قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی، بھارت انسانی حقوق کا دن منا رہا ہے
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کا کہنا ہے کہ اس دن کو منانا، ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں اپنا تعاون دینے کے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کرنا ہے جہاں انصاف اور انسانی وقار معاشرے کی بنیاد ہیں
حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے، بیداری پیدا کرنے اور پسماندہ افراد کے حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی سفارش کرنے میں این ایچ آر سی اور ایس ایچ آر سیز کی ستائش کی
صدر جمہوریہ نے سائبر جرائم اور ماحولیاتی تبدیلی کو انسانی حقوق کو در پیش نئے خطرات قرار دیا
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے طول و عرض پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو بہت سے مسائل کو حل کرتا ہے اور کئی نئے بھی پیدا کرتا ہے
معمر افراد کے وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے پالیسیاں بنانے اور اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا
تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو متاثر کرنے والے تناؤ کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کریں
انہوں نے صنعت اور کاروباری رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بڑھتی ہوئی میکرو اکانومی بڑے پیمانے پر کارکنوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر نہ ڈالے
این ایچ آر سی، انڈیا کی قائم مقام صدر نشیں کا کہنا ہے کہ تیز رفتار تبدیلی اور پیچیدہ سماجی حرکیات کے اس دور میں کمیشن پسماندہ کمیونٹیز کے حقوق کی حمایت کے تئیں پرعزم ہے
Posted On:
10 DEC 2024 4:40PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، ہندوستان نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں اقوام متحدہ کے ذریعہ 1948 میں اس دن انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (یو ڈی ایچ آر) کی یاد میں انسانی حقوق کا دن منانے کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ انسانی حقوق کے دن کا جشن یو ڈی ایچ آر میں موجود نظریات پر غور کرنے اور ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں اپنا تعاون دینےکے ہمارے اجتماعی عزم کی توثیق کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جہاں انصاف اور انسانی وقارمعاشرے کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت آج ایک روشن مثال کے طور پر کھڑا ہے جہاں غربت کے خاتمے، غریبوں کو مفت کھانا فراہم کرکے بھوک مٹانے اور نوجوانوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اہم اقدامات کیے جارہے ہیں۔ حکومت سب کے لیے مکان، پینے کے صاف پانی، بہتر صفائی ستھرائی، بجلی، کھانا پکانے کی گیس اور مالیاتی خدمات سے لے کر صحت اور تعلیم تک متعدد سماجی، اقتصادی اور ثقافتی حقوق کی ضمانت بھی دیتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بنیادی ضروریات کی فراہمی کو ایک حق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے این ایچ آر سی اور ایس ایچ آر سیز کے ساتھ سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے محافظوں، خصوصی نمائندوں اور خصوصی نگرانوں کے ذریعہ خلاف ورزیوں سے نمٹنے، بیداری پیدا کرنے، اور پسماندہ لوگوں کے حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی سفارش کرنے کی ستائش کی۔
مستقبل میں ابھرتے ہوئے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ سائبر جرائم اور موسمیاتی تبدیلی انسانی حقوق کے لیے نئے خطرات ہیں۔ ڈیجیٹل دور، تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ، سائبر دھمکیوں ، ڈیپ فیکس، رازداری کے خدشات، اور گمراہ کن معلومات کی تشہیر جیسے پیچیدہ مسائل بھی اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔ یہ چیلنجز ایک، محفوظ اور مساوی ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دینے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہیں جو ہر فرد کے حقوق اور وقار کا تحفظ کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) اب ہماری روزمرہ کی زندگی میں داخل ہو چکی ہے، جہاں یہ ایک طرف بہت سے مسائل کو حل کرتی ہے اوروہیں کئی نئے پیدا بھی کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں تبادلہ خیال اب تک انسانی ایجنسی پر مرکوز رہی ہے، یعنی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک انسان سمجھا جاتا ہے جس میں ہمدردی اور جرم جیسے مختلف انسانی جذبات ہوتے ہیں۔ تاہم، مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے ساتھ، مجرم ایک غیر انسانی لیکن ذہین ایجنٹ ہو سکتا ہے۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آب و ہوا کی تبدیلی سے درپیش چیلنجوں کے تناظر میں محترمہ مرمو نے کہا کہ یہ مسئلہ بھی ہمیں عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سوچ کا جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک مختلف جگہ اور ایک مختلف دور کے آلودگی کے عوامل دوسرے مقام اور دوسرے دور میں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ بھارت نے، عالم جنوب کی آواز کے طور پر، آب و ہوسے متعلق کارروائی میں بجا طور پر قیادت سنبھالی ہے۔ حکومت کے اقدامات، جیسے کہ 2022 کا توانائی کا تحفظ (ترمیمی) بل، گرین کریڈٹ پہل قدمی ، اور ماحولیات کے لئے طرز زندگی ( لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ)، یا لائیف موومنٹ، آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف اور سرسبز سیارے کی تعمیر کے لیے بھارت کے عزم کا واضح مظہر ہیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت میں 2022 تک تقریباً 150 ملین کی عمر رسیدہ آبادی ہے اور 2050 تک اس کے 350 ملین تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ایسی پالیسیاں بنائیں اور ایسے اقدامات کریں جو ان کے وقار کو برقرار رکھیں اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں، تاکہ وہ ہمارے معاشرے کے قیمتی ارکان کے طور پر ایک بااختیار اور پروقار طور پر اپنی زندگی مکمل کریں۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ حالیہ برسوں میں خاص طور پر ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے دماغی صحت بھی ایک نازک مسئلہ بن گیا ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ این ایچ آر سی نے اس مسئلے کی سنگین نوعیت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو متاثر کرنے والے تناؤ کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔ اس نے صنعت اور کاروباری رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بڑھتی ہوئی میکرو اکانومی ورکروں کی ذہنی صحت پر منفی اثر نہ ڈالے۔ نئے اقتصادی ماڈلز کو اپناتے ہوئے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام افراد کی بہبود، خاص طور پر کمزور طبقے، ہماری ترجیح ہو ں۔ ہم سب کو ذہنی بیماری سے جڑے کسی بھی داغ کو دور کرنے، بیداری پیدا کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

قبل ازیں، این ایچ آر سی ، انڈیا کی قائم مقام چیئرپرسن، محترمہ وجیا بھارتی سیانی نے کہا کہ انسانی حقوق کا دن ہر فرد خواہ اس کی شناخت یا پس منظر کچھ بھی ہو اس کی بنیادی حقوق کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے، ۔ عالمی سطح پر، ہم تنازعات میں اضافے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہو رہے ہیں اور شدید انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے جو کمزور اور کم آمدنی والی کمیونٹیز کو متاثر کرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ تیز رفتار تبدیلی اور پیچیدہ سماجی حرکیات کے اس دور میں،این ایچ آر سی، بھارت کا رول پہلے کبھی اتنا اہم کبھی نہیں رہا۔ ہم اہم قومی اور بین الاقوامی اقدامات کے ذریعے پسماندہ کمیونٹیز کے حقوق کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جہاں ہر کوئی خوف اور تفریق سے پاک اپنی بنیادی آزادی کا استعمال کرسکے۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، جناب انتونیو گوٹیرس نے اپنا پیغام پڑھ کر سنایا۔ ہندوستان میں اقوام متحدہ کے رہائشی کوآرڈینیٹر شومبی شارپ نے کہا کہ اس سال کا موضوع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس وقت انسانی حقوق کا مقصد مستقبل کی تعمیرہے۔ تمام انسانی حقوق ناقابل تقسیم ہے۔ چاہے معاشی ہو، سماجی، شہری، ثقافتی یا سیاسی، جب ایک حق مجروح ہوتا ہے تو تمام حقوق مجروح ہوتے ہیں۔ ہمیں تمام حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ بھارت میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے بھی ہندوستان کو انسانی حقوق کے قائد کے طور پر اور عالم جنوب تک اس کی رسائی میں تعاون کی تعریف کی۔
این ایچ آر سی، انڈیا کے سکریٹری جنرل، جناب بھرت لال نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ہندوستانی آئین انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی اقدار کا احاطہ کرتا ہے، اور ہماری حکمرانی انتیودیا کے اصول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ این ایچ آر سی، بھارت کے ہر شہری کی جانب سے اور اس کے لیے ضمیر کے رکھوالے کا کردار ادا کرتا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہے اور معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقے بھی دوسروں کی طرح مراعات سے استفادہ کرسکیں۔

انہوں نے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے کمیشن کے حالیہ اقدامات اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ ان میں چھوٹے اور زیادہ کمزور گروپوں کی حالت زار پر توجہ دلانے والے مشورے، انسانی حقوق کے محافظوں، کاروبار اور انسانی حقوق، صحت اور دماغی صحت جیسے موضوعات پر کور گروپ کی میٹنگیں، شیلٹر ہومز، جیلوں، اسکولوں کے لیے خصوصی نمائندوں اور نگراں اداروں کے دورے شامل ہیں اس کے علاوہ دیگر ادارے، کانفرنسیں، غیر رسمی مباحثے، اور کمزورگروپوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کے ساتھ ملاقاتیں، خواتین کے تحفظ سے متعلق قومی سمپوزیم کا انعقاد اور حقوق پر ایک قومی کانفرنس، بوڑھے افراد، عالم جنوب کے این ایچ آر آئیز اور اروناچل پردیش کے ایس ایچ آر سی کے لیے صلاحیت سازی کا پروگرام شامل ہیں ۔

اس موقع پر این ایچ آر سی کی تین اشاعتیں بھی جاری کی گئیں۔ ان میں ہندی اور انگریزی جرائد شامل تھے جن میں ماہرین کے تحریر کردہ انسانی حقوق کے مسائل پر علمی مضامین شامل تھے، اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے این ایچ آر سی کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزریز کے عنوان سے ایک کتاب شامل تھی۔
اس تقریب میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے ارکان، عدلیہ کے ارکان، سفارت کاروں، این ایچ آر سی کے سینئر افسران، خصوصی نمائندوں اور نگرانوں ، اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، انسانی حقوق کے محافظوں کے علاوہ دیگر قومی اور بین الاقوامی معززین نے شرکت کی۔
انسانی حقوق کے دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا کمیشن دماغی صحت پر ایک قومی کانفرنس کا بھی اہتمام کر رہا ہے: کلاس روم سے کام کی جگہ تک تناؤ کا مشاہدہ کرنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ ش ب ۔رض
U-3788
(Release ID: 2083129)
Visitor Counter : 76