صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

ایس سی اوکی  انڈیا کی صدارت


ڈاکٹر بھارتی پروین پوارنے "سیکیور ایس سی او" تھیم کے تحت   ایس سی او کے رکن ممالک کے وزرائے صحت کی میٹنگ کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی

مضبوط نگرانی کے نظام کا قیام، باہمی تعاون پر مبنی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا، نیز ایس سی او  ممالک کے درمیان طبی انسدادی اقدامات عالمی صحت کی حفاظت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اہم قدم ہیں: ڈاکٹر بھارتی پروین پوار

جدید ٹکنالوجی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ روایتی نظام کو بھی محفوظ رکھنا پورے خطے کے مریضوں کو شفا یابی کا ایک مکمل تجربہ فراہم کرے گا: جناب  سربانند سونووال

2022-23 کے لیے ایس سی او  کی صدارت ہندوستان کے پاس ہے

Posted On: 12 MAY 2023 1:30PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے آج یہاں شنگھائی باہمی تعاون آرگنائزیشن (ایس سی او ) کے رکن ممالک کے وزرائے صحت کے اجلاس کے ورچوئل طور  پر منعقد ہونے والے چھٹے اجلاس کی صدارت کی۔ آیوش کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کلیدی خطبہ دیا۔ اجلاس میں اعلیٰ سطح کے اسٹیک ہولڈرز اور شراکت داروں نے بھی شرکت کی جن میں ایس سی او کے تمام رکن ممالک کے وزرائے صحت، ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریئس، ڈائریکٹر جنرل، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور ایس سی او کے سیکریٹری جنرل جناب  جھنگ منگ شامل تھے۔

ہندوستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت کے تحت مختلف مشاورتی اور گفت و شنید میٹنگز کا انعقاد کیا جس میں ہیلتھ ایکسپرٹ ورکنگ گروپ میٹنگ اور سال بھر میں چار ضمنی پروگرام شامل ہیں۔ ایس سی او کے تمام رکن ممالک کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈاکٹر بھارتی پراوین پوار نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ بات چیت سے دنیا کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کے حصول کی سمت میں ایک قدم آگے لے جانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے تمام مندوبین کا خیرمقدم کیا اور نشاندہی کی  کہ یہ میٹنگ ہندوستانی فلسفہ ’واسودھیو کٹمبکم‘ یعنی ’پوری دنیا ایک خاندان ہے‘ کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈاکٹر بھارتی پوار نے کہا کہ بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے دیرپا مثبت اثرات پیدا کرنے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی اجتماعی کوششیں شہریوں کے لیے صحت کی حفاظت کی ضمانت دیں گی، عالمی صحت کو اقتصادی ترقی کے لیے اولین ترجیح کے طور پر بلند کریں گی، اور چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے متحدہ محاذ کو فروغ دیں گی۔

کووڈ-19 کی وجہ سے صحت کی دیکھ بھال کے عالمی منظر نامے کو درپیش بے مثال چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر پوار نے اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک متحد نقطہ نظر اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا  "حقیقت یہ ہے کہ ہم آج یہاں ہیں، مشکل وقت کے باوجود، متحد اور ایک دوسرے کے لیے پرعزم ہیں، یہ ہماری لگن اور لچک کا ثبوت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "صحت کی ہنگامی صورتحال کا جلد پتہ لگانے کے لیے مضبوط نگرانی کے نظام کا قیام اور تعاون پر مبنی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا، نیز ایس سی او  ممالک کے درمیان طبی انسدادی پیداوار، ان اہداف کے حصول کے لیے اہم اقدامات ہیں"۔

صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کے آخری میل کی فراہمی کو بہتر بنانے میں ٹیکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ "ڈیجیٹل ہیلتھ اقدامات صحت کی دیکھ بھال کے ماحولیاتی نظام کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان موجودہ خلا کو پر کر سکتی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک میں ڈیجیٹل عوامی سامان کا اشتراک صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کے شعبے میں تکنیکی ترقی کے استعمال کے ذریعے یونیورسل ہیلتھ کوریج کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد کرے گا۔

غیر متعدی بیماریوں کے بوجھ سے نمٹنے کی ضرورت پر، ڈاکٹر پوار نے "ایس سی او کے رکن کے درمیان طرز زندگی میں تبدیلی، رویے میں تبدیلی، اور صحت کی دیکھ بھال کی تمام سطحوں پر این سی ڈیز سے نمٹنے کے لیے ایک احتیاطی، پروموٹیو اور علاج کے طریقہ کار کے طور پر ایس سی او رکن ریاستوں میں  این سی ڈی خدمات کے انضمام کے ذریعے غیر متعدی بیماریوں کے مجموعی انتظام پر تعاون کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر پوار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں تعاون اور بہترین طریقوں کے تبادلے کے طریقوں کو فروغ دینے اور ان کی تلاش میں طبی قدر کے سفر کی صلاحیت کو تسلیم کریں۔ انہوں نے اجتماع کو یہ بھی بتایا کہ ہندوستان میں عالمی ادارہ صحت کے عالمی مرکز برائے روایتی ادویات (جی سی ٹی ایم) کے قیام کا مقصد ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان جدید اور روایتی دوائیوں کے نظام سے فائدہ اٹھانے میں مشترکہ کوششوں کو آسان بنانا ہے۔

آیوش کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان پر زور دیا کہ وہ خطے میں بہترین طریقوں کے اشتراک اور تبادلے کے طریقوں کو فروغ دینے اور ان کی تلاش میں طبی قدر کے سفر کی صلاحیت کو پہچاننے کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ روایتی نظام کو بھی محفوظ رکھنے سے پورے خطے کے مریضوں کو شفا یابی کا ایک مکمل تجربہ ملے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ 'ایک صحت' کے تصور نے گزشتہ 3-4 سالوں میں خاصی توجہ مبذول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "صحت اور بہبود کے لئے مجموعی نقطہ نظر انسان کے ساتھ ساتھ پوری ماحولیات بشمول حیوانات، پودوں، مٹی، ہوا، پانی، موسم وغیرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے، قدیم فلسفوں میں بیان کیا گیا ہے اور جہاں تک ایک صحت کا تعلق ہے  طب کے قدیم نظام  کے مختلف طریقوں میں اپنایا گیا ہے۔

ہندوستان کے روایتی نظام طب کے بھرپور ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب سربانند سونووال نے کہا کہ "روایتی نظام طب جیسے آیوروید صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی ایک اہم شکل ہے جو کہ جامع اور لوگوں پر مرکوز ہے"۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن رکن ممالک کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ ان کی حفاظت اور معیار کو یقینی بناتے ہوئے ادویات کے روایتی نظاموں کو فروغ دینے، ان کو منظم کرنے اور ان کو مربوط کرنے کے لیے قابل عمل پالیسیاں اور ضوابط تیار کریں۔ انہوں نے کہا "آیوروید اور یوگا ہندوستانی روایتی طب اور صحت کے نظام ہیں، جو دنیا بھر میں مقبول ہیں اور لوگ اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں"۔

ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریئس نے روشنی ڈالی کہ بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں اہم خلا کو دور کرنے کے لیے متوازی عمل جاری ہے۔ رکن ممالک پر زور دیتے ہوئے کہ وہ صحت کو لاگت کے بجائے سرمایہ کاری کے طور پر دیکھیں، انہوں نے مستقبل میں صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

جناب ایس گوپال کرشنن، خصوصی سکریٹری، وزارت صحت نے ہندوستانی صدارت کے دوران منعقد ہونے والے متعدد ضمنی واقعات کا ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا جس میں موضوع کے ماہرین نے ہندوستان کی ایس سی او کی صدارت کے تحت صحت کی اہم ترجیحات پر غور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کے لیے سرگرمیوں کے وسیع فریم ورک پر متفق ہیں۔

بھارت کے پاس شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن (ایس سی او ) کی گردشی صدارت ہے - ایک علاقائی بین الحکومتی تنظیم، جو دنیا کی 42فیصد آبادی، اس کے 22% زمینی رقبے کی نمائندگی کرتی ہے، اور عالمی جی ڈی پی  میں 20فیصد کا حصہ ڈالتی ہے اور اس میں آٹھ رکن ممالک( چین، بھارت،قزاقستان، کرغزستان، روس، پاکستان، تاجکستان، اور ازبکستان)   شامل ہیں۔

ہندوستانی ایس سی او کی صدارت کا موضوع بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے دیرپا مثبت اثر پیدا کرنا اور ایک "سیکیور ایس سی او" کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے، ایس سی او  کے لیے ہندوستان کی جانب سے جن صحت کی ترجیحات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں صحت کی ہنگامی صورتحال سے بچاؤ، تیاری اور ردعمل، ڈیجیٹل صحت، غیر متعدی امراض، اور طبی قدر کا سفر شامل ہیں۔ ہندوستان کا مقصد صحت سے متعلق تعاون میں مصروف مختلف کثیر جہتی فورمز پر بات چیت میں ہم آہنگی حاصل کرنا ہے، اس لیے یہ ترجیحات ہندوستان کی جی 20 صدارت کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔

میٹنگ کے دوران، حکام صحت کی ان ترجیحات کے بارے میں نتیجہ خیز بات چیت میں مصروف تھے جن کی نشاندہی ہندوستان نے اپنی صدارت کے لیے کی تھی۔ صحت کی ہنگامی روک تھام کے لیے گلوبل ہیلتھ آرکیٹیکچر، تیاری، اور ردعمل ڈیجیٹل صحت؛ قومی نگرانی اور نظر رکھنے  کے نظام کو مضبوط بنانا؛ اور غیر متعدی بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کثیر اسٹیک ہولڈر تعاون؛ اور ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان میڈیکل ویلیو ٹریول کے ذریعے سستی اور معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بڑھانا جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔  اس کے بعد ایس سی او کے تمام  ایس سی او رکن ممالک کے وزرائے صحت کی  طرف سے مداخلت کی گئی جنہوں نے ایس سی او اعلامیہ کو اپنانے کی امید ظاہر کرتے ہوئے ہندوستان کے حوصلہ مندانہ اور عمل پر مبنی ایجنڈے کی حمایت کی۔

اجلاس کے اختتام پر، رکن ممالک نے ایس سی او  وزرائے صحت کے چھٹے اجلاس کے حتمی بیان کو اپنایا۔ یہ اعلامیہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اچھی صحت اور بہبود کو فروغ دینے کے پائیدار ترقی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے صحت کی دیکھ بھال میں تعاون اور شراکت داری کی بنیاد رکھے گا۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے عزت مآب وزیر اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سیشن کا اختتام کیا کہ 'اتحاد میں ہماری سب سے بڑی طاقت ہے اور امید ظاہر کی کہ ایس سی او ممالک مشترکہ طور پر مشترکہ اہداف کے حصول اور ایک ایسی دنیا کی تشکیل کے لیے علاقائی تعاون کے لیے عزم کی جانب  ایک درس گاہ کے طور پر کام کریں گے، جہاں ہر کوئی برابری اور وقار کے ساتھ اور بیماری سے پاک  زندگی گزار سکے ۔

*****

 

 

U.No:5064

ش ح۔ا ک ۔س ا

 



(Release ID: 1923652) Visitor Counter : 126