کوئلے کی وزارت

جنگلاتی علاقوں کے قریب کوئلہ بلاکس کی شناخت کے لیے طے کیا گیا معیار اور حفاظتی اقدامات

Posted On: 24 JUL 2023 2:40PM by PIB Delhi

کوئلہ، کانکنی اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے تحت یہ اطلاع فراہم کی گئی کہ کوئلے کی وزارت نے سال 2018 سے 90 کوئلہ بلاکوں کی کامیاب نیلامی انجام دی ہے۔ 2018 سے کامیابی کے ساتھ نیلام کی گئیں کوئلے کی کانوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

سال

2018-19

2019-20

2020-21

2021-22

2022-23

نیلام کیے گئے کوئلہ بلاکس

0

4

20

19

47

 

کوئلے کی وزارت کے ذریعہ نیلامی کے لیے کوئلہ بلاکوں کی شناخت کرتے وقت عموماً مندرجہ ذیل معیار اور حفاظتی اقدامات پر غور کیا جاتا ہے:

  1. کوئلہ بلاکس نیشنل پارکوں، وائلڈ لائف سینچریز، ای ایس زیڈ، وائلڈ لائف کاریڈورس میں نہیں ہونے چاہئیں۔
  2. ایم او ای ایف اینڈ سی سی کے ڈسیزن سپورٹ سسٹم (ڈی ایس ایس) کا تجزیہ ۔
  •  (iii)کھوج سے متعلق جاری سرگرمیاں یا فعال سی بی ایم بلاکس کے ساتھ اووَر لیپ ہونے والی کانوں کو خارج کر دیا گیا ہے۔
  •  (iv)فی الوقت قانونی چارہ جوئی کے تحت بلاکس / کانوں کو خارج کر دیا گیا ہے۔

 

چھتیس گڑھ کے ہسدیو ارند جنگلات میں تارا بلاک اور مدھیہ پردیش میں مہان کول بلاک کی نیلامی کے لیے ایم او ای ایف اینڈ سی سی کے ساتھ مشاورت سے شناخت کی گئی۔ ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماحولیاتی طور پر حساس علاقے کے تحفظ کے مقصد سے کانکنی کے زیر زمین طریقہ کار کے سلسلے میں نیلامی کے لیے  مہان کول بلاک کو زیر غور لایا گیا ہے، جبکہ بھارتی جنگلات کی تحقیق و تعلیم کی کونسل (آئی سی ایف آر ای) دہرا کی طرف سے ہاسدیو – ارند کوئلے کی کان میں حیاتیاتی تنوع مطالعہ میں سفارشات کی بنیاد پر تارا بلاک کو نیلامی کے لیے غور کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، منظوری کا عمل، یعنی کوئلے کی کانکنی کے منصوبوں کے لیے فاریسٹ کلیرنس (ایف سی) اور ماحولیات کلیرنس (ای سی) کا انتظام ایم او ای ایف اینڈ سی سی، خصوصاً اس کی ماہر تشخیصی کمیٹی اور قانونی ادارہ ہے جسے جنگلاتی مشاورتی کمیٹی (ایف اے سی) کہا جاتا ہے۔بھارت میں ایم او ای اینڈ ایف سی سی کوئلے کی کانکنی کے منصوبے کو منظوری دینے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کی تشخیص، جنگلات اور جنگلی حیات کے اثرات، سماجی و اقتصادی اثرات، ہوااور پانی کے معیار، ماحولیاتی ضوابط کی تعمیل، عوامی مشاورت، نگرانی اور تعمیل کے طریقہ کار جیسے کئی عوامل پر غور کرتا ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ منصوبے کے پیمانے، مقام اور ممکنہ اثرات کے لحاظ سے مخصوص عوامل اور تحفظات مختلف ہو سکتے ہیں۔

حکومت نے توانائی کے عالمی بحران کے موجودہ وقت میں ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی طلب کو پورا کرنے کےلیے مختلف اقدامات کیے ہیں لیکن اس نے مختلف تخفیف کے اقدامات کو اپناکر ماحولیات کے تئیں گہری حساسیت اور احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے جس میں کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوںمیں اور اس کے آس پاس وسیع پیمانے پر شجرکاری اور کانکنی کی گئی زمینوں کو دوبارہ حاصل کرنا شامل ہے۔ کوئلے کی وزارت کے ذریعہ کیے گئے اہم اقدامات مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. کوئلے کے شعبے میں سبز پہل قدمیاں : کوئلے کی وزارت نے کوئلہ کمپنیوں کے لیے سال 2022-23 کے لیے 50 لاکھ سے زائد پودے لگانے کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں اور اس کے آس پاس کے 2400 ہیکٹر سے زائد رقبے کو سبز احاطہ میں لانے کا ایک اولوالعزم ہدف مقرر کیا ہے۔ کوئلے کے شعبے کی سبزہ کاری کے اقدامات 2030 تک اضافی جنگلات اور درختوں کے احاطے کے ذریعہ 2.5 سے 3 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اضافی کاربن تخفیف کے بھارت کے قومی سطح پر طے شدہ تعاون (این ڈی سی) کے عزم کی حمایت کرتے ہیں۔
  2. تلافی شجرکاری، انسانی سرگرمیوں سے تباہ شدہ زمینوں کی بحالی کا ایک ثابت شدہ طریقہ ہے اور کانکنی والی زمین کی تزئین کی تسلی بخش بحالی کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ اس سے کوئلے کی کانکنی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے، مٹی کا کٹاؤ رُکتا ، آب و ہوا مستحکم ہوتی ہے ، جنگلی حیات کو تحفظ حاصل ہوتا ہے، اور ہوا اور واٹر شیڈ کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے۔
  3. کوئلے کی وزارت نے ملک میں ماحولیاتی طور پر پائیدار کوئلے کی کانکنی کو فروغ دینے کے لیے ’پائیداری اور منصفانہ منتقلی‘ ڈویژن قائم کیا ہے۔
  4. کانکنی کے علاقوں میں ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینا
  5. زیر زمین کوئلہ کانکنی کو فروغ دینا

**********

 (ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:7406



(Release ID: 1942125) Visitor Counter : 71


Read this release in: English , Tamil , Telugu , Kannada