بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ساگر سیتوایپ کے موضوع پر ورکشاپس

प्रविष्टि तिथि: 02 AUG 2024 1:59PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ساگر سیتو نے بھارت کی تمام 13 بڑی بندرگاہوں اور 41 غیر اہم بندرگاہوں کے ساتھ انضمام حاصل کر لیا ہے۔ بڑی بندرگاہوں اور غیر اہم بندرگاہوں کی تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

ساگر سیتو ایپلی کیشن نے ہندوستان کے اندر متنوع جغرافیائی خطوں میں پھیلے ہوئے 21,000 سے زیادہ صارفین کی بنیاد حاصل کی ہے۔ ساگر سیتو ایپلی کیشن استعمال کرنے والے صارف/ متعلقہ فریقوں کی سیکٹر کے حساب سے تفصیلات ضمیمہ-II میں ہے۔ یہ صارف بندرگاہ کے حکام، خدمات فراہم کرنے والے جیسے شپنگ ایجنٹس، ٹرمینل آپریٹرز، کسٹمز ہاؤس ایجنٹس (سی ایچ ایز) درآمدکار/ برآمدکار وغیرہ ہیں۔ ریاست کے لحاظ سے صارفین کی تعداد ضمیمہ III میں ہے جس میں آندھراپردیش بھی شامل ہے۔

ساگر سیتو کے فوائد درج ذیل ہیں۔

1.اعدادوشمار کا بروقت تبادلہ طویل مدت میں درج ذیل نکات کو فعال بناتا ہے:

  1. درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، کسٹم بروکرز، اور مال برداری کو آگے لے جانے  کی خاطر تمام بنیادی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے ایک واحد پلیٹ فارم؛
  2. ڈیجیٹل طور پر بذات خود کلیئرنس انجام دینے اور محافظین کے ساتھ آن لائن لین دین کے لیے شروع سے آخر تک فعالیت؛
  3. بڑے اور چھوٹے سبھی متعلقہ فریقوں کے لیے برابری کا میدان فراہم کرنا؛
  4. ہر مرحلے پر اطلاعات کے ساتھ ترسیل کی مکمل گھریلو ٹریکنگ؛
  5. سرگرمیوں کے تعلق سے بر وقت کی معلومات؛
  6. حکومت میں شفافیت کو بڑھانے کے لیے کاروباری تعلقات اور کاروبار کرنے میں سہولت پیدا کرنا؛
  7. کاروبار اور لاجسٹکس کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے قیمتوں کو کم کرنا اور ٹائم کی حد؛ اور
  8. کاروباری انٹیلی جنس رپورٹنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ساتھ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے بغیرکاغذ لین دین۔

2.آپریشن کی مرئیت کی نشاندہی متعلقہ فریق  کے حساب سے کی جاتی ہے، جس کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے:

  1. پورٹس اور ٹرمینل آپریٹرز: تمام 13 بڑی بندرگاہیں (ان کے ٹرمینل آپریٹنگ سسٹم،ٹی او ایس/پورٹ آپریٹنگ سسٹم، پو او ایس کے ساتھ) اور 41 غیر اہم بندرگاہیں نیشنل لاجسٹک پورٹل میرین (این ایل پی- ایم) کے ساتھ مربوط ہیں۔ بڑی بندرگاہوں پر تقریباً تمام ٹرمینل آپریٹرز کو آن بورڈ کر دیا گیا ہے۔
  2. کسٹمز: انڈین کسٹمز الیکٹرانکس گیٹ وے (آئی سی ای جی اے ٹی ای) کے ساتھ انضمام کسٹم اور بندرگاہوں کے درمیان اعداد وشمار  اور معلومات کے الیکٹرانک تبادلے کو ہموار کرتا ہے۔
  3. پورٹ ہیلتھ آرگنائزیشن (پی ایچ او)ماڈیول: پی ایچ اوز پی ایچ او طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ کی منظوری اور اسے جاری کر سکتے ہیں اور اس کی اطلاع پورٹ حکام کو بھیجی جائے گی۔ ساگر سیتو کے ذریعے بندرگاہوں پر پی ایچ او کو فری پراٹک اینڈ ہیلتھ ڈیکلریشن سرٹیفکیٹ کی درخواستیں دستیاب ہیں۔
  4. مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ (ایم ایم ڈی) ماڈیول: جہاز کے لنگر انداز ہونے اور روانہ کیے جانے کے حوالے سے بروقت وقت اور آن لائن معلومات کا تبادلہ  ایم ایم ڈی انسپکٹرز، بندرگاہوں سے متعلق حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے دستیاب ہے۔
  5. بھارتی ریلوے: ساگر سیتو کے پیغامات سفری رجسٹریشن، الیکٹرانک تصدیق شدہ مجموعی مارجن (ای وی جی ایم)، برتھ الاٹمنٹ، کنٹینر پینڈنسی، اور بلک پینڈنسی کے اشتراک کے لیے فریگٹ آپریشنز انفارمیشن سسٹم (ایف او آئی ایس) کے ساتھ مربوط ہیں۔
  6. یونیفائیڈ لاجسٹک انٹرفیس پلیٹ فارم (یو ایل آئی پی): متعدد پیغامات یو ایل آئی پی اور ساگر سیتو کے درمیان مربوط ہیں۔
  7. ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لائٹ ہاؤسز اینڈ لائٹ شپس (ڈی جی ایل ایل): ڈی جی ایل ایل ماڈیول تیار کیا گیا ہے اور ساگر سیتو پر لائٹ ہاؤس واجبات کی ادائیگی کی حیثیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔
  8. بینک: ساگر سیتو فار بزنس ٹو گورنمنٹ ٹرانزیکشن (بی2جی) لین دین میں متعدد بینکوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ساگر سیتو اپنے پلیٹ فارم پر بزنس ٹو بزنس (بی2بی) لین دین کو لاگو کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

3.بندرگاہوں کی کارروائیوں اور کارکردگی کو بہتر بنانا:

  1. این ایل پی- ایم پر 98 پیغامات کو مربوط کیا گیا ہے، جو بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) کو بندرگاہ کے کلیدی آپریشنز میٹرکس اور نگرانی کی کارکردگی میں مرئیت فراہم کرتے ہیں۔
  2. پی ایچ او کے فری پراٹک اور ہیلتھ ڈیکلریشن فارم کے عمل کو مکمل طور پر مینوئل سے این ایل پی- ایم میں منتقل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر بڑی بندرگاہوں پر عمل کاوقت پانچ گھنٹے سےکم ہو گیا ہے۔
  3. ساگر سیتو میں دستیاب اعداد وشمار کے ساتھ، جہاز کی منظوری کے اوقات، سفر سے باخبر رہنے، اور عملے اور کارگو کی تفصیلات کے بارے میں بصیرت فراہم کی جا سکتی ہے، جو بندرگاہوں کو اپنی مجموعی کارکردگی اوقات کو بہتر بنانے اور زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے کے قابل بنا سکتی ہے۔

مالی سال 2024 میں ساگر سیتو پر تقریباً 69 لاکھ پیغامات موصول اور بھیجے گئے۔ ساگر سیتو پلیٹ فارم پر کی گئی مالی لین کی کارروائی کی کل قیمت آئی این آر+ 12,000 کروڑ روپے ہے۔

آندھرا پردیش سمیت میسج ایکسچینج پورٹ/ریاست کےمطابق تفصیلات ضمیمہ-IV میں ہیں۔

ایک 24/7 ساگر سیتو ہیلپ ڈیسک ٹیم آپریشنل اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ جس پر اوسطاً تقریباً 1300 سوالات اور مسائل درج کیے جاتے ہیں۔ صارفین کی طرف سے درج کیے گئے اہم مسائل درج ذیل ہیں:

  1. الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج (ای ڈی آئی) فائلوں کے تبادلے کے ساتھ درپیش چیلنجز؛
  2. کسٹمز (آئی سی ای جی اے ٹی ای) کے ساتھ انضمام سے متعلق مشکلات؛
  3. سی او پی آر اے آر (کنٹینر آمد سے قبل کی رپورٹ) پیغامات کی وصولی کے ساتھ مسائل؛ اور
  4. درخواست سے متعلق مختلف مسائل، بشمول صارف کے رجسٹریشن اور لاگ ان، ادائیگی کے عمل وغیرہ سے متعلق۔

کسی مسئلے کو حل کرنے کا اوسط وقت تقریباً 4 دن ہے۔

ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کی ایک سیریز کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں یہ اہم پروگرام جیسے اگست 2022 میں کانفرنس روم پائلٹ سیشنز، اگست 2023 میں پورٹ فیڈ بیک سیشنز، اور ستمبر 2023 میں یوزر ایکسیپٹنس ٹیسٹنگ (یو اے ٹی) ڈیمو سیشن شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ساگر سیتو ایپلیکیشن کے بارے میں صارفین کو آگاہ کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق ایونٹس، بیسپوک سیشنز بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اسٹیک ہولڈرز بشمول پورٹ اتھارٹیز،انضباطی ادارے اور شپنگ ایجنٹس سمیت سبھی متعلقہ فریقوں کی درخواست پر ٹیلرڈ سیشنز باقاعدگی سے فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ایپلیکیشن کے استعمال میں ماہر ہیں۔ مزید یہ کہ، مختلف کاروباری  انجمنوں کے نوڈل افسران کے ساتھ معمول کی ہفتہ وار اور ماہانہ میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں تاکہ صارفین کو ان کے آپریشنز کے دوران پیش آنے والے مسائل پر بات چیت کی جاسکے اور ان کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ ساگر سیتو مختلف قسم کی یوزر گائیڈز اور ویڈیو ٹیوٹوریلز بھی پیش کرتا ہے جس پر  عام لوگ بہ آسانی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

ورکشاپ/ٹریننگ کا انعقاد ایک متواتر اور مسلسل ورزش ہے۔

ضمیمہ-I

ساگر سیتو ایپ پر اپ لوڈ کی گئی بھارت کی بڑی اور غیر بڑی بندرگاہوں کی تفصیلات۔

ساگر سیتوایپ پر درج  بڑی بندرگاہوں کی فہرست:

نمبر شمار

بندرگاہ کانام

ریاست

1

چنئی پورٹ اتھارٹی

تمل ناڈو

2

وی او چدمبررنر پورٹ اتھارٹی

تمل ناڈو

3

کامراجرر پورٹ لمیٹڈ

تمل ناڈو

4

ممبئی پورٹ اتھارٹی

مہاراشٹر

5

جواہر لعل نہرو پورٹ اتھارٹی

مہاراشٹر

6

کوچین پورٹ اتھارٹی

کیرالہ

7

وشاکھاپٹنم پورٹ اتھارٹی

آندھرا پردیش

8

نیو منگلور پورٹ اتھارٹی

کرناٹک

9

پارا دیپ پورٹ اتھارٹی

اوڈیشہ

10

ایس ایم پی اے ہلدیہ ڈاک کمپلیکس

مغربی بنگال

11

ایس ایم پی اے کولکتہ ڈاک سسٹم

مغربی بنگال

12

دین دیال پورٹ اتھارٹی

گجرات

13

مورموگاؤ پورٹ

گوا

ساگر سیتو پر اپ لوڈ کی گئی  غیر اہم بندرگاہوں کی فہرست:

نمبر شمار

بندرگاہ کانام

ریاست

1

کاکیناڈا سی پورٹ لمیٹڈ

آندھرا پردیش

2

کرشنا پٹنم بندرگاہ

آندھرا پردیش

3

اڈانی گنگاورم پورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ

آندھرا پردیش

4

کاکیناڈا اینکریج پورٹ

آندھرا پردیش

5

کاکیناڈا ڈیپ واٹر پورٹ(کے ڈی ڈبلیو پی)

آندھرا پردیش

6

روّا پورٹ (ٹرمینل)

آندھرا پردیش

7

پاناجی پورٹ

گوا

8

اڈانی پیٹرونیٹ (دہیج) پورٹ

گجرات

9

ہزیرہ پورٹ

گجرات

10

مگدلہ گروپ آف پورٹس

گجرات

11

موندرا پورٹ

گجرات

12

پیپاؤ پورٹ

گجرات

13

سیکا پورٹ

گجرات

14

اے ایم این ایس پورٹ ہزیرہ

گجرات

15

گجرات کیمیکل پورٹ لمیٹڈ، دہیج

گجرات

16

ایسر بلک ٹرمینل (سلایا) لمیٹڈ

گجرات

17

دہیج ہاربر اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ

گجرات

18

الٹرا ٹیک سیمنٹ لمیٹڈ، جی سی ڈبلیو، کووایا

گجرات

19

بھوگت پورٹ فیسلٹی - ویدانتا لمیٹڈ

گجرات

20

بھاؤ نگرپورٹ

گجرات

21

وزنجام انٹرنیشنل پورٹ

کیرالا

22

کولم پورٹ

کیرالا

23

بی پور پورٹ

کیرالا

24

وزنجام پورٹ

کیرالا

25

ازہکل پورٹ

کیرالا

26

بنکوٹ پورٹ

مہاراشٹر

27

کونکن ایل این جی پرائیویٹ لمیٹڈ

مہاراشٹر

28

دھرمتر پورٹ

مہاراشٹر

29

دھانو پورٹ

مہاراشٹر

30

انگرے پورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ

مہاراشٹر

31

جے ایس ڈبلیو جے گڑھ پورٹ

مہاراشٹر

32

ریڈی پورٹ لمیٹڈ

مہاراشٹر

33

رانپر

مہاراشٹر

34

انڈو ای این جی پرائیویٹ لمیٹیڈ

مہاراشٹر

35

جے ایس ڈبلیو ریوڈنڈا پورٹ

مہاراشٹر

36

ڈیگھی پورٹ لمیٹڈ

مہاراشٹر

37

کرنجا ٹرمینل اینڈ لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ

مہاراشٹر

38

دھامرا پورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ

اڈیشہ

39

گوپال پور پورٹ

اڈیشہ

40

کٹوپلی پورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ

تملناڈو

41

ایم آئی ڈی پی ایل کٹوپلی پورٹ

تملناڈو

ضمیمہ II

ایپلیکیشن استعمال کرنے والے سیکٹر کے حساب سے متعلقہ فریقوں کی تفصیلات:

نمبرشمار

متعلقہ فریق

نمبر

1

درآمد کنندہ / برآمد کنندہ

7519

2

کسٹم بروکر

5685

3

شپنگ ایجنٹ

4619

4

درآمد کنندہ

792

5

کنٹینر ایجنٹ

645

6

اسٹیوڈور

379

7

امپٹی یارڈ آپریٹر

222

8

شپ چیندلرز

192

9

شپنگ لائن

184

10

کنٹینر فریٹ اسٹیشن

178

11

پورٹ آپریشنز

109

12

فریٹ فارورڈر

105

13

برآمد کنندہ

104

14

اندرون ملک کنٹینر ڈپو

95

15

نان ویسل آپریٹنگ کامن کیریئر

85

16

ٹرمینل آپریٹر - سی

80

17

ریل ٹرانسپورٹ

64

18

پورٹ اتھارٹی

61

19

روڈ ٹرانسپورٹ آپریٹر

34

20

ریگولیٹری اتھارٹی(انضباطی اتھارٹی)

31

21

سرویئر

27

22

بارج آپریٹر

25

23

پورٹ ہیلتھ آرگنائزیشن

21

24

پورٹ میرین

20

25

کوسٹ گارڈ/انڈین نیوی

19

26

آئی سی ڈی شپنگ لائن

19

27

ریل ٹرانسپورٹ آپریٹر

18

28

پورٹ فنانس

16

29

مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ

15

30

بنکرسپلائر

14

31

لیچ آن سروس پرووائڈر

14

32

آئی ڈبلیو-ویسل آپریٹرز

13

33

ایس اے ایڈمنسٹریٹر

11

34

بینک

9

35

اِن لینڈ واٹر ویز (اندرون ملک آبی گزرگاہیں)

8

36

پورٹ ٹریفک

8

37

کنٹینر ٹرین آپریٹر

6

38

ڈی جی شپنگ

4

39

ایچ ایم سی آپریٹر

4

40

کوسٹل کارگو اسٹیک ہولڈرز

3

41

ریگولیٹری آپریشن

3

42

ٹینک فارم آپریٹر

3

43

کرنٹائن آرگنائزیشن

1

44

ایکسپورٹ پروموشن کونسل

2

45

انڈین کسٹمز

2

46

منسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ڈی پی آئی آئی ٹی)

2

47

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف لائٹ ہاؤسز اینڈ لائٹ شپس

1

48

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا

1

49

فریٹ آپریٹنگ انفارمیشن سسٹم

1

ضمیمہ III

ساگر سیتو ایپ کا استعمال کرنے والے ریاست کے لحاظ سے صارفین کی تعداد:

نمبر شمار

ریاست

متعلقہ فریقوں کی تعداد

1

مہاراشٹر

10285

2

مغربی بنگال

3614

3

تمل ناڈو

1804

4

آندھرا پردیش

1286

5

گجرات

1123

6

کیرالہ

695

7

اوڈیشہ

483

8

کرناٹک

249

9

گوا

199

ضمیمہ IV

پیغامات کا تبادلہ (مالی سال 2024 کے دوران):

نمبرشمار

بندرگاہ کانام

ریاست

کُل تعداد(لاکھ میں)

1

چنئی پورٹ اتھارٹی

تمل ناڈو

29.4

2

وی او چدمبررنار پورٹ اتھارٹی

3

کامراجار پورٹ لمیٹڈ

4

جواہر لعل نہرو پورٹ اتھارٹی

مہاراشٹر

15.6

5

ممبئی پورٹ اتھارٹی

6

وشاکھاپٹنم پورٹ اتھارٹی

آندھرا پردیش

9.5

7

ایس ایم پی اے کے ڈی ایس

مغربی بنگال

9.3

8

ایس ایم پی اے ایچ ڈی سی

9

کوچین پورٹ اتھارٹی

کیرالہ

1.9

10

دین دیال پورٹ اتھارٹی

گجرات

1.9

11

نیو منگلور پورٹ اتھارٹی

کرناٹک

0.8

12

پارا دیپ پورٹ اتھارٹی

اوڈیشہ

0.6

13

مورموگاو پورٹ اتھارٹی

گوا

0.2

 

******

ش ح۔ش م۔ ع ن

U NO: 10341


(रिलीज़ आईडी: 2050020) आगंतुक पटल : 88
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , हिन्दी , Hindi_MP