جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سوچھ بھارت مشن کے تحت بیت الخلاء بنائے گئے

Posted On: 08 FEB 2024 2:15PM by PIB Delhi

جل شکتی کے وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ سوچھ بھارت مشن (گرامین) [ایس بی ایم (جی) 2[ اکتوبر 2014 کو شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد ، 2 اکتوبر 2019 تک تمام دیہی گھرانوں کوبیت الخلاء تک رسائی فراہم کر کے ملک کے تمام دیہاتوں میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) کا درجہ حاصل کرنا تھاْ۔ایس بی ایم (جی) کے تحت تمام بی پی ایل گھرانوں اور شناخت شدہ اے پی ایل گھرانوں کے لیے(ایس سی/ایس ٹی گھرانے، جسمانی طور پر معذور افراد والے گھرانے، مکان کے ساتھ بے زمین مزدور، چھوٹے اور پسماندہ کسانوں اور خواتین کی سربراہی کرنے والے گھرانے) جن کے پاس ان کے گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہے،کے لئے  انفرادی گھریلو لیٹرین (آئی ایچ ایچ ایل) کی تعمیر کے لیے 12,000روپے کی ترغیب کا انتظام ہے

سوچھ بھارت مشن-شہری (ایس بی ایم-یو) کوہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت  (ایم او ایچ یو اے)کے ذریعہ چلایا جارہا ہے۔ ایس بی ایم-یو کا آغاز 2 اکتوبر 2014 کو کیا گیا تھا جس کا مقصد ملک کے شہری علاقوں کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) بنانے اور ملک کے شہری علاقوں میں پیدا ہونے والے میونسپل سالڈ ویسٹ (ایم ایس ڈبلیو) کی سائنسی پروسیسنگ کے لیے کیا گیا تھا۔ پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے، ایس بی ایم –یو - 2.0 کو یکم اکتوبر 2021 کو پانچ سال کی مدت کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔ آپریشنل گائیڈلائنز کے مطابق ایس بی ایم –یو 2.0 کے تحت فائدہ اٹھانے والے گھرانوں کے انتخاب کے اصول حسب ذیل ہیں:

  1. یو ایل بیز نئے آئی ایچ ایچ ایل ایس کی تعداد کا جائزہ لینے کے لیے فرق کا تجزیہ کریں گے۔
  2. اگر کسی خاندان نے پہلے کی کسی اسکیم کے تحت آئی ایچ ایچ ایل کی تعمیر کے لیے فنڈز حاصل کیے ہیں، تو وہی خاندان دوبارہ بیت الخلاء کے لیے فنڈز حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔
  • iii. ایک یو ایل بی جسے کم از کم او ڈی ایف + قرار دیا گیا ہے وہ بھی ایس بی ایم یو- 2.0 کے تحت فنڈز کی درخواست کر سکتا ہے بشرطیکہ سروے اضافی آئی ایچ ایچ ایل یونٹس کی ضرورت کو ظاہر کرے۔

ریاست / مرکز کے لحاظ سے اور سال  ایس بی ایم جی کے تحت دیہی علاقوں میں تعمیر کردہ آئی ایچ ایچ ایل کی تعداد کو ضمیمہ 1 میں دیا گیا ہے۔ ریاست وار ایس بی ایم یوکے تحت شہری علاقوں میں تعمیر کردہ آئی ایچ ایچ ایل کی تعداد کو ضمیمہ 2 میں دیا گیا ہے۔

ایس بی ایم جی کے تحت، فنڈز ریاستوں کو ایک یکجا  طریقے سے جاری کیے جاتے ہیں۔ نیچے کی سطح کی ایجنسیوں کو فنڈز کی مزید مختص/تقسیم ریاست کی طرف سے کی جاتی ہے۔ گزشتہ تین سالوں (2020-21 سے 2022-23) کے دوران راجستھان کو 793.97 کروڑ روپے کا کل مرکز کا حصہ جاری کیا گیا تھا۔ ایس بی ایم یوکے تحت بھی، فنڈز ریاستوں کو جاری کیے جاتے ہیں نہ کہ یو ایل بیز/اضلاع/افراد کو۔ گزشتہ تین سالوں (2020-21 سے 2022-23) کے دوران کل  23.49 کروڑ روپے ایس بی ایم (یو) کے تحت حکومت راجستھان کو جاری کیے گئے۔ 06.02.2024 کو ایس بی ایم جی کے آن لائن انٹیگریٹڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (آئی ایم آئی ایس) پر راجستھان کی ریاستی حکومت کے ذریعہ رپورٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 3 سالوں کے دوران کل 6,19,357 آئی آئی ایچ ایل بنائے گئے ہیں۔

 

ضمیمہ 1

ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور سال کے  لحاظ  آئی ایچ ایچ ایلز  کی تعداد۔  کے تحت دیہی علاقوں میں تعمیر کردہ ایس بی ایم (جی)

نمبر شمار

ریاست /مرکز کے زیر انتظام علاقے

2014-15(2-10-14 to 31.3.2015)

2015-16

2016-17

2017-18

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

2022-23

2023-24

 

1

انڈومان و نکوبار جزار

0

0

941

17594

0

1926

1704

340

219

15

 

2

آندھرا پردیش

160512

337901

727784

2151448

518695

253369

84233

4121

2819

14533

 

3

اروناچل پردیش

5665

16036

41077

50472

16795

2490

11194

3520

3194

1743

 

4

آسام

109958

479836

1001641

773988

888403

303349

422561

82150

115305

29186

 

5

بہار

111334

325096

736935

2342610

6395224

1323550

385430

16397

841255

635085

 

6

چھتیس گڑھ

20344

299556

1335039

1336734

215819

112590

34918

59800

54174

50192

 

7

دادر اور ناگر حویلی اور دامن اور دیو

0

0

0

20358

0

0

714

1447

43

0

 

8

گوا

0

28508

0

0

0

0

0

0

0

1783

 

9

گجرات

216692

904190

1543818

474928

101469

540745

327158

109090

30504

56819

 

10

ہریانہ

47733

130396

97551

353877

31900

12334

4604

11128

11072

15380

 

11

ہماچل پردیش

25982

61813

83185

10

15

146

93

21282

15247

9317

 

12

جموں و کشمیر

8492

51521

65235

401050

522192

38788

82033

14767

48667

30465

 

13

جھارکھنڈ

63871

288415

793033

1151951

1084001

192915

513091

25507

25322

23969

 

14

کرناٹک

697454

545228

700529

1633464

752211

195969

209228

88245

15712

46148

 

15

کیرالہ

19212

12351

194536

0

2

636

9298

5104

4794

1891

 

16

لداخ

944

1903

3885

9538

0

1798

0

971

1082

1877

 

17

لکشدیپ

0

0

0

0

0

0

0

0

0

0

 

18

مدھیہ پردیش

235014

989775

1822188

2390360

991468

332465

173785

235361

194294

197532

 

19

مہاراشٹر

332224

881290

1828001

2317157

370704

729164

252029

123971

125768

94306

 

20

منی پور

21566

48062

41624

57177

79530

11989

4070

3980

6362

1924

 

21

میگھالیہ

18362

50525

47463

91960

1

9688

31201

29540

19657

3428

 

22

میزورم

461

3677

4785

23876

2664

673

2370

6347

0

2095

 

23

ناگالینڈ

0

15807

8003

51410

51060

1151

3285

8950

3472

1832

 

24

اوڈیشہ

93064

1162145

1211180

723037

2237283

1314759

249168

132827

127463

66119

 

25

پڈوچیری

0

0

2257

7227

18060

265

667

609

158

204

 

26

پنجاب

7688

60474

103815

70211

47191

101124

64826

13559

16506

13002

 

27

راجستھان

492685

1904377

2394502

1956767

143520

688464

306406

144951

168000

90315

 

28

سکم

937

3674

0

0

2129

622

1729

3488

3809

2119

 

29

تمل ناڈو

195223

775949

968639

2610397

755888

153638

88122

100676

46934

48144

 

30

تلنگانہ

70218

230453

517415

1485528

462311

239319

112864

9085

154

0

 

31

تریپورہ

23112

55369

46502

32680

137261

79509

53492

12099

13075

12344

 

32

اتر پردیش

420114

618244

1579133

4241557

9629665

3769390

946897

752524

366601

1484071

 

33

اتراکھنڈ

28333

60115

322571

44521

20511

19831

3927

11993

9027

8634

 

34

مغربی بنگال

587440

1532393

2307901

1046940

678590

670232

507860

213330

456443

189191

 

 

انڈیا

4014634

11875079

20531168

27868827

26154562

11102888

4888957

2247159

2727132

3133663

 

Source: Data reported by the States/UTs on online IMIS of SBM(G)

 

Annexure-2

State-wise details of IHHL constructed till December, 2023 under SBM-U since launch of SBM-U

ماخذ: ایس بی ایم جی کے آن لائن آئی ایم آئی ایس پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ رپورٹ کردہ ڈیٹا

ضمیمہ-2

ایس  بی ایم-یو کے آغاز کے بعد سے ایس  بی ایم-یو کے تحت دسمبر 2023 تک تعمیر کیے گئے آئی ایچ ایچ ایل  کی ریاست وار تفصیلات

نمبر شمار

ریاستیں

تعمیر شدہ آئی ایچ ایچ ایلز کی تعداد

1

آندھرا پردیش

2,43,764

2

انڈمان اور نکوبار

336

3

اروناچل پردیش

9,743

4

آسام

78,214

5

بہار

3,93,613

6

چندی گڑھ

6,117

7

چھتیس گڑھ

3,26,429

8

دادرا نگر حویلی اور دامن دیو

2,378

9

دہلی

725

10

گوا

3,800

11

گجرات

5,60,046

12

ہریانہ

66,638

13

ہماچل پردیش

6,743

14

جموں و کشمیر

51,246

15

جھارکھنڈ

2,18,686

16

کرناٹک

3,93,278

17

کیرالہ

37,207

18

لداخ

410

19

مدھیہ پردیش

5,79,642

20

مہاراشٹر

7,14,978

21

منی پور

40,175

22

میگھالیہ

1,604

23

میزورم

12,607

24

ناگالینڈ

20,448

25

اوڈیشہ

1,54,196

26

پڈوچیری

5,162

27

پنجاب

1,03,683

28

راجستھان

3,68,515

29

سکم

1,527

30

تمل ناڈو

5,23,721

31

تلنگانہ

1,57,165

32

تریپورہ

21,839

33

اتر پردیش

8,97,697

34

اتراکھنڈ

25,701

35

مغربی بنگال

2,82,542

 ماخذ: یہ اطلاعات ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کی طرف سے حاصل کی گئیں۔

************

ش ح۔ا ک ۔ ج

Uno-4642


(Release ID: 2003973) Visitor Counter : 132