وزارت خزانہ

اگست 2023 کے دوران 1,59,069  روپئے کروڑ جی ایس ٹی کی مجموعی آمدنی جمع کی گئی ؛ سال بہ سال 11فیصدکا اضافہ درج کیا گیا


گھریلو لین دین (خدمات کی درآمد سمیت) سے جی ایس ٹی کی آمدنی سال بہ سال 14فیصد زیادہ ہے   

Posted On: 01 SEP 2023 4:51PM by PIB Delhi

اگست 2023 کے مہینے میں جی ایس ٹی کی مجموعی جمع شدہ آمدنی  1,59,069 کروڑ روپئے ہے جس میں سےسی جی ایس ٹی  28,328 روپئے کروڑ، ایس جی ایس ٹی  35,794 روپئے کروڑ، آئی جی ایس ٹی   83,251 کروڑ روپئے ہے (بشمول   43,550   کروڑ روپئے اشیا کی درآمد پر جمع شدہ ) اور  سیس11,695 کروڑ  روپئےہے (بشمول اشیا کی درآمد پرجمع شدہ 1,016کروڑ روپئے)۔

حکومت نے 37,581 کروڑ روپے سی جی ایس ٹی اور 31,408  کروڑ روپئےایس جی ایس ٹی کو  آئی جی ایس ٹی سے طے کیے ہیں۔ باقاعدہ تصفیہ کے بعد اگست 2023 کے مہینے میں مرکز اور ریاستوں کی کل آمدنی سی جی ایس ٹی کے لیے 65,909 کروڑ روپئے اور ایس جی ایس ٹی کے لیے  67,202 کروڑ  روپئے ہے۔

اگست 2023 کے مہینے کی آمدنی پچھلے سال اسی مہینے میں جی ایس ٹی کی آمدنی سے 11فیصد زیادہ ہے۔ اس ماہ کے دوران اشیا کی درآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی 3فیصد زیادہ رہی اور گھریلو لین دین سے حاصل ہونے والی آمدنی (خدمات کی درآمد سمیت) پچھلے سال کے اسی مہینے کے دوران ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی سے 14فیصد زیادہ ہے۔

مندرجہ ذیل چارٹ موجودہ سال کے دوران ماہانہ مجموعی جی ایس ٹی آمدنی میں رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔ جدول-1 اگست، 2022 کے مقابلے میں اگست، 2023 کے ماہ کے  دوران   ریاست کے لحاظ سے جی ایس ٹی کے جمع شدہ اعدادوشمار کو ظاہر کرتا ہے اور جدول-2   اگست 2023  میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو موصول/ طے شدہ آئی جی ایس ٹی کے ایس جی ایس ٹی اور ایس جی ایس ٹی حصے کو ظاہر کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001ONE4.png

جدول-1: اگست 2023[1] میں جی ایس ٹی ریونیو میں ریاست کے لحاظ سے  سال بہ سال نمو  (روپئے کروڑ میں)

ریاست/مرکز کےزیرانتظام علاقوں کے نام

اگست 2022

اگست 2023

  نمو(فیصد)

جموں و کشمیر

434

523

21

ہماچل پردیش

709

725

2

پنجاب

1651

1813

10

چنڈی گڑھ

179

192

7

اتراکھنڈ

1094

1353

24

ہریانہ

6772

7666

13

دہلی

4349

4620

6

راجستھان

3341

3626

9

اتر پردیش

6781

7468

10

بہار

1271

1379

9

سکم

247

320

29

اروناچل پردیش

59

82

39

ناگالینڈ

38

51

37

منی پور

35

40

17

میزورم

28

32

13

تریپورہ

56

78

40

میگھالیہ

147

189

28

آسام

1055

1148

9

مغربی بنگال

4600

4800

4

جھارکھنڈ

2595

2721

5

اوڈیشہ

3884

4408

14

چھتیس گڑھ

2442

2896

19

مدھیہ پردیش

2814

3064

9

گجرات

8684

9765

12

دمن اور دیو اور دادرہ اور نگر حویلی

311

 

324

 

4

 

مہاراشٹر

18863

23282

23

کرناٹک

9583

11116

16

گوا

376

509

36

لکشدیپ

0

3

853

کیرالہ

2036

2306

13

تمل ناڈو

8386

9475

13

پڈوچیری

200

231

15

انڈمان اور نکوبار جزائر

16

21

35

تلنگانہ

3871

4393

13

آندھرا پردیش

3173

3479

10

لداخ

19

27

39

دوسرا علاقہ

224

184

(18)

مرکز کا دائرہ اختیار

205

193

(6)

مجموعی عدد

100526

114503

14

 

جدول-2: اگست 2023 میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں طے شدہ آئی جی ایس ٹی کے ایس جی ایس ٹی اور ایس جی ایس ٹی حصے کی رقم ( روپئےکروڑ میں)

 

 

ریاست /مرکزکے زیر انتظام علاقوں کے نام

ایس جی ایس ٹی وصولی

آئی جی ایس ٹی کا ایس جی ایس ٹی حصہ

میزان

جموں و کشمیر

220

420

640

ہماچل پردیش

182

210

392

پنجاب

603

1,201

1,804

چنڈی گڑھ

51

119

171

اتراکھنڈ

382

255

637

ہریانہ

1,585

1,094

2,679

دہلی

1,113

1,209

2,322

راجستھان

1,265

1,730

2,994

اتر پردیش

2,378

3,165

5,544

بہار

654

1,336

1,990

سکم

42

43

85

اروناچل پردیش

40

100

140

ناگالینڈ

23

59

82

منی پور

21

62

83

میزورم

17

54

72

تریپورہ

36

84

120

میگھالیہ

50

86

136

آسام

440

691

1,131

مغربی بنگال

1,797

1,516

3,313

جھارکھنڈ

802

120

922

اوڈیشہ

1,333

401

1,734

چھتیس گڑھ

710

488

1,198

مدھیہ پردیش

978

1,447

2,425

گجرات

3,211

1,723

4,933

دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو

51

40

90

مہاراشٹر

7,630

3,841

11,470

کرناٹک

3,029

2,627

5,656

گوا

174

111

285

لکشدیپ

0

2

2

کیرالہ

1,035

1,437

2,472

تمل ناڈو

3,301

2,212

5,513

پڈوچیری

43

51

94

انڈمان اور نکوبار جزائر

10

22

33

تلنگانہ

1,439

1,746

3,186

آندھرا پردیش

1,122

1,481

2,603

لداخ

14

43

57

دوسرا علاقہ

13

182

195

مجموعی عدد

35,794

31,408

67,202

[1]اشیا کی درآمد پر جی ایس ٹی شامل نہیں ہے۔

***

ش ح۔ اک   ۔ م  ص

 (U: 9092 )



(Release ID: 1954117) Visitor Counter : 93