شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
گزشتہ 3 برسوں کے دوران روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کے ذریعہ شمال مشرقی خطے میں 60093 کروڑ روپے کی لاگت سے کل 4686 کلو میٹر کی قومی شاہراہوں کو منظوری دی گئی
شمال مشرقی خطے میں 1040.71 کروڑ روپے کی لاگت سے 4 آبی گزرگاہوں کے پروجیکٹوں / کاموں کو منظوری دی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAR 2023 6:15PM by PIB Delhi
حکومت ہند شمالی مشرقی خطے کی ترقی کے لئے متعلقہ وزارتوں، محکموں کے ذریعہ متعدد فلیگ شپ اور دیگر اسکیمیں چلا رہی ہیں، جس کے لئے اسکیم کے تحت منظور کی گئی مالی رقم سے مدد حاصل کی جارہی ہے۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق شمال مشرقی خطے (این ای آر) میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سمیت مجموعی ترقی کے لئے 55 غیر رعایتی مرکزی وزارتوں / محکموں کے لئے مرکزی سیکٹر اور مرکز کی طرف سے مالی امداد یافتہ اسکیموں کے لئے کم از کم 10 فیصد کی مجموعی بجٹ والی مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔ 10 فیصد جی بی ایس کے تحت مالی سال 18-2017 سے ان مرکزی وزارتوں/ محکموں کے ذریعہ اب تک 3.01 لاکھ کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔مالی سال 18-2017 سے 10 فیصد جی بی ایس کے تحت سال در سال بجٹ کا تخمینہ، ترمیمی تخمینہ اور حقیقی خرچ کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
|
10 فیصد جی بی ایس کے تحت سال در سال بجٹ کا تخمینہ، ترمیمی تخمینہ اور حقیقی اخراجات (کروڑ روپے میں)
|
|
سال
|
بجٹ کا تخمینہ
|
ترمیمی تخمینہ
|
حقیقی اخراجات
|
|
2017-18
|
43,245
|
40,972
|
39,753
|
|
2018-19
|
47,995
|
47,088
|
46,055
|
|
2019-20
|
59,370
|
53,374
|
48,534
|
|
2020-21
|
60,112
|
51,271
|
48,564
|
|
2021-22
|
68,020
|
68,440
|
70,874
|
|
2022-23
|
76,040
|
72,540
|
47,785*
|
|
میزان
|
354,782
|
333,685
|
301,565
|
|
ماخذ: متعدد برسوں کے مرکزی بجٹ کا بیان11۔
نوٹ:حقیقی اخراجات کے اعداد وشمار عارضی ہے، جو وزارت خزانہ کی منظوری پر منحصر ہیں۔
*رواں مالی سال 23-2022 کے لئے تیسرے سہ ماہی یعنی 31.12.2022 کے آخر تک کے لئے تمام 55 وزارتوں/ محکموں کا مجموعی جی بی ایس خرچ۔
|
متعلقہ مرکزی وزارتوں اور محکموں کے ذریعہ شمال مشرقی خطہ (این ای آر) کی ترقی کے لئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے متعلق کئی پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
سڑک سے رابطہ:
گزشتہ 3 برسوں کے دوران روڈ ٹرانسپورٹ او ر شاہراہوں کی وزارت کے ذریعہ 60093 کروڑ روپے کی لاگت سے کل 4686 کلو میٹر کی قومی شاہراہوں کے لئے منظوری دی گئی ہے۔ شمال مشرقی خطے میں بڑے سڑکوں کے ذریعہ رابطہ کے پروجیکٹوں میں ناگالینڈ میں 4 لین والی دیماپور- کوہما روڈ (77.87کلو میٹر)؛ اروناچل پردیش میں ناگاؤں بائی پاس سے ہولونگی تک 4 لین والی سڑک (167 کلو میٹر)؛ سکم میں بگرکوٹ سے پاکیونگ تک 2 لین والی متبادل شاہراہ (این ایس-717 اے) (152 کلو میٹر)؛ میزورم میں 2 لین والی آئیزول- توئی پانگ این ایچ-54 (351 کلو میٹر)؛ منی پور میں این ایچ-39 کے امپھال سے مورہ تک والے حصہ (20 کلو میٹر) کو 4 لین والی سڑک بنانا اور 75.4 کلو میٹر والے حصے کو 2 لین والا بنانا جیسے کام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت نے نارتھ ایسٹ اسپیشل انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ اسکیم (این ای ایس آئی ڈی ایس) اور نارتھ ایسٹ روڈ سیکٹر ڈیولپمنٹ اسکیم (این ای آر ایس ڈی ایس) کے تحت 3372.58 کروڑ روپے کی لاگت سے 77 روڈ پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔
ریل سے رابطہ:
گزشتہ 3 برسوں کے دوران شمال مشرقی ریاستوں میں کلی یا جزوی طورپر آنے والے 19 ریلوے انفرااسٹرکچر کے پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ 1909 کلو میٹر پر محیط ہیں اور ان پر کل 77930 کرو ڑ روپے خرچ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ پروجیکٹ منصوبہ بندی / منظوری / نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان میں سے 409 کلو میٹر والا حصہ مکمل ہوچکا ہے اور مارچ 2022 تک اس پر کل 30312 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔
ہوائی رابطہ:
شہری ہوا بازی کی وزارت نے 21.10.2016 کو علاقائی کنکٹویٹی اسکیم (آر سی ایس)- اڑان (اڑے دیش کا عام ناگرک) شروع کی تھی، تاکہ ملک بھر میں ہوائی رابطے میں اضافہ کیا جاسکے، خاص کر اُن علاقوں سے جہاں پر اس طرح کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور اس طرح ملک کے ہر شہری کو سستے ہوائی سفر کی سہولت فراہم کی جاسکے۔
شمال مشرقی خطے میں اڑان کے تحت کل 64 ہوائی راستوں پر کام شروع ہوچکا ہے، جن میں روپسی، تیزو، تیج پور، پاسی گھاٹ، جورہاٹ، لیلا باڑی، شیلانگ، پاکیانگ، ایٹا نگر اور دیماپور کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔ شمال مشرقی خطے میں سال 2014 میں صرف 9 ہوائی اڈے کام کررہے تھے۔ فی الحال شمال مشرقی خطے میں 16 ہوائی اڈے کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ زیرو میں ایڈوانسڈ لینڈنگ گراؤنڈ بھی کام کرنے لگا ہے۔
آبی رابطہ:
گزشتہ 3 برسوں کے دوران شمال مشرقی خطے میں 1040.71 کروڑ روپے کی لاگت سے 4آبی گزرگاہوں کے پروجیکٹوں / کاموں کو منظوری دی گئی ہے، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
|
نمبر شمار
|
پروجیکٹ/ کام
|
اخراجات (کروڑ روپے میں)
|
|
1
|
این ڈبلیو-2 کی جامع ترقی (برہمپتر ندی)
|
474
|
|
2
|
این ڈبلیو-16 کی جامع ترقی (براک ندی)
|
148
|
|
3
|
پانڈو(گواہاٹی) میں جہازوں کی مرمت کے لئے کارخانہ کی تعمیر اور پانڈو بندرگاہ (برہمپتر ندی) تک متبادل روڈ کنکٹویٹی کی تعمیر
|
388
|
|
4
|
میزورم کے لونگلئی ضلع میں کھواتھ لانگ توئی پوئی- توئی چوانگ ندی پر آئی ڈبلیو ٹی کی تعمیر
|
6.18
|
|
5
|
تریپورہ میں گمٹی ندی پر ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کی تعمیر
|
24.53
|
|
|
میزان
|
1040.71
|
مواصلاتی رابطہ:
محکمہ مواصلات نے شمالی مشرقی خطے میں مواصلاتی رابطہ کو مضبوط کرنے کے لئے شمال مشرقی ریاستوں میں کئی پروجیکٹ شروع کئے ہیں۔ ان پروجیکٹس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔ (1) اروناچل پردیش اور آسام کے 2 ضلعوں میں جاری پروجیکٹ: پروجیکٹ کی لاگت 1255.59 کروڑ روپے ہے، (2)میگھالیہ پروجیکٹ، (3)کل 1358 ٹاور کو شروع کیا گیا ہے، (4) ملک کی تمام گرام پنچایتوں (تقریباً 2.6 لاکھ) میں براڈ بینڈ کنکٹویٹی فراہم کرنے کے لئے بھارت نیٹ پروجیکٹ مرحلہ وار طریقہ سے نافذ کیا جارہا ہے، (5)بی ایس این ایل کے ذریعہ بھارت نیٹ ادیامیو (بی این یو) کے توسط سے بھارت نیٹ کا استعمال کرتے ہوئے (این ای آر سمیت) ملک بھر کی گرام پنچایتوں/ گاؤں میں 5 لاکھ ایف ٹی ٹی ایچ کنکشن فراہم کرنے کا ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیاگیا ہے، جسے یو ایس او ایف کی طرف سے مالی تعاون حاصل ہے۔ 14 مارچ 2023 تک اِس پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ملک بھر میں کل 104170 ایف ٹی ٹی ایچ کنکشن فراہم کئے جاچکے ہیں، اور (6)4جی سیچوریشن پروجیکٹ: اِس پروجیکٹ کے تحت ملک بھر کے 24680 غیر محیط گاؤں کو 4 جی سروسز فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ اس میں 6279 گاؤں میں موجودہ 2 جی/ 3 جی کو اپ گریڈ کرکے 4 جی میں تبدیل کرنے کا کام بھی شامل ہے۔ اس میں شمالی مشرقی خطے کے 5665 گاؤں بھی شامل ہیں۔
بجلی کا شعبہ:
بجلی کی وزارت نے بھی شمال مشرقی ریاستوں میں سال 2014 سے بجلی پیدا کرنے کے (ہائیڈرو/ تھرمل) پروجیکٹ شروع کئے ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی سپلائی اور تقسیم کے نیٹ ورک کو بھی مضبوط کیاگیا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں 740 میگا واٹ کے (25 میگاواٹ سے اوپر) 3 ہاہیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔ آسام میں گیس پر مبنی پاور پروجیکٹ، ایم /ایس آسام پاور جنریشن کارپوریشن لمیٹیڈ کے ذریعہ 69.755 میگاواٹ (7x9.965 میگاواٹ) کا لکھوا رپلیسمنٹ پاور پروجیکٹ 14 فروری 2018 کو شروع کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ (پی جی سی آئی ایل) ریاست میں بجلی کی سپلائی اور تقسیم کی متعدد اسکیموں کو نافذ کررہی ہے۔ مثلاً (1) 6700 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت سے بین ریاستی ٹرانسمیشن اور تقسیم کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے 6 ریاستوں (آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، تریپورہ اور ناگالینڈ) میں نارتھ ایسٹرن ریجن پاور سسٹم امپرومنٹ پروجیکٹ (این ای آر پی ایس آئی پی)، (2)9129.32 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت سے اروناچل پردیش اور سکم میں ٹرانسمیشن اور تقسیم کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے جامع اسکیم کو منظوری دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت نے نارتھ ایسٹ اسپیشل انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ اسکیم (این ای ایس آئی ڈی ایس) کے تحت 273.01 کروڑ روپے کی لاگت سے 6 پاور پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔
قابل تجدید بجلی کے شعبے میں شمال مشرقی خطہ اور سکم میں کل 578.54 میگاواٹ کے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ نصب کئے گئے ہیں۔
درج بالا کے علاوہ حکومت ہند نے شمالی مشرقی خطہ اور دیگر ریاستوں کے نوجوانوں کے درمیان رابطے کو مضبوط کرنے کے لئے ’’ یووا سنگم‘‘ شروع کیا ہے، جیسے کہ پرمپرا (روایت)، پرگتی (ترقی)، پرودیوگکی (ٹکنالوجی) اور پرسپر سمپرک (عوام کے درمیان رابطہ)۔
یہ جانکاری آج لوک سبھا میں شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر جناب جی کشن ریڈی نے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔
*********
ش ح ۔ ق ت ۔ ع ر
U. No.5202
(ریلیز آئی ڈی: 1924674)
وزیٹر کاؤنٹر : 103