سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے جیو اسپیشل ایکو سسٹم میں اختراعات اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے ’’جیو اسپیشل ہیکاتھون‘‘ کا آغاز کیا

’’جیواسپیشل ہیکاتھون‘‘10 مارچ 2023 کو ختم ہو جائے گا؛ ہیکاتھون میں دو طرح کے چیلنج ہوں گے -  جغرافیائی انتخاب کے مسئلے کے بیانات کے بہترین حل کے لیے 4 فاتحین کی شناخت کے لیے ریسرچ چیلنج اور اسٹارٹ اپ چیلنج

نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اسٹارٹ اپس بھارت کی مستقبل کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

حکومت، صنعت اور سائنسی برادری کے درمیان صحت مند امتزاج اقتصادی نتائج میں زبردست ترقی کا سبب بنے گا اور 2030 تک بھارت کو 10 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے میں مدد کرے گا – ڈاکٹر جتیندر سنگھ

Posted On: 14 JAN 2023 3:21PM by PIB Delhi

نئی دلی،14 جنوری،2023/ سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ زمینی علوم ، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اسٹارٹ اپس بھارت کی مستقبل کی معیشت کی بنیاد ہیں۔

آج صبح یہاں "جیو اسپیشل ہیکاتھون" کا آغاز کرنے کے بعد، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہیکاتھون بھارت کے جیو اسپیشل ایکو سسٹم میں اختراعات اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دے گا۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کو ملک کی جغرافیائی معیشت کی تعمیر میں حصہ لینے اور اپنا تعاون دینے کے لیے کہا ۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ہماری نصف آبادی کی عمر 40 سال سے کم ہے اور وہ پر جوش ہیں اور یہ واضح ہے کہ بھارتی اسٹارٹ اپ معیشت نے ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے کیونکہ یہ 2022 میں 100 ویں بھارتی شروعات کے ساتھ یونیکورن کلب میں داخل ہوئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن کے مطابق، بھارت ایک جغرافیائی انقلاب کے بہت قریب ہے اور حکومت، صنعت اور سائنسی برادری کے درمیان ایک صحت مند امتزاج اقتصادی نتائج میں بردست ترقی کا سبب بنے گا اور اور اس بھارت کو سے 2030 تک10 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنس اور ٹیکنالوجی ، سروے آف انڈیا، آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد اور مائیکروسافٹ انڈیا کی تعریف کی کہ اس نے منصوبہ بندی اور جیو اسپیشل ہیکاتھون میں شرکت کی اور اس کی ڈیزائننگ کی ، انہوں نے کہا کہ اس سے  بھارت کی جیو اسپیشل حکمت عملی اور پالیسی کے لیے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم ہوگا اس پالیسی میں بھارت کو جیو اسپیشل شعبے میں ایک عالمی قاعد کی حیثیت حاصل ہوگی۔ جس سے کہ وہ صحیح معنوں میں آتم نربھر ہو جائے گا۔ انہوں نے تمام شراکت دار ایجنسیوں، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں، صنعتوں اور تھنک ٹینکس کی بھی تعریف کی، جنہوں نے مکر سنکرانتی کے پرمسرت موقع پر اس عظیم مشن میں شمولیت اختیار کی ، جسے پورے بھارت میں مختلف ناموں اور رسم و رواج کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہیکاتھون کا مقصد نہ صرف سرکاری اور نجی جغرافیائی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا ہے بلکہ ہمارے ملک کے جیو اسپیشل اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی مقاصد 2030 کے حصول کے مقصد سے ہمارے ملک کے لیے موثر پالیسی ڈویلپمنٹ، پروگرامنگ اور پروجیکٹ آپریشن کے لیے قابل اعتماد جغرافیائی معلومات ضروری ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 2020 میں خلائی شعبے کو نجی شراکت کے لیے کھولنے کے بعد، مودی حکومت نے جغرافیائی شعبے کو آزاد اور جمہوری بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ قومی جغرافیائی پالیسی کے آغاز کے ساتھ، بھارت پورے جغرافیائی شعبے میں کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کی راہ پر گامزن ہے اور یہ بھارت کی متحرک اور عالمی سطح پر مسابقتی جغرافیائی معیشت کی کلید ہوگی۔

جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی عالمی جیو اسپیشل انفارمیشن کانگریس 2022 میں افتتاحی پیغام کے دوران زور دے کر کہا تھا "جیو اسپیشل ٹیکنالوجی سے پورے ملک میں ، سب کی شمولیت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے"۔

’’جیو اسپیشل ہیکاتھون‘‘ 10 مارچ 2023 کو ختم ہو جائے گا؛ ہیکاتھون میں دو طرح کے چیلنج ہوں گے - جغرافیائی انتخاب کے مسئلے کے بیانات کے بہترین حل کے لیے 4 فاتحوں کو تلاش کرنے کے لیے ریسرچ چیلنج اور سٹارٹ اپ چیلنج ۔

سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہا کہ چیلنج کے دوران، مسئلہ کی تفصیل سے متعلق مختلف جغرافیائی ڈیٹا سیٹس تمام شرکاء کو اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور ڈیٹا پراسیسنگ، حل اور سروسنگ کے عملی ٹولز بنانے کے لیے دستیاب کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 'اوپن انوویشن' اور 'اوپن ڈیٹا شیئرنگ' کے تصور پر تعمیر کرتے ہوئے، اس چیلنج سے بھارت میں تمام جغرافیائی کمیونٹی اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

سرویئر جنرل آف انڈیا شری سنیل کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکیڈمیا، اسٹارٹ اپس اور ابھرتے ہوئے ٹیکنولوجسٹ سروے آف انڈیا اور دیگر جغرافیائی اعداد و شمار کا احاطہ کرنے والے جغرافیائی ماہرین کی ایک بڑی تعداد کے اختراعی خیالات اور طریقہ کار حاصل کرکے - مصنوعات کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔ ۔

آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر۔ پی جے نارائنن، آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد کے پروفیسر۔ رمیش لوگناتھن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر - پبلک سیکٹر، مائیکروسافٹ انڈیا، جناب نوتیج بال، اور ڈاکٹر انیتا گپتا، مشیر اور سربراہ، ڈی ایس ٹی، این ایس ٹی ای ڈی بی نے بھی آج کی تقریب میں شرکت کی۔

۔۔۔      

ش ح۔ا س۔ ت ح                                                

U 471



(Release ID: 1891572) Visitor Counter : 116