پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

ہند-امریکہ اسٹریٹجک کلین انرجی پارٹنرشپ پر مشتركہ وزارتی بیان

Posted On: 18 JUL 2023 5:34PM by PIB Delhi

ہندوستانی وزیر پٹرولیم اور قدرتی گیس جناب ہردیپ ایس پوری اور امریكی وزیر تواناءی سکریٹری عزت مآب جینیفر گرانہوم کے درمیان آج نئی دہلی میں ہند-امریکہ اسٹریٹجک کلین انرجی پارٹنرشپ (اسكیپ) کی وزارتی میٹنگ   منعقد ہوئی۔ ملاقات کے دوران فریقین نے ممالک کے درمیان توانائی كے رُخ پردوطرفہ تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے ادراك كے ساتھ توانائی کی حفاظت کو مضبوط بنانے، صاف توانائی کی اختراع کے مواقع پیدا کرنے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد كے لیے دوطرفہ صاف توانائی کی مصروفیت اور اسكیپ کی کامیابیوں کی اہم اہمیت پر زور دیا۔

اس تناظر میں فریقین نے ان ممالک کے درمیان توانائی کی بڑھتی ہوئی تجارت کا خیرمقدم کیا جو مسلسل نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور اسكیپ کی جانب سے فراہم کردہ تجارتی شراکت داریوں کا بھی خیرمقدم کیا۔

فریقین نے ایک منصفانہ، منظم اور پائیدار توانائی کی منتقلی کے لیے کام کرنے کے اپنے عزم کی تجدید کی جو قابل اعتماد، سستی اور صاف توانائی کی فراہمی تک رسائی کو ترجیح دیتی ہے۔ اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ہندوستان اور امریکہ سب سے بڑی جمہوریتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فریقین نے نہ صرف دوطرفہ پیشرفت بلکہ توانائی کی عالمی منتقلی کے لیے بھی مشترکہ کارروائی اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

فریقین نے اہمیت كے حامل اور متحرک اسكیپ مینڈیٹ کا جائزہ لیا، جس نے گزشتہ برسوں میں صاف توانائی کے کام کے سلسلے کی وسیع وسعت میں تعاون کو گہرا اور مضبوط کیا ہے۔ اس میں صاف اور قابل تجدید توانائی، توانائی کی کارکردگی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے بیٹری ذخیرہ کرنے اور تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجیوں، گیس ہائیڈریٹس، جدید بائیو فیولز، اور ہائیڈروجن اور الیکٹرولائزر کی پیداوارمیں تعاون میں اضافہ شامل ہیں۔

اس تناظر میں فریقین نے گرین/کلین ہائیڈروجن پیدا کرنے کی اہمیت کو عالمی ڈیکاربونائزیشن کے لیے توانائی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا اور ایک دوسرے کے قومی ہائیڈروجن مشنوں کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا۔

فریقین نے اسكیپ کے پانچ ستونوں کی طرف سے دونوں ممالک میں ڈیکاربونائزیشن کے حق میں سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون کو وسیع کرنے کے لیے کیے جانے والے كاموں کا بھی خیر مقدم کیا۔ ان میںبشمول پبلک پرائیویٹ ٹاسک فورسز کے ذریعے، ریورس تجارتی مشن، وزراء کی زیر صدارت ہندوستان-امریکی کاروباری گول میز كانفرنسیں اور دیگر تجارتی مکالمے شامل ہیں۔

فریقین نے ہر ملک میں توانائی تک رسائی، اس كی ارزانی اور توانائی کے انصاف کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقین نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ کامیابی سے پرجوش آب و ہوا اور صاف توانائی کی خواہشات کو حاصل کرنے کے لیے توانائی کی منتقلی کے روڈ میپس، صلاحیت کی تعمیر، ملازمت کی مہارت، اور حکومت کی تمام سطحوں پر بہترین طریقوں کے اشتراک پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں، فریقین نے صاف توانائی کی منتقلی کی حمایت کے لیے ہندوستان میں مضر اخراج سے پاك دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔

فریقین نے 22 جون 2023 کے وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن کے مشتركہ بیان میں مثبت ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ جس میں توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز کو متعین کرنے، ان کی متعلقہ قومی ہائیڈروجن حکمت عملیوں اور لاگت میں کمی کے اہداف کی حمایت میں تعاون کو وسعت دینے اور نئی اور ابھرتی ہوئی قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز پر تعاون کو تیز کرنے كی اسكیپ کے تحت  کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔

اس مقصد کے لیے، وزراء نے ان اقدامات كا خیرمقدم کیا:

 

  • پبلک پرائیویٹ انرجی اسٹوریج ٹاسک فورس کا قیام اور صاف توانائی کی منتقلی کے لیے درکار قابل تجدید توانائی کے بڑے پیمانے پر انضمام کی حمایت کے لیے متعلقہ کوششیں؛
  • پبلک پرائیویٹ ہائیڈروجن ٹاسک فورس اور ان کی قومی ہائیڈروجن حکمت عملیوں کی حمایت میں دیگر کوششوں کے ذریعے ہائیڈروجن ٹیکنالوجیز کی تعیناتی کو تیز کرنا اور اس میں تیزی لانے کے لیے گہرے تعاون سے كام لینا، بشمول لاگت میں کمی کے مشترکہ اہداف پر توجہ مرکوز کرنا؛
  • یو ایس انڈیا نیو اور ابھرتی ہوئی قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز ایکشن پلیٹ فارم (آر ای ٹی اے پی) کا آغاز، کلیدی ٹیکنالوجیز کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے کلین انرجی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانا۔

وزراء نے مضر اخراج بالكل نہ كرنے والی گاڑیوں کے ذریعے نقل و حمل کے شعبے میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے قائدین کی ترجیح کا بھی خیرمقدم کیا اور ای-موبلٹی سیکٹر کے لیے مالی اعانت کے لیے قابل رسائی قرض اور ایکویٹی فنانسنگ کے لیے تعاون جاری رکھا۔ فریقین نے "الیکٹرک وہیکل (ای وی) فنانسنگ سروسز کی سہولت" کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جو ای-موبلٹی کے لیے وقف فنڈز تیار كرے گی۔

فریقین نے صاف توانائی کے مستقبل کی طرف منتقلی کے لیے ایک منفرد اور قابل قدر اثاثہ کے طور پر بشمول بائیو ایتھنول، قابل تجدید ڈیزل، پائیدار ہوابازی کے ایندھن اور دیگر جدید حیاتیاتی ایندھن ابھرتے ہوئے ایندھن کے میدان میں تحقیق، ترقی اور ٹیکنالوجیز کو تجارتی بنانے کے لیے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعاون کا خیر مقدم کیا۔

وزراء نے عالمی بایو ایندھن اتحاد کے قیام کے لیے وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن کے وژن کی تصدیق کی۔ وزراء نے اس کردار پر تبادلہ خیال کیا جو عالمی بایو ایندھن اتحاد مارکیٹوں کو مضبوط بنانے، عالمی بائیو ایندھن کی تجارت کو آسان بنانے، ٹھوس پالیسی کے سبق کے اشتراک کی ترقی اور دنیا بھر میں قومی بائیو ایندھن کے پروگراموں میں تکنیکی مدد فراہم كرنے میں ادا کرے گا۔

فریقین نے خطرات اور غیر یقینی صورتحال كی شدت  کم کرتے ہوئے توانائی کی منتقلی کے راستوں کو فعال کرنے کے لیے ایک مستحکم، پائیدار، متنوع، لچکدار اور عالمی سطح پر ذمہ دار صاف توانائی کی سپلائی چین کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

فریقین نے اس طرح کے شعبوں میں جاری تعاون کا بھی خیر مقدم کیا:

 

  • صاف توانائی کے نظام کی معتبریت، صلاحیت، لچک، استطاعت اور پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے بجلی کے نظام کو جدید بنانا؛
  • عمارتوں، آلات اور صنعتی شعبے میں توانائی کی کارکردگی اور تحفظ کو فروغ دینا؛
  • میتھین کی کمی کی جانچ اور رضاکارانہ اور باہمی طور پر متفق شرائط کے تحت ٹیکنالوجیز کی منتقلی اور تعیناتی سمیت تیل اور گیس کے شعبے میں اخراج کو کم کرنا؛ اور
  • ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیوں کو آگے بڑھانا تاکہ مشکل سے اخراج کم کرنے والے شعبوں کی برقی کاری اور ڈیکاربونائزیشن میں مدد ملے۔

اخراج کو کم کرنے کے لیے کاربن کی گرفت، استعمال اور ذخیرہ کرنے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، فریقین نے موجودہ تعاون کو بڑھاتے ہوئے اور جغرافیائی کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو تلاش کرنے سمیت نئے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس شعبے میں شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔فریقین نے ابھرتے ہوئے ایندھن اور ٹکنالوجی کے ستون کے تحت کاربن کیپچر، یوٹیلائزیشن اور اسٹوریج کو ورک اسٹریم کے طور پر شامل کرنے کا خیرمقدم کیا۔

فریقین نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز (یعنی، سی سی یو ایس، ہائیڈروجن)، متبادل ایندھن، اور میتھین کی کمی کی ٹیکنالوجیز کی تعیناتی کے ذریعے پورے شعبے میں اخراج کو کم کرنے کے لیے کم اخراج والی گیس ٹاسک فورس کے ذریعے شمولیت کا بھی خیر مقدم کیا۔ وزراء نے اس پلیٹ فارم کے ذریعے فراہم کی جانے والی تجارتی شراکت کا خیر مقدم کیا۔

فریقین نے مختلف ہندوستانی ایجنسیوں بشمول انڈین ریلویز، اینٹی پی سی گرین نیشنل سکلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن، اسکلز کونسل فار گرین جابز، اور فورم آف ریگولیٹرز کے ساتھ یو ایس اے آءی ڈی کے تعاون کو تسلیم کیا۔

پائیدار اور صاف توانائی کے نظام کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے فریقین نے این ٹی پی سی کے لیے گرین کیمیکلز کی فزیبلٹی پر یو ایس اے آءی ڈی کی حمایت کا خیرمقدم کیا۔

پائیدار، لچکدار اور صاف توانائی کے نظام کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے صاف توانائی کی مالیاتی پالیسی کی تشکیل میں فریقین نے  یو ایس اے آءی ڈی اور سركاری زمرے كے مضبوط ہندستانی اداروں این ٹی پی سی اور ایس جے وی این کے درمیان تعاون کا خیرمقدم کیا۔

فریقین نے کم کاربن والی ٹیکنالوجیوں کے اخراجات اور اخراج کا اندازہ لگانے کے لیے مضبوط لائف سائیکل کے جائزوں اور ماڈلنگ کی صلاحیت کی تشكیل کی اہمیت اور توانائی کی کھپت کے ماڈلنگ اور تجزیات کے لیے بہترین طریقوں کا ادراك کیا۔

دونوں اطراف نے ساوتھ ایشیا گروپ فار انرجی (ایس اے جی ای) کا آغاز کیا تاکہ ہندوستانی ایجنسیوں اور امریکی قومی لیبارٹریوں کے درمیان تحقیق، تجزیہ اور صلاحیت سازی کی سرگرمیوں كی جیسے کم کاربن ٹیکنالوجیز کے لائف سائیکل اسیسمنٹ میں ماڈلنگ کی صلاحیت اور توانائی کی کھپت پر تجزیات۔ تعمیراتی شعبے میں مدد کیا جا سکے۔

فریقین نے تیل اور قدرتی گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، صارفین کے مفادات کے تحفظ، اہلکاروں کی صلاحیت سازی اور ریگولیٹری فریم ورک کی تازہ کاری كےلیے مسابقتی منڈیوں کی ترقی كے رخ پر ایم او یو فریم ورک کے تحت پی این جی آر بی انڈیا اور ایف ای آر سی یو ایس اے کے شاندار کام کو نوٹ کیا۔

فریقین نے پی این جی آر بی انڈیا اور اے ایس ایم ای  یو ایس اے کی طرف سے پالیسیوں اور پروگراموں کو تیار کرنے اور قائم کرنے کے لیے کیے گئے کام کی بھی تعریف کی اور ان طریقہ کار كی بھی ستایش كی جو ہندوستان میں اے ایس ایم ای كے معیارات اور سرٹیفیکیشن پروگراموں اور طریقوں سے ہم آہنگ تیل اور گیس کی مارکیٹ کو فروغ دیں گے اور اسے برقرار رکھیں گے۔

آخر میں، فریقین نے ایڈوانس کلین انرجی ریسرچ (پیسر- آر) کے ساتھ ساجھے داری كے تحت دیرینہ مشترکہ تحقیق و ترقی کی تعریف کی۔ اس طرح کے تحقیق و ترقی كے اقدامات کی اہمیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے، فریقین نے پیسر- آر کی اب تک کی کامیابیوں کا خیرمقدم کیا اور جدید اسمارٹ گرڈ اور توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز پر تحقیق و ترقی كے ٹریک کے آخری سال پر روشنی ڈالی۔

امریکی اور ہندوستانی حکومتوں کی ایجنسیوں نے تعاون کے پانچ تکنیکی ستونوں 1) بجلی اور توانائی کی کارکردگی، 2) قابل تجدید توانائی، 3) ذمہ دار تیل اور گیس، 4) پائیدار ترقی، اور 5) ابھرتی ہوئی ایندھن اور ٹیکنالوجیز میں متعدد کامیابیوں کا مظاہرہ کیا ہے۔

وزراء نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسكیپ دونوں ممالک کے لیے صحت مند شرح نمو کو یقینی بناتے ہوئے ڈیکاربونائز کرنے کے ایک جامع وژن کی نمائندگی کرتا ہے اور امید ظاہر کی کہ اسكیپ کے تحت شروع کیا جانے والا کام ایک نئے اور امید افزا مستقبل کی راہ ہموار کرتا رہے گا۔

***

ش ح۔ ع س۔ ک ا



(Release ID: 1940620) Visitor Counter : 62


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Tamil