الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تحفظ سے متعلق سربراہ کانفرنس 2023 کے دوسرے دن، ہندوستان نے مصنوعی ذہانت کو   محفوظ اورقابل بھروسہ بنانے اورپلیٹ فارم کو دنیا بھر کے  


شہریوں کے لیے جوابدہ بنانے کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کیا

ہندوستان دسمبر 2023 میں ہونے والی مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی شراکتداری ( جی پی اے آئی) اور انڈیامصنوعی ذہانت( اے آئی) سربراہی اجلاس میں تمام ممالک کا خیرمقدم کرتا ہے

مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر آئرلینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا اور ہالینڈ کے ساتھ دو طرفہ میٹنگوں میں مصروف

Posted On: 02 NOV 2023 8:01PM by PIB Delhi

مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی شراکتداری کے صدر نشین کی حیثیت سے ہندوستان نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک قائدانہ موقف اختیار کیا ہے ۔ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری و الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے وزیر مملکت نے برطانیہ میں بکنگھم شائیر کے بلیچ لے پارک میں منعقد اے آئی سیفٹی سمٹ 2023 کے دوسرے دن کہا کہ ہم اس بات پر قائم ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی  تحفظ کے اصولوں اور استعمال کرنے والوں کے لئے قابل بھروسہ اور پلیٹ فارم کے لئے جوابدہ کے ذریعہ رہنمائی  کرنی چاہئے۔

وزیر موصوف نے دسمبر 2023 میں ہونےو الے آئندہ جی پی اے آئی اور انڈیا سمٹ کے لئے تمام ملکوں کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے ۔یہ دعوت نامےدو اجلاس میں وزیر موصوف کی شرکت کے پس منظر میں تھے جو’’وزارتی راؤنڈ ٹیبل: تخلیقی کارروائیاں اور مستقبل کے تعاون کے لیے اگلے اقدامات کے نام سے تھے۔یہاں انہوں نے ’’فرنٹیئرمصنوعی ذہانت اور مستقبل کے اشتراک کے خطرات کو مشترکہ  فہم کوتیار کرنے اور مصنوعی ذہانت کے لئے عالمی مواقع مشترک کرنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا ۔جہاں انہوں نے پبلک خدمات کو بڑھانے کے لئے مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے امکان کو اجاگر کیا۔

جناب راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا وژن بالکل واضح ہے،ہمیں عوام کی زندگیوں کو تبدیل کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنا چاہئے اور استعمال کرنے والے کے نقصان کو کم کرنے کے لئے تحفظ اعتماد اور جوابدہی کو یقینی بنانا چاہئے۔ان سبھی ہم خیال ملکوں میں  اس بات پرکافی زیادہ اتفاق رائے ہے جو زیادہ اچھے ، ترقی اور دنیا بھر کے شہریوں کی خوشحالی کے لئے مصنوعی ذہانت کے استعمال  کے اصول کو مشترک کرتے ہیں۔

ایک نومبر کوسمٹ میں شریک ہونے والے سبھی ملکوں نے دی بلیچ لے اعلامیہ پر اتفاد کیا تھا ۔اس دستاویز میں انسان کے ارادوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تھااور مصنوعی ذہانت کے مکمل امکان کو گہرائی سے کھوجنے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

مرکزی وزیر جناب راجیو چندر شیکھر نے برطانیہ ، آسٹریلیا، نیدر لینڈ اور آئیر لینڈ کے اپنے ہم منصوبوں کے ساتھ باہمی میٹنگیں کیں۔

مصنوعی ذہانت اور دانشورانہ املاک کے برطانیہ کے وزیر مملکت وسکاؤنٹ کیمروز کے ساتھ اپنی بات چیت میں انہوں نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے یوزر ہارم سے منسلک ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا اور آنے والے مہینوں میں اس شعبے میں ٹھوس پیش رفت کے لیے تعاون کرنے کا عہد کیا۔

وزیر موصوف نے آسٹریلیا کے صنعت اور سائنس کے وزیر ایڈ ہسک ایم پی کے ساتھ میٹنگ کی ۔اس میٹنگ میں ذہانت کے پولس تعمیر کرنے میں جاری اشتراک بڑھانے پر زور دیا گیا اور ابھرتے ہوئے اور اہم ٹیکنالوجیوں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں بھی جاری اشتراک کو بڑھانے پر توجہ مرکوز رہی ۔

اس میٹنگ کے دوران جناب راجیو چندر شیکھر نے اس اہم پیشرفت کو اجاگر کیا جو ہندوستان نے ٹیکنالوجی کو بڑھانے کے سلسلے میں کی ہیں اور کس طرح غیر مقیم ہندوستانیوں نے آسٹریلیا میں ٹیلن پول کی ویلیو میں اضافہ کیا اور اس میں تعاون دیا ۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جی 20 سربراہ کانفرنس کے بعد دنیا تیزی سے زبردست تکنیکی صلاحیت کو تسلیم کررہی ہے جو ہندوستان اور عالمی جنوب کے پاس ہے۔

انہوں نے آسٹریلیا کے صنعت  اور سائنس کے وزیر ایڈ ہسک ایم پی کے ساتھ بھی میٹنگ کی اور دونوں وزرا نے ابھرتی ہوئی اور اہم ٹیکنالوجیوں کے شعبوں کے علاوہ سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم اور سائبر سکیورٹی پر جاری اشتراک کو مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر موصوف نے اپنے ڈچ ہم منصب الگزینڈرا وان ہفیلن  کے ساتھ میٹنگ کی جو نیدر لینڈ کے ڈیجیٹلائزیشن اور سلطنت کے تعلقات کے لئے اسٹیٹ  سکریٹری  ہیں۔ بات چیت کے دوران اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ تیزی سے  اختراع کرنے والی بدلنے والی دنیا میں پہنچنے کی پوزیشن میں آنے سے کس طرح بچنا ہے۔

ہمیں جمہوری ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت  کے کرنے اور نہ کرنے پر اتفاق رائے پرپہنچنا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جدت کی تیزی سے ابھرتی ہوئی دنیا میں ہمیں پیچھے نہیں  چھوڑا جائے گا۔ جناب راجیو چندر شیکھر نے میٹنگ کے دوران کہا کہ ہمیں ممالک کے درمیان ایک ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے جو پلیٹ فارمز کے لیے گارڈ ریلیز کی وضاحت کرے، مزید یہ کہ جوابدہی کو مزید بڑھایا جائے۔

سربراہی اجلاس کے پہلے دن آئرلینڈ کے وزیر مملکت برائے تجارت فروغ، ڈیجیٹل اور کمپنی ریگولیشن، جناب دارا کیلیری کے ساتھ گزشتہ ملاقات کے دوران، دونوں وزراء نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑھتے ہوئے مواقع بڑھانے کے لئے کھوج  کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مجھے یقین ہے کہ تمام ہم خیال قومیں عالمی بھلائی کے لیے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ مصنوعی ذہانت نے ہمارے مستقبل کے لیے مواقع پیش کیے ہیں۔ آج، انٹرنیٹ پر 800 ملین سے زیادہ ہندوستانیوں کے ساتھ، ہم نے انتہائی جعلی اور غلط معلومات کی وجہ سے ہونے والے حقیقی نقصانات کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ گفتگو اب  قطعی طور پرعلمی نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں انٹرنیٹ کے ہتھیار سازی کا بھی مشاہدہ کیا ہے، جس سے ممالک کو ایک ساتھ آنے اور مستقبل کے لیےگارڈ ریلز قائم کرنے کے واسطے مصنوعی ذہانت  کے کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں بات کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

***********

ش ح ۔   ح ا  - م ش

U. No.719



(Release ID: 1975047) Visitor Counter : 88


Read this release in: English , Hindi , Marathi , Malayalam