iffi banner
وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

دو غیر معمولی فلمیں یعنی راؤ صاحب اور سری کانت نے 55ویں اِفی بھارتی پنورما شعبے کی رونق بڑھائی


راؤ صاحب – ایک ازحد پرکشش ماحولیاتی دلچسپی فراہم کرنے والی فلم ہے، اس میں ایک نئے تناظر میں انسان اور جانوروں کے تصادم کو اجاگر کیا گیا ہے

سری کانت کی کہانی نہ صرف معذور افراد کے لیے ترغیب کا ایک وسیلہ ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے بھی پرکشش ہے جو اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے: تشار ہیرا نندانی، ڈائرکٹر

بھارت کا 55واں فلمی میلہ (اِفی) دو بااثر فلموں کی وجہ سے اور زیادہ پرکشش ہوگیا۔ یہ فلمیں ہیں راؤ صاحب (مراٹھی) اور سری کانت (ہندی) جو مختلف بھارتی پنورما شعبے کے تحت ملاحظے کے لیے پیش کی گئیں۔ دونوں فلموں نے اپنے دلچسپ بیانیوں اور منفرد تناظر کی وجہ سے ناظرین کو ابتدا سے آخر تک باندھے رکھا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/27-13-1WWI4.jpg

راؤ صاحب جس کی ہدایت کاری کے فرائض قومی ایوارڈ یافتہ فلم ساز نکھل مہاجن نے انجام دیے ہیں، اس فلم میں انسان اور جانوروں کے تصادم کے اہم موضوعات کو تلاش کیا گیا ہے۔ افی میں پریس سے خطاب کرتے ہوئے مہاجن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ راؤ صاحب محض ایک فلم نہیں ہے بلکہ یہ اصل دنیا پر مبنی بحران کا ایک عکس بھی ہے۔ ہم ایک مخاطری شکل میں اس موضوع کی شدت کو باقاعدہ شکل میں پیش کرنے کے خواہش مند تھے تاکہ یہ ناظرین کے لیے پرکشش ثابت ہو اور ساتھ ہی ساتھ گفت و شنید کے دروازے بھی کھولے۔ یہ فلم مقتدر طلائی طاؤس ایوارڈ کے لیے بھی مسابقت کے زمرے میں شامل کی جا رہی ہے۔

مہاراشٹر میں واقع تڈوبا ٹائیگر ریزرو کے خطرناک پس منظر میں بنائی گئی یہ فلم ماحولیات پر مبنی مخاطری بیانیوں کا استعمال کرتی ہے تاکہ انسانیت اور فطرت کے درمیان استوار نازک توازن کو اجاگر کیا جا سکے۔ ایک مرکزی کردار کے طور پر جنگلات کے کردار پر بحث کرتے ہوئے مہاجن نے کہا کہ اس کی شوٹنگ اصل جنگلات میں کی گئی تھی۔ تڈوبا ٹائیگر ریزرو چندرپور، مہاراشٹر میں واقع ہے۔ لہٰذا یہ پورے فلم کے ماحول کو ایک اعتبار عطا کرتی ہے۔ تمام جنگل میں شیر موجود تھے اور ایک بڑے عملے کے ساتھ اس کی شوٹنگ ازحد دشوار گزار عمل تھا۔ لہٰذا حقیقت کو ابھارتے ہوئے وہاں فلم بندی کرنا بھی ایک چنوتی تھی۔ ہم نے جنگلات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ یہ پوری کہانی کا ایک لازمی حصہ بن گئے ہیں۔

مہاجن نے عکس بندی کے دوران درپیش ایک منفرد چنوتی کا ذکر کیا۔ ہم شیر کو محض ایک سین میں دکھا سکے۔ تاہم ہمیں اس کی پیہم موجودگی کا احساس پیدا کرنا تھا۔ آواز کے ڈیزائن اور بصری عناصر کے توسط سے ہم نے تناؤ اور تجسس کا ایک ماحول پیدا کر دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/27-13-2QOM6.jpg

مہاراشٹر کے ویدربھ خطے میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے تصادم پر دو برسوں کی وسیع تر تحقیق سے حاصل ہوئے سبق کے ساتھ یہ فلم اصل واقعات سے بھی ترغیب حاصل کرتی ہے۔ راؤ صاحب کسی طرفداری کے بغیر کثیر پہلوئی تناظر کے پہلو ابھارتی ہے۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ پورے موضوع کو اصل شکل میں نمایاں کیا جائے اور بامقصد طریقے سے پیش کیا جائے۔ بقائے باہمی پر زور دیتے ہوئے اور انسانوں اور فطرت کے مابین ایک متوازن رشتے کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے مہاجن نے پوری فلم بندی کے عمل کی وضاحت کی۔

آج اِفی میں دکھائی گئی ایک دیگر فلم ’سری کانت‘ لچک اور امید کا ایک سفر ہے۔ یہ فلم سری کانت بولا کی زندگی پر مبنی ہے۔ یہ شخص کمزور بصارت کا حامل صنعت کار ہے اور یہ بولانٹ صنعتوں کا بانی ہے۔ یہ ہندی فلم انسانی جذبے اور عزم محکم کا ایک ترغیب فراہم کرنے والا مرقع ہے۔ تشار ہیرا نندانی کی ہدایت میں اور ندھی ہیرانندانی کے ذریعہ پروڈیوس کی گئی یہ فلم سری کانت کی جدوجہد کو طنز و مزاح اور ڈرامے کی شکل میں پیش کرتی ہے اور معاشرے کی حد بندیوں پر کیسے فتح حاصل کی جاتی ہے ،اس پہلو کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ فلم بھی اس سال اِفی میں مقتدر آئی سی ایف ٹی یونیسکو گاندھی تمغے کے لیے مسابقت کی قطار میں ہے۔

پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ندھی ہیرانندانی نے بتایا کہ یہ فلم تحمل اور برداشت کی ایک آفاقی داستان ہے۔ سری کانت نام کی یہ فلم ایسی ہے جس میں ایک شخص ایک مساوی حیثیت سے زندہ جاوید طور پر اصل زندگی سے نبردآزما ہوتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ وہ معاشرے کی حد بندیوں کو توڑتا ہے، وبائی مرض کی چنوتیوں سے کامیاب ہوکر باہر آتا ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ ایسی کہانی بیان کرنا ضروری ہے، جو امید اور یقین دونوں کو استحکام عطا کرے۔

ڈائرکٹر تشار ہیرا نندانی کو ’سانڈ کی آنکھ‘ جیسی فلموں کے لیے جانا جاتا ہے جس میں انہوں نے اِفی میں واپس آنے کے سلسلے میں جوش و جذبے کا اظہار کیا تھا۔ سری کانت کی داستان نہ صرف معذور افراد کے لیے ترغیب کا وسیلہ ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے یہ ترغیب فراہم کرتی ہے جو اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہو۔ ہم نے اس کردار کو ایک زندگی سے قریب فرد کے طور پر پیش کیا ہے، اس کے جدوجہد اور ناکامیوں کے لمحات کو بھی دکھایا ہے جو پورے بیانیے کو حقیقت سے قریب لاتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/27-13-3D15X.jpg

لچک اور عزم کی ایک علامت کےطور پر فلم میں سری کانت کو پیش کرتے ہوئے یہ فلم بصری کمزوری کے حامل افراد کے سلسلے میں بہت سارے افراد کی غلط فہمیوں کو چنوتی دیتی ہے۔ تشار ہیرانندانی نے کہا کہ یہ معذوری سے متعلق ایک فلم نہیں ہے بلکہ انسان کے ناقابل تسخیر جذبے کی عکاسی ہے۔

دونوں فلمیں یعنی راؤ صاحب اور سری کانت اہم سماجی اور ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں داستان گوئی کی قوت اجاگر کرتے ہوئے تبدیلی کی ترغیب فراہم کرتی ہیں۔ افی میں انہیں جو گرمجوشانہ استقبال حاصل ہوا ہے، وہ ملک کے بالیدہ ہوتے ہوئے سنیمائی پیش منظر کو اجاگر کرتا ہے۔

پریس کانفرنس یہاں ملاحظہ کریں۔

**********

 

(ش ح –م ن - ا ب ن)

U.No:3175

 

iffi reel

(रिलीज़ आईडी: 2078928) आगंतुक पटल : 65
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Marathi , Konkani , English , हिन्दी