سے باہر  موثر ​​انتظام کو قابل بنانے کے مقصد سے،  پرالی کی سپلائی چین کے لیے 1.50 کروڑ روپے تک کی مشنری کی سرمایہ  کاری کی لاگت  پر 65 فیصد کی مالیاتی امداد پروجیکٹ قائم کرنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس مداخلت کا مقصد حیاتیاتی فضلہ سے بجلی کی پیداوار حیاتیاتی ایندھن  کے شعبوں میں صارف کی مختلف صنعتوں کے لیے  پرالی کی ایک مضبوط سپلائی چین قائم کرنا ہے۔

اس اسکیم کے تحت،19-2018 سے 25-2024 کی  مدت کے دوران (28 فروری 2025 تک) ان ریاستوں اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)  کو 3698.45 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ریاستوں نے فصلوں کی باقیات کے انتظام کی مشینوں کے 41,900 سے زیادہ  سی ایچ سی قائم کیے ہیں اور 3.23 لاکھ سے زیادہ فصلوں کی باقیات کے انتظام کی مشینیں ان سی ایچ سیز اور ان ریاستوں کے انفرادی کسانوں کو فراہم کی گئی ہیں۔

کنسورشیم فار ریسرچ آن ایگرو ایکوسسٹم مانیٹرنگ اینڈ ماڈلنگ فرام اسپیس (سی آر ای اے ایم ایس) لیبارٹری، ڈویژن آف ایگریکلچرل فزکس، آئی سی اے آر – انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، 15 ستمبر سے 30 نومبر کے درمیان دھان  کی پرالی کو جلانے کے واقعات گزشتہ سال کے دوران پنجاب،   ہریانہ اور اترپردیش میں 42962 واقعات پیش آئے،جوکہ 2024 میں   اسی مدت کے  دوران کم ہوکر   18457 واقعات رہ گئے، یہ گزشتہ برس کے مقابلے دھان کی پرالی کو جلانے میں 57 فیصد کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

***

)ش ح –    م ش      -  م ذ(

U.N. 8494


(Release ID: 2112672) Visitor Counter : 20


Read this release in: English , Hindi , Bengali