سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ، وزیر اعظم جناب نریندر مودی ، بہتری کے لئے ،روایتی علم کے ساتھ مستقبل کی ٹکنالوجی کے امتزاج کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرنے کے لیے،  ہمیشہ حوصلہ افزا اور پیش قدم رہے ہیں


مرکزی وزیر نے، آج نئی دہلی میں اولین ’’روایتی علم کے ابلاغ  اور تشہیر   سے متعلق  بین الاقوامی کانفرنس (سی ڈی ٹی کے – 2023)‘‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا

ڈاکٹر سنگھ نے جدید آلات اور ٹکنالوجی کا استعمال   کرتے ہوئے ، جدید سائنسی تحقیق کے ساتھ مل کر ، روایتی علم کے بہترین اختلاط اور استعمال پر زور دیا

Posted On: 15 FEB 2023 5:36PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی کے  مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ؛ ارضی سائنسز؛ وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء  کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی ہمیشہ سے زیادہ بہتر کے لیے روایتی علم کے ساتھ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے امتزاج کو فروغ دینے کے لیے حوصلہ افزا اور پیش قدم رہے  ہیں۔

یہاں پہلی مرتبہ ’’روایتی علم کے ابلاغ اور تشہیر سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس (سی ڈی ٹی کے – 2023) ‘‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جدید آلات اور ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، جدید سائنسی تحقیق کے ساتھ، روایتی علم کے بہترین امتزاج پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی نالج ڈیجیٹل لائبریری(ڈی جی ٹی ایل) تک ہر کسی کو رسائی فراہم کرنا اس بات کا عندیہ  ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ علم کے انضمام سے عام آدمی کو کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

مرکزی وزیر نے سواستک (سائنسی طور پر توثیق شدہ ہندوستان کا  سماجی روایتی علم) بروشر، پاپولر سائنس بک اور انڈین جرنل آف ٹریڈیشنل نالج آزادی کا امرت مہوتسو کا  شمارہ بھی جاری کیا۔ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام سی ایس آئی آر -نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس آئی آر – این آئی  ایس سی پی آر)، نئی دہلی کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0010UJS.jpg

مرکزی وزیر نے واضح  کیا کہ گزشتہ 8 سالوں میں، وزیر اعظم مودی کی قیادت میں، بے کراں جیسے مقامی وسائل کو اب کئی اقدامات کے ذریعے اولین ترجیح دی جا رہی ہے، جو روایتی علم اور جدید سائنسی تحقیق کو مربوط کرنے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے بحر ہند میں کئے گئے گہرے سمندر کے مشن (روایتی طور پر ہند مہاساگر کے نام سے  معروف)، پرپل ریوولوشن کی مثالیں پیش کیں، تاکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لیوینڈر کی کاشت کو فروغ دیا جا سکے، جس کے نتیجے میں مقامی کشمیریوں کے لیے روزگار کے بڑے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002NBXO.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس پیمانے اور موضوع کی پہلی کانفرنس کی میزبانی کرنے کے لیے سی ایس آئی آر – این آئی  ایس سی پی آر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے پاس تحریری، ابلاغی اور  نفاذی علم کا سب سے وسیع اور  بیش قیمت ذخیرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ   اس بات کو ثابت کرنے  کے لئے ، سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس علم کو بہترین طریقے سے کیسے استعمال کیا جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00329NB.jpg

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ  ان دونوں کے درمیان ایک بہترین توازن تلاش کرکے کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے انضمام اور سوچے سمجھے عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لئے دنیا میں اس میدان میں برتری حاصل کرنے کا یہ بہترین وقت ہے، کیونکہ  پی ایم مودی کے دور میں، ملک کو سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے لیے  ہر طرح کی معاونت  حاصل ہورہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پی ایم مودی کی رہنمائی میں، ہندوستان چار کوویڈ 19 ویکسین تیار کرنے میں کامیاب رہا جب کہ پوری دنیا ایک ہی  بنانے کے لئے جدوجہد کر رہی تھی۔ ہندوستان  نے، 'ویکسین میتری' کے اقدامات، روایتی اور انسانی اقدار میں ہندوستان کے یقین کو اجاگر کرتے ہوئے، کئی ممالک کو ویکسین فراہم کرکے کوویڈ 19 کے خلاف عالمی جنگ میں اپنا حصہ رسدی کی۔  انہوں نے کہا کہ جب روایتی علم داؤ پر لگ جاتا ہے تو اسے بہت جلد قبول کیا جاتا ہے اور انضمام کے ساتھ وسائل کو جمع کرنے سے ہمیں جدید دور میں برتری حاصل ہوتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0040PEK.jpg

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈی جی، سی ایس آئی آر اور سکریٹری، ڈی ایس آئی آر ڈاکٹر کلیسیلوی نے کہا کہ ہم ایک سنہری دور میں رہ رہے ہیں جو سائنس اور سائنسی تحقیق کا جشن منا رہا ہے اور اس کا سہرا  وزیر اعظم مودی  کے سر  جاتا ہے، جس  میں مختلف اسکیموں کے ذریعے اسٹارٹ اپس اور محققین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔  14 اور 15 فروری 2023 کو ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں ہندوستان کی 22 ریاستوں اور امریکہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، قطر اور ترکی جیسے ممالک کے 200 سے زائد شرکاء شرکت کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ اع ۔ ق ر

U-1721



(Release ID: 1899731) Visitor Counter : 91


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Telugu