جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

سال 23-2022 کے دوران غیر روایتی  ایندھن سے بجلی ،کل پیداوار کاایک چوتھائی سے زیادہ: مرکزی وزیر برائے بجلی اور نئی اور قابل تجدید توانائی

Posted On: 01 AUG 2023 4:47PM by PIB Delhi

نئی اور قابل تجدید توانائی و بجلی کے مرکزی وزیر نے بتایا کہ سال 23-2022  اور رواں سال (مئی 2023 تک) کے دوران بجلی کی کل پیداوار میں غیر روایتی  ایندھن کا حصہ بالترتیب 25.44فیصد اور 22.45فیصد تھا۔

مئی 2023 میں نوٹی فائیڈ نیشنل الیکٹرسٹی پلان (جنریشن والیم I) گزٹ  کے مطابق، 27-2026کے آخر تک غیر روایتی  ایندھن پر مبنی صلاحیت کا حصہ بڑھ کر 57.4 فیصد ہونے کا امکان ہے اور اس کے 32 -2031کے آخر میں مزید بڑھ کر 68.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے ۔ 27 -2026میں غیر روایتی ایندھن پر مبنی مجموعی پیداوار کا حصہ 39فیصد اور 32 -2031میں 49فیصد ہونے کا امکان ہے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن فار کلائمیٹ چینج(یو این ایف سی سی سی) کو پیش کردہ تازہ ترین قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی) کے مطابق، ہندوستان نے غیر روایتی ایندھن پر مبنی توانائی کے وسائل سے 2030 تک تقریباً 50 فیصد مجموعی الیکٹرک پاور انسٹال کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا عہد کیا ہے۔ مزید برآں، سی او پی 26 میں وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق، نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت 2030 تک غیر روایتی  ذرائع سے 500 گیگا واٹ بجلی کی تنصیب کی صلاحیت حاصل کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ 30.06.2023 تک، کل 176.49 جی ڈبلیو ملک میں قابل تجدید توانائی کی صلاحیت نصب کی گئی ہے۔ مزید برآں، 88.81 گیگاواٹ صلاحیت زیر عمل ہے اور 51.43 گیگاواٹ صلاحیت ٹینڈرنگ کے تحت ہے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ حکومت نے ملک میں قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں دیگر چیزوں کے ساتھ، درج ذیل امور شامل ہیں:

خودکار راستے کے تحت 100 فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) کی اجازت دینا،

30 جون 2025 تک شروع کیے جانے والے منصوبوں کے لیے سولر اور ونڈ پاور کی بین ریاستی فروخت کے لیے انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آئی ایس ٹی ایس) چارجز کی چھوٹ،

سال30 -2029تک قابل تجدید خریداری کی ذمہ داری (آر پی او) کے لیے پیش رفت کا اعلان،

الٹرا میگا رینیوایبل انرجی پارکس کا قیام آر ای  ڈویلپرز کو بڑے پیمانے پر آر ای  پروجیکٹس کی تنصیب کے لیے زمین اور ٹرانسمیشن فراہم کرنا،

اسکیمیں جیسے پردھان منتری کسان اورجا سرکشا ایوم اُتھان مہابھیان(پی ایم- کسم)، سولر روف ٹاپ فیز II، 12000 میگاواٹ سی پی ایس یو اسکیم فیز II، وغیرہ۔

نئی ٹرانسمیشن لائنوں کا بچھانا اور قابل تجدید بجلی کے اخراج کے لیے گرین انرجی کوریڈور سکیم کے تحت نئے سب سٹیشن کی گنجائش پیدا کرنا،

سولر فوٹوولٹک سسٹم/آلات کی تعیناتی کے لیے معیارات کا نوٹی فکیشن ،

سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے پروجیکٹ ڈویلپمنٹ سیل کا قیام،

گرڈ سے منسلک سولر پی وی اور ونڈ پروجیکٹس سے بجلی کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل کے لیے معیاری بولی کے رہنما خطوط۔

حکومت نے احکامات جاری کیے ہیں کہ لیٹر آف کریڈٹ(ایل سی) یا پیشگی ادائیگی کے خلاف بجلی بھیجی جائے گی تاکہ آر ای  جنریٹروں کو تقسیم کرنے والے لائسنس دہندگان کے ذریعہ بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

گرین انرجی اوپن ایکسس رولز 2022 کے ذریعے قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کا نوٹیفکیشن۔

"دی الیکٹرسٹی (دیر سے ادائیگی سرچارج اور متعلقہ معاملات) ضابطہ (ایل پی ایس ضابطہ)" کا نوٹی فکیشن

تبادلے کے ذریعے قابل تجدید توانائی کی بجلی کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے گرین ٹرم آہیڈ مارکیٹ(جی ٹی اے ایم) کا آغاز۔

نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن شروع کیا گیا جس کا مقصد ہندوستان کو گرین ہائیڈروجن اور اس کے مشتقات کی پیداوار، استعمال اور برآمد کا عالمی مرکز بنانا ہے۔

یہ معلومات نئی اور قابل تجدید توانائی اور بجلی کے مرکزی وزیر جناب آر کے سنگھ نے آج یکم  اگست 2023 کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی ۔

 

ش ح۔ج ق ۔ ج

UNO-1001



(Release ID: 1976906) Visitor Counter : 57


Read this release in: Telugu , English , Punjabi