محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ای پی ایف او میں اداروں کے رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2024 6:55PM by PIB Delhi

ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے مالی سال 20-2019 سے 24-2023 تک نئے اداروں کی رجسٹریشن میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا ہے۔ یہ قابل ذکر ترقی حکومت کی طرف سے حال ہی میں شروع کی گئی مختلف پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے ہے۔ یہ حکومت کی طرف سے کاروبار کو باقاعدہ بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اٹھائے گئے موثر اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔ ای پی ایف او   کے ساتھ رجسٹرڈ نئے اداروں کی کل تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو20-2019 میں 1,17,063 سے بڑھ کر 24-2023 میں 2,94,256 ہو گیا۔ ترقی کا یہ رجحان زیادہ مضبوط اور جامع اقتصادی ماحول کو فروغ دینے میں حکومتی کوششوں کی کامیابی کو اجاگر کرتا ہے۔

2019-20

1,17,063

2020-21

2,46,104

2021-22

2,69,295

2022-23

2,57,470

2023-24

2,94,256

ای پی ایف او  کے کام کاج کو ہموار کرنے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے، حکومت نے ڈیجیٹل کاری اور شکایات کا موثر ازالہ کرنے کے مقصد سے کئی اقدامات نافذ کیے ہیں۔ ڈیجیٹل کاری  کی کوششوں میں متعدد صارف دوست پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی شامل ہیں، جو آسان رسائی اور شکایات کے موثر ازالے کو ممکن بناتے ہیں۔

ان ڈیجیٹل اقدامات اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:

  1. ای پی ایف او نے آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے ازالے کے مختلف طریقہ کار وضع کیے ہیں، جس میں کارکنان/ملازمین ای پی ایف او   ​​میں متعلقہ اتھارٹی کے پاس اپنے مسائل/شکایات درج کر اسکتے ہیں۔
  2. ملازمین اپنی شکایات آن لائن موڈ میں سی پی جی آر اے ایم ایس، ای پی ایف آئی جی ایم ایس،  امنگ ایپ جیسے پورٹل کے ذریعہ درج کرا سکتے ہیں۔
  3. شکایات آف لائن موڈ کے ذریعہ ڈاک کی شکل میں اور متعلقہ دفتر جا کر بھی بھیجی جا سکتی ہیں۔ شکایات کو صحیح طریقے سے تسلیم کیا جاتا ہے اور دفعات/قوانین  کے مطابق حل فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے تمام علاقائی دفاتر میں تعلقات عامہ کا افسر تعینات کر دیا گیا ہے۔
  4. محکمے نے "ندھی آپ کے پاس" اسکیم کے آغاز کے ذریعہ ملک کے پسماندہ علاقوں میں نچلی سطح تک رسائی کی طرف ایک قدم اٹھایا ہے جس میں کارکنوں کے مسائل کو موقع پر ہی حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
  5. تنظیم کے پاس کال سینٹر ہیں جو ہندی، انگریزی اور دس مقامی زبانوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔
  6. درج ذیل اصلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں:
  • ای پی ایف  پیشگی دعووں کا خودکار تصفیہ
  • ای-انرولمنٹ کی  خصوصی مہم
  • ای ڈی ایل آئی/پنشن کیلکولیٹر
  • کسی بھی مہینے میں ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ فائل کرنا
  • ڈیجی لاکر کی سہولت
  • ندھی آپ کے قریب 2.0 آگاہی مہم
  • ڈی ایل سی کے لیے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی
  • نومبر 2020 سے مستثنیٰ سے غیر مستثنی اسٹیبلشمنٹ کو اور اس کے برعکس پی ایف جمع کرنے کی آن لائن بلک منتقلی کی سہولت
  • 2012 کے بعد یو اے این الاٹ کیے گئے ملازمین کے اکاؤنٹ کی خودکار منتقلی۔
  • یکم اکتوبر  2016 کے بعد جوائن ہونے والے ملازمین کے لیے ملازمت کی تبدیلی پر خودکار منتقلی کی سہولت
  • کثیر مقام کے دعوے کا تصفیہ
  • پیشگی دعوے کے ساتھ دستاویزات جمع کرانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
  • یو اے این سہولت کی خود تخلیق
  • ایمپلائر انٹیگریٹڈ پورٹل  میں ڈی ایس سی/ای-سائن پی ڈی ایف  کو اپ لوڈ کرنا
  • ای پاس بک
  • کے وائی سی کے  اصلاح کے لیے مشترکہ اعلامیہ کی آن لائن سہولت
  • ممبران کی تفصیلات میں تضاد سے بچنے کے لیے یکم ستمبر 2017 کے بعد جوائن کیے گئے ملازمین کے لیے آدھار سیڈنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  • پریاس پہل کے تحت پی پی او  ریٹائرمنٹ کے دن ہی حوالے کر دیا جاتا ہے۔

یہ جانکاری محنت و روزگار کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ رض  ۔ خ م(

7076


(रिलीज़ आईडी: 2103460) आगंतुक पटल : 32
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Hindi_MP , Punjabi , Tamil