کامرس اور صنعت کی وزارتہ

نئی دہلی میں بھارت – امریکہ تجارتی پالیسی فورم (ٹی پی ایف) کی 14ویں  وزارتی سطح کی میٹنگ کا انعقاد


وزراء نے اہم معدنیات، تجارت میں سہولت کاری، سپلائی چین سمیت بعض شعبوں میں مستقبل میں مشترکہ اقدامات شروع کرنے کے لیے بنیاد کو آگے بڑھانے کا عہد کیا

وزراء نے نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے مشترکہ سہولتی میکانزم (جے ایف ایم) کے قیام پر اتفاق کیا

Posted On: 13 JAN 2024 9:21AM by PIB Delhi

بھارت- امریکہ تجارتی پالیسی فورم (ٹی پی ایف) کی 14ویں وزارتی سطح کی میٹنگ 12 جنوری 2024 کو دہلی میں منعقد ہوئی۔ تجارت و صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل اور امریکی تجارتی نمائندہ، سفیر کیتھرین ٹائی نے ٹی پی ایف میٹنگ کی مشترکہ طور پر صدارت کی۔

وفد کی سطح کے مذاکرات سے پہلے، سی آئی ایم نے یو سی ٹی آر کی سفیر کیتھرین ٹائی کے ساتھ ایک چھوٹے گروپ کی میٹنگ بھی کی۔ وزراء نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ٹی پی ایف کا موثر نفاذ لچکدار دوطرفہ تجارت کو مضبوط بنانے اور اقوام کے درمیان مجموعی اقتصادی شراکت داری میں اضافہ کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

14ویں بھارت –امریکہ ٹی پی ایف تبادلہ خیالات کے 10اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

وزراء نے اہم معدنیات، کسٹم اور تجارتی سہولت، سپلائی چین، اور ہائی ٹیک مصنوعات کی تجارت سمیت بعض شعبوں میں مستقبل میں مشترکہ اقدامات شروع کرنے کے لیے بنیاد کی پیروی کرنے کا عہد کیا، جس میں اقتصادی طور پر بامعنی نتائج حاصل کرنے کے لیے تعاون میں اضافے کے لیے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور بھارت ایک پرجوش اور مستقبل کے حوالے سے روڈ میپ تیار کریں گے۔

وزراء نے نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے ایک مشترکہ سہولتی میکانزم (جے ایف ایم) قائم کرنے پر اتفاق کیا جو بین الاقوامی لیبارٹریوں کے نتائج کو باہمی طور پر تسلیم کرے گا اور جب بھی ممکن ہو دو طرفہ بنیادوں پر باہمی شناخت کے انتظامات (ایم آر اے) قائم کرے گا۔ اس سے نقلی جانچ کی ضروریات ختم ہو جائیں گی اور اعلیٰ معیار کے سامان کی تجارت کے لیے تعمیل کے اخراجات کم ہوں گے۔

سفیر ٹائی نے بھارت کی جی20 صدارت اور جی 20 تجارتی اور سرمایہ کاری ورکنگ گروپ میں حاصل ہونے والے نتائج ، بالخصوص خاص طور پر تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اعلیٰ سطحی اصولوں کو اپنانے کی تعریف کی۔ وزراء نے دوسرے فورموں میں ان اصولوں کے نفاذ کے لیے تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا اس طرح دوطرفہ طور پر جی 20 کے نتائج کو فروغ دیا جائے گا۔

وزراء نے سوشل سیکورٹی ٹوٹلائزیشن معاہدے پر جاری بات چیت اور بات چیت کے ایک حصے کے طور پر ہندوستان کی جانب سے امریکی فریق کو فراہم کی گئی اضافی معلومات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے مستقبل کے معاہدے کے لیے مصروفیت کو تیزی سے ٹریک کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ سماجی تحفظ/ ٹوٹلائزیشن معاہدہ ٹی پی ایف میں ہندوستانی فریق کی جانب سے کلیدی مطالبات میں سے ایک ہے جو ممالک کے درمیان خدمات کی تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور ہندوستانی آئی ٹی پیشہ واران کی مدد کرے گا جو عارضی طور پر امریکہ میں کام کرتے ہیں۔

ہندوستانی فریق نے پکڑے گئے جنگلی کیکڑے کی برآمدات پر پابندی ہٹانے کا معاملہ اٹھایا، جو ہندوستانی فریق کی جانب سے اٹھایا گیا ہندوستانی ماہی گیروں اور امریکی مارکیٹ میں ہماری برآمدات کو متاثر کرنے والا ایک اہم سوال ہے۔ امریکہ جھینگے کے لیے ہندوستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ اس تناظر میں، دونوں وزراء نے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے تکنیکی تعاون سے تیار کی گئی ٹرٹل ایکسکلوڈر ڈیوائس (ٹی ای ڈی) کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کا خیرمقدم کیا۔ ٹی ای ڈی سمندری کچھوؤں کی آبادی پر ماہی گیری کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک مؤثر آلہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سمندری غذا کی تجارت کو فروغ دے گا۔

لچکدار تجارتی ورکنگ گروپ کے تحت جو 13ویں ٹی پی ایف کے دوران شروع کیا گیا تھا، دونوں فریقوں نے ٹی اے اے کے مطابق ملک کے طور پر بھارت کو نامزد کرنے کے معاملے پر مزید غور و خوض کیا جس کے لیے جون 2023 میں وزیر اعظم کے ریاستی دورۂ امریکہ کے بعد باضابطہ بات چیت کا آغاز کیا گیا۔ ٹی اے اے کے تحت بات چیت سے بھارت اور امریکہ کے لیے سپلائی چین کے انضمام میں مدد ملے گی۔

بھارت نے وبائی مرض سے پہلے کی سطح تک پہنچنے کے لیے ملک میں یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (یو ایس ایف ڈی اے) کے معائنے کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ واضح رہے کہ امریکہ فارما مصنوعات کے لیے ہندوستان کی سب سے بڑی برآمداتی منڈی ہے۔ امریکہ کو کی جانے والی برآمدات گزشتہ 5 برسں میں 6.7 فیصد کی شرح سے نمو پذیر ہیں۔ وبائی بیماری کے پس منظر میں، یو ایس ایف ڈی اے نے ایک طویل مدت کے لیے بھارت میں معائنہ اور آڈٹ کرنا بند کر دیا تھا، اور بعد میں دوبارہ شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں بہت زیادہ کام اکٹھا ہوگیا اور اس کے اثرات پروڈکٹ کی منظوریوں اور یونٹ کی منظوریوں/ تجدید کے عمل پر مرتب ہوئے۔

وزراء نے اس بات کا ذکر کیا کہ پیشہ ورانہ اور ہنر مند کارکنوں، طلباء، سرمایہ کاروں اور ممالک کے درمیان کاروباری مسافرین کی نقل و حرکت باہمی اقتصادی اور تکنیکی شراکت داری کو بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیر گوئل نے ویزا پروسیسنگ کی مدت کی وجہ سے ہندوستان کے کاروباری مسافروں کو درپیش چنوتیوں پر روشنی ڈالی اور امریکہ سے پروسیسنگ کے عمل کو تیز کرنے کی درخواست کی۔ وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو متحرک کرنے میں پیشہ ورانہ خدمات کے کردار کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ پیشہ ورانہ قابلیت اور تجربے کو تسلیم کرنے سے متعلق مسائل خدمات کی تجارت کو آسان بنا سکتے ہیں۔

دونوں وزراء نے مخصوص ہارڈویئر کے لیے درآمداتی انتظامی نظام کے مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا  اور وزیر گوئل نے انہیں بھارت کے مقاصد، جن میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں جن کا تعلق قومی سلامتی خدشات سےہے، کے بارے میں بتایا، اور سفیر ٹائی نے اس شعبے میں سپلائی چین کی لچک کے ساجھ مقصد پر بھارت کے ساتھ اشتراک قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

وزیر گوئل نے ’یو ایس جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس پروگرام ‘کے تحت اپنے استفادہ کنندہ کی حیثیت کی بحالی میں بھارت کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔ سفیر ٹائی نے کہا کہ اس پر غور کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے مقرر کردہ اہلیت کے معیار کے سلسلے میں قابل جواز ہے۔

وزراء نے اشیاء اور خدمات میں بھارت -امریکہ کی باہمی تجارت میں مضبوط رفتار کی بھی تعریف کی جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ چنوتی بھرے عالمی تجارتی ماحول کے باوجود کیلنڈر سال 2023 میں 200 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے مابین باہمی اشیا اور خدمات کی تجارت 2014 سے تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، یہ دونوں ممالک کو فائدہ پہنچانے والی تیز رفتار ترقی کا اشارہ ہے۔

وزراء نے میٹنگ کے دوران جنوری 2023 میں منعقدہ 13ویں ٹی پی ایف کے بعد سے دوطرفہ تجارتی تعلقات پر اثر انداز ہونے والے خدشات کو دور کرنے میں ہونے والی خاطر خواہ پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) میں تمام سات دیرینہ تجارتی تنازعات کے تاریخی تصفیے سے اجاگر کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان. یہ نتائج جون 2023 میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے تاریخی سرکاری دورے اور اس کے بعد ستمبر 2023 میں جی20 سربراہی اجلاس کے لیے امریکی صدر بائیڈن کے ہندوستان کے دورے کے تناظر میں سامنے آئے۔

فعال جمہوریتوں کے طور پر، بھارت اور امریکہ دونوں فطری شراکت دار ہیں اور ان کے درمیان تجارتی دوستی ، دیرینہ تزویراتی اور اقتصادی تعلقات ہیں، اور عوام سے عوام کے درمیان رابطہ ہے۔ دونوں ممالک کواڈ، آئی 2 یو 2 (بھارت – اسرائیل / یو اے ای – یو ایس اے) اور آئی پی ای ایف (انڈوپیسفک اقتصادی فریم ورک)  اور تجارتی مکالمے کے تحت اشتراک کر رہے ہیں۔ قیادت کی سطح پر باقاعدہ تبادلے، افزوں دوطرفہ تعلقات کا ایک لازمی عنصر رہے ہیں۔ سفیر ٹائی کے دورے نے بھارت اور امریکہ کے درمیان موجودہ گہرے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا کام کیا ہے۔

**********

 

 (ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:3563



(Release ID: 1995784) Visitor Counter : 89