دیہی ترقیات کی وزارت

سکریٹری محترمہ ندھی کھرے نے، پورے آسام میں، منفرد لینڈ پارسل شناختی نمبر کے اجراء کے ساتھ ،قومی عام دستاویز کے اندراج کےنظام کا آغاز کیا


زمین کے ریکارڈ کے انتظامیہ  میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے ،آسام کے دارنگ ضلع میں بلاک چین کا پائلٹ آغاز

اعتماد میں اضافہ، آڈٹ ایبلٹی، ٹریس ایبلٹی، زمینی ریکارڈ کے اعداد وشمار کی عدم تبدیلی کو یقینی بنانے کے لیے ،بلاک چین ٹیکنالوجی

Posted On: 13 FEB 2024 2:43PM by PIB Delhi

 زمینی وسائل کے محکمے کی سکریٹری  محترمہ ندھی کھرے نے، پورے آسام میں نیشنل جنرک ڈاکومنٹ رجسٹریشن سسٹم (این ڈی جی آر ایس) کا آغاز کیا اور ساتھ ہی جیو ریفرنس والے کیڈسٹرل نقشوں کی منفرد لینڈ پارسل شناختی نمبر (یو ایل پی آئی این) سیڈنگ کا آغاز بھی کیا۔ حکومت آسام میں اسپیشل چیف سکریٹری جناب سیدین عباسی نے آج ایک پائلٹ  پروجیکٹ کے طور پر ،ضلع دارنگ میں زمینی ریکارڈ میں بلاک چین کا آغاز کیا۔ اس تقریب کا اہتمام حکومت آسام کے محصولات اور قدرتی آفات کے انتظامیہ کے محکمے نے کیا تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، محترمہ ندھی کھرے نے نشاندہی کی کہ این جی ڈی آر ایس، حکومت ہند کی دیہی ترقی کی وزارت کے زمینی وسائل کے محکمے ، کی طرف سے شروع کردہ ایک عوامی پروجیکٹ ہے،  جو ایک  عام ایپلی کیشن ہے جسے‘ ون نیشن ون سافٹ ویئر ’  پہل  کے تحت ملک بھر میں اندراج کرنے والےمحکموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این جی ڈی آر ایس ایپلی کیشن، این آئی سی -پونے نے تیار کی ہے اور این جی ڈی آر ایس کی آسام صنف، ریاستی اعداد وشمار کے مرکز  (ایس ڈی سی) میں ہوسٹ کی گئی ہے۔ آسام میں این ڈی جی آر ایس کا آغاز، آسام کے وزیر اعلیٰ نے 14 نومبر 2022 کو کیا تھا۔ فی الحال این جی ڈی آر ایس کو دو اضلاع، کامروپ اور دارنگ کے ایس آر او میں نافذ کیا گیا ہے اور اب آسام کے تمام 77 ایس آر اوز میں، این جی ڈی آر ایس کو نافذ کیا  جارہا  ہے۔ انہوں نے این جی ڈی آر ایس کے آسام صنف کی درج ذیل کلیدی خصوصیات پر مزید روشنی ڈالی۔

  1. این جی ڈی آر ایس کی آسام صنف کو ،زونل ویلیو اور لوکیشن کے لیے، دھریتری کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ پارٹی اور زمین کی تفصیلات کے لیے این او سی، آن لائن ادائیگی کے لیے ای -گراس، ای-اسٹامپ اور سیوا سیتو کی شہری خدمات (نان اینکمبرنس سرٹیفکیٹ، تصدیق شدہ کاپی، شادی کے اندراج،دستاویزاتی اندراج ) ۔
  2. مضامین کے مطابق فیس کا خودکار حساب کتاب فعال ہے۔
  3. این جی ڈی آر ایس میں تشکیل شدہ کل 76 مضامین شامل کئے گئے ہیں۔

محترمہ ندھی کھرے نے بلاک چین کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جو کہ حکومت آسام کے محصولات اور قدرتی آفات کے انتظامیہ  کے محکمے کی طرف سے شروع کی گئی ہے۔یہ  آئی ٹی اصلاحات میں سے ایک پروگرام ہے۔ اس کا مقصد آسام کے زمینی ریکارڈ کے انتظام میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے اعتماد میں اضافہ، آڈٹ ایبلٹی، ٹریس ایبلٹی، زمینی ریکارڈ کے اعداد و شمار کی عدم تغیر کو یقینی بناناہے۔ انھوں  نے مزید زور دیا کہ بلاک چین کے ساتھ آراضی کے ریکارڈز کو محفوظ کرنے کا مقصد، لین دین کو ریکارڈ اور تقسیم کرنے کی اجازت دینا ہے ،لیکن اس میں ترمیم نہیں کی گئی۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کا کرپٹوگرافی اور ڈسٹری بیوٹ نیٹ ورک نوڈس کا انوکھا امتزاج ، اعداد وشمار  کو قابل اعتماد ماحولیاتی نظام میں برقرار رکھنے اور درست کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یو ایل پی آئی این (منفرد لینڈ پارسل شناختی نمبر) کو منفرد بلاک چین آئی ڈی کے طور پر لیا جاتا ہے اور بھونکشا سے یو ایل پی آئی این کا استعمال کرتے ہوئے زمین کے پارسل کی منفرد شناخت کی جاتی ہے۔ محترمہ کھرے نے مزید وضاحت کی کہ یو ایل پی آئی این ، ایک 14 ہندسوں کا الفا- عددی شناختی نمبر ہے جسے ہر زمین کے پارسل کے لیے آدھاریا فنگر پرنٹ کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ شناخت کاسلسلہ  لینڈ پارسل کے طول البلد اور عرض البلد پر مبنی ہے اور اس کا انحصار جیو ریفرنس والے کیڈسٹرل نقشوں پرمبنی ہے۔ انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ یو ایل پی آئی این کے فوائد ،تمام لین دین میں انفرادیت کو یقینی بنانے، مقامی ریکارڈ کو تازہ ترین رکھنے، جائیداد کے لین دین کو جوڑنے، زمینی ریکارڈ کے ڈیٹا کو محکموں، مالیاتی اداروں میں دستیاب کرانے اور جعلی لین دین کو ختم کرنا ہے۔ این جی ڈی آر ایس میں، قانونی دستاویزات پر ایس آر او کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر دستخط کیے جاتے ہیں اور ان دستاویزات کی منظوری کے بعد، اسے بلاک چین میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ بلاک چین شروع سے آخر تک تحفظ، جوابدہی، اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال پیش کرے گا۔ ضلعی سطح پر بلاک چین پر مبنی کیڈسٹری اور لینڈ ریکارڈ رجسٹری پائلٹ کا آغاز، دارنگ ضلع میں کیا گیا ہے اور جلد ہی  اسےپورے آسام میں شروع کیا جائے گا۔

*****

U.No.4891

(ش ح –ا ع  - ر ا) 



(Release ID: 2005562) Visitor Counter : 63


Read this release in: English , Hindi , Assamese , Telugu