زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قدرتی طریقہ کاشت کے لیے گایوں کی پناہ گاہوں کو فروغ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 JUL 2023 4:07PM by PIB Delhi

زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے تحت یہ اطلاع فراہم کی گئی ہے کہ  حکومت ہند بھارتیہ پراکرتک کرشی پدھتی (پی بی کے پی) ، جو کہ پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) کی ایک ذیلی اسکیم ہے، کے تحت 2019-20 سے قدرتی طریقہ کاشت کو فروغ دے رہی ہے۔قدرتی طریقہ کاشت کیمکل سے مبرا کھیتی ہے جو مویشیوں اور مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مربوط زراعت اور مویشی پالن کے طریقہ کار پر مبنی ہے۔ یہ بڑی حد تک آن فارم بائیو ماس ری سائیکلنگ پر مبنی ہے جس میں بایوماس ملچنگ، مقامی مویشیوں سے آن فارم گائے کے گوبر اور پیشاب کے فارمولیشنوں کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔ بی پی کے پی اسکیم کے تحت 8 ریاستوں یعنی آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، کیرلا، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، اڈیشا، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو  کا تقریباً 4.09 لاکھ ہیکیٹئر رقبے پر احاطہ کیا گیا ہے۔ اب حکومت کا منشا مشن موڈ میں قدرتی طریقہ کاشت کو فروغ دینا ہے جس کے تحت بیجامرت، جیوامرت، نیماستر، وغیرہ جیسے قدرتی طریقہ کاشت ان پٹ پر مبنی مویشیوں کی کھیت کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔بجٹ تقریر 2023-24 میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ’’آئندہ 3 برسوںمیں ایک کروڑ کاشتکاروں کو قدرتی طریقہ کاشت کو اپنے میں سہولت فراہم کی جائے گی۔اس کے لیے 10000 بایو ان پٹ ذرائع مراکز (بی آر سی ) قائم کیے جائیں گے۔‘‘ یہ بی آر سی مراکز مقامی مویشیوں کی بنیاد پر قدرتی طریقہ کاشت کے سامان کی مسلسل فراہم کے لیے قائم کیے جائیں گے۔

 

 

**********

(ش ح –ا ب ن۔ م ف)

U.No:7297


(ریلیز آئی ڈی: 1941517) وزیٹر کاؤنٹر : 110
یہ ریلیز پڑھیں: English , Tamil , Telugu