عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی ) کے ڈائرکٹر جنرل جناب بھرت لال کے مطابق حکومت تمام مرکزی اسکیموں کو جس کا عام آدمی پر بہت بڑا سماجی واقتصادی اثر پڑتا ہے صد فی صد اطمینان بخش بنانے کے لئے مشن موڈ میں کام کر رہی ہے


جناب لال گزشتہ شام حیدرآباد کے انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) میں ‘عوامی پالیسی،گورننس اور جدت طرازی’  پر کلیدی خطبہ دے رہے تھے

گاؤں اور پنچایت کی سطح پر پینے کے پانی، بجلی، کھانا پکانے کی گیس، انٹرنیٹ کنکشن   جیسی مختلف خدمات کی عالمگیریت کچھ اور نہیں بلکہ اچھی اور قابل حکمرانی کی مثال ہے: جنابِ لال

Posted On: 08 JAN 2023 2:22PM by PIB Delhi

نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی ) کے ڈائرکٹر جنرل جناب بھرت لال نے کہا کہ عام آدمی پر بہت زیادہ سماجی اور اقتصادی اثر ڈالنے والی تمام مرکزی اسکیموں کو صد فی صد اطمینان بخش بنانے کے لیے  حکومت مشن موڈ میں کام کر رہی ہے۔

انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) حیدرآباد میں ‘عوامی پالیسی، حکمرانی اور جدت طرازی’ پر کلیدی خطبہ دیتے ہوئے جنابِ لال نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے آٹھ برسوں میں پینے کے پانی، بجلی، کھانا پکانے کی گیس جیسی مختلف خدمات کو عالمگیر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔  گاؤں اور پنچایت کی سطح پر انٹرنیٹ کنکشن کچھ اور بلکہ اچھی اور قابل حکمرانی کی مثال ہے۔

جنابِ لال نے یاد دہانی کرائی  کہ 15ویں مالیاتی کمیشن (ایف سی) نے 2022-2021 سے 2026-2025 کے دوران  پنچایتوں کو  بطور گرانٹ 1.42 لاکھ کروڑ روپے کی سفارش کی ہے۔ اس کا مقصد پینے کے پانی کی فراہمی، بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور پانی کی ری سائیکلنگ؛ اور  کھلے میں رفع حاجت سے پاک  جگہوں کی صفائی اور دیکھ بھال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے گرام پنچایتوں کو پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی سے متعلق منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید فنڈز کو یقینی بنایا جائے گا اور گرام پنچایتیں سروس ڈیلیوری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مقامی عوامی سہولیات کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔ جنابِ لال نے مزید کہا کہ یہ ہندوستان کے آئین کی 73ویں ترمیم کے مطابق مقامی سیلف گورنمنٹ کو مضبوط بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

جنابِ لال نے کہا کہ گورننس، پالیسی اور جدت طرازی کا صحیح امتزاج حیرت پیدا کر سکتا ہے۔ اس رُخ پر انہوں نے گجرات کی ترقی کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ 2000-1999 میں 1.02فی صد اور 2001-2000 میں مائنس 4.89 فی صد کی اقتصادی ترقی سے گجرات نے اگلی دو دہائیوں میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی قیادت میں دوہرے ہندسے میں ترقی کی اور پھر مئی 2014 سے وزیر اعظم کے طور پر ان کے قابل عمل کردار کو دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران نہ صرف گجرات میں پانی کی کمی کو ختم کیا گیا ہے بلکہ 2001 میں کچھ کے زلزلے کے بعد آب و ہوا اور آفات سے بچنے والا انفراسٹرکچر بنایا گیا ہے۔ اس طرح گجرات جامع ترقی، دوہرے ہندسوں کی ترقی اور امکانات سے بھری سرزمین کی ایک روشن مثال یعنی سرمایہ کاری اور اختراعات کے لیے ایک پرکشش منزل بن گیا   جو سب کے لیے خوشحالی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بناتا ہے۔

این سی جی جی کے ڈی جی نے نشاندہی کی کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی-2020) کے بعد تعلیم کے شعبے میں حکومت 740 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے 3.5 لاکھ درج فہرست قبائل (ایس ٹی) طلباء کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر بلاک میں 50 فیصد سے زیادہ قبائلی آبادی اور کم از کم 20,000 ایس ٹی افراد پر مشتمل اس نوعیت کا ایل اسکول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غریب قبائلی بچوں کا بورڈنگ اسکول ہوگا، جہاں وہ معیاری تعلیم حاصل کریں گے، اپنی ثقافت سیکھیں گے، اپنے کھیلوں کو سیکھیں گے اور اس طرح یہ سلسلہ درج فہرست قبائل میں قیادت کی ترقی کا باعث بنے گا۔

جنابِ لال نے کہا کہ چاہے وہ ڈیجیٹل صحت ہو، پنچایت کی سطح پر، گاؤں کی سطح پر انٹرنیٹ ہو، اسٹارٹ اپس ایکو سسٹم یا مُدرا قرض کے ذریعے ایک نیا ہندوستان ابھر رہا ہے اور ایک عوامی خدمت گار کے طور پر یہ ہمارا فرض ہے کہ لوگوں کو ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائیں اور مواقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔

جناب لال نے یہ ذکر بھی کیا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کو 2007 میں ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے میں 60 سال لگ گئے تھے لیکن اگلے ٹریلین ڈالر کا اضافہ صرف 7 برسوں میں کیا گیا۔ اور 2014 میں ہم 2 ٹریلین کی معیشت بن گئے اور 2019 میں صرف 5 برسوں میں 3 ٹریلین کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ رفتار، پیمانہ اور مواقع خود اپنی رفتار پیدا کرتے ہیں اور موجودہ حکومت سب کو مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک فعال ماحولیاتی نظام سامنے لا رہی ہے۔

جنابِ لال نے کہا کہ 2014 میں صرف 24 فیصد خواتین میدانِ عمل کی افرادی قوت  تھیں اور پچھلے 8-7 برسوں میںیہ شرح بڑھ کر 33 فیصد ہو گئی ہے۔ اور جب ہم آمدنی دوگنی کرنے یا اگلے 25 برسوں میں تقریباً 12,000 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ ہندوستان کو ایک ترقییافتہ ملک بنانے کی بات کرتے ہیں تو افرادی قوت میں خواتین کا کردار ایک اہم کردار ہونے جا رہا ہے اور حکومت اس حکمت عملی پر سر گرمِ عمل ہے۔

جنابِ لال نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا کہ حکمرانی صحیح طرز پر کام نہ کرے تو کوئی بھی عوامی پالیسی اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتی اور آج کے دور میں اگر اسے جدت کے ساتھ ہم آہنگ نہ کیا جائے تو مطلوبہ مقصد کا حصول ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی پالیسی میں ہمیں ارادے، مقصد اور ضمانت کے بارے میں بالکل واضح ہونا ہوگا اور ہمیںیہ دیکھنا ہوگا کہ ہر ایک کو فائدہ پہنچے۔ اور آج تو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند اسی قسم کا ماحولیاتی نظام اور مواقع پیدا کرنے میں لگی ہے جس میں 140 کروڑ ہندوستانیوں میں سے ہر ایک فائدہ اٹھا سکے گا۔

***

ش ح۔ ع س۔ ک ا



(Release ID: 1889588) Visitor Counter : 88