بجلی کی وزارت

مالی سا ل 22 میں ڈسکومس کے مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات میں نمایاں کمی


بجلی کی وزارت  کمپنیوں  کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کرتی ہے

Posted On: 05 DEC 2022 12:45PM by PIB Delhi

1۔،ڈسکومس کے مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات میں مالی سال 2021  میں 22 فیصد کےمقابلے  مالی سال 2022  میں 17 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ۔

2۔سپلائی کی اوسط لاگت اوروصول ہونے والے مالیہ کے مابین واقع فرق 2021 کے مالی سال میں 0.69/ کے ڈبلو ایچ کےبقدر تھا جبکہ مالی سال 2022 میں یہ 0.22 کے ڈبلو ایچ ہوگیا۔

مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصان(اے ٹی اینڈ سی نقصان) اوراے سی ایس ۔ اے آر آر فرق ڈسکوم کی کارکردگی کے کلیدی اشارے ہیں۔ پچھلے 2 برسوں میں، ملک کے ڈسکومس کے اے ٹی اینڈ سی نقصان 21-22 فیصدپر تھا۔ بجلی کی وزارت نے کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ڈسکومس 56 کے مالی سال 2022 کے ڈیٹا کا ابتدائی تجزیہ جو کہ ان پٹ توانائی کے 96 فیصد سے زیادہ ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈسکومس کے اے ٹی اینڈ سی نقصانات میں مالی سال 2021  میں 22 فیصد کےمقابلے  مالی سال 2022  میں 17 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی۔

اے ٹی اینڈ سی کے نقصانات میں کمی سے کمپنیوں کے مالی معاملات میں بہتری آئی ہے، جس سے وہ سسٹم کو بہتر طریقے سے برقرار رکھنے اور ضروریات کے مطابق بجلی خریدنے کے قابل ہو جائیں گے جس سے  صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔اے ٹی اینڈ سی کے نقصانات میں کمی کے نتیجے میں سپلائی کی اوسط لاگت (اے سی ایس ) اور وصول ہونے والے مالیہ کے مابین واقع فرق 2021 کے مالی سال میں 0.69/ کے ڈبلو ایچ کےبقدر تھا جبکہ مالی سال 2022 میں یہ 0.22 کے ڈبلو ایچ ہوگیا۔اے سی ایس ۔ اے آر آر فرق (ریگولیٹری انکم اور یو ڈی اے وائی گرانڈ کے علاوہ یا چھوڑ کر وصول ہوئی سبسڈی کی بنیاد پر )  میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ یہ مالی سال 2021 میں 0.69 روپئے کے ڈبلو ایچ  کے بقدر رہا جبکہ مالی سال 2022 میں یہ 0.22 روپے / کے ڈبلو ایچ ہوگیا ۔

ایک سال میں اے ٹی اینڈ سی کے نقصانات میں 5 فیصد اور اے سی ایس ۔ اےآر آر  فرق میں 47 پیسے کی کمی ،وزارت بجلی کی جانب سے کیے گئے متعدد اقدامات کا نتیجہ ہے۔ 04 ستمبر 2021 کو، بجلی کی وزارت نے پی ایف سی اور آر ای سی کے پروڈنشل اصولوں پر نظر ثانی کی، بجلی کے سیکٹر کے لیے قرض دینے والی ایجنسیوں کو یہ فراہم کرنے کے لیے کہ خسارے میں جانے والے  پی ایس سی ڈسکومس اور آر ای سی سے اس وقت تک مالیہ حاصل نہیں کر سکیں گے جب تک کہ وہ ایک مخصوص ٹائم فریم کے اندر نقصانات کو کم کرنے کا منصوبہ نہیں بنالیتے اور اس کے لیے اپنی ریاستی حکومت کے وعدہ حاصل نہیں کرلیتے ۔ بجلی کی وزارت نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ڈسکام کے ذریعے تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کسی بھی اسکیم کے تحت مستقبل میں کوئی بھی امداد ڈسکام کو دستیاب ہوگی جواسی صورت میں  نقصان جھیل رہی ہے کہ وہ اپنے اے ٹی اینڈ سی نقصانات / اے سی ایس ۔اےآر آر فرق کو مخصوص سطحوں تک نیچے لانے کا کام کرے گا اور اس کے لیے اپنی ریاستی حکومت سے وعدہ حاصل کرے  گا ۔ ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم اس بات پر زور دیتی ہے کہ اسکیم کے تحت فنڈنگ صرف اس صورت میں دستیاب ہوگی جب ڈسکوم نقصان میں کمی کے متفقہ راستے پر عمل پیرا ہو۔ بجلی کی وزارت نے 15ویں مالیاتی کمیشن کے سامنے کئی پیشکشیں کیں جس کے نتیجے میں 15ویں مالیاتی کمیشن نے ریاستوں کو اپنے ڈسکوم کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر اضافی قرض لینے کی ونڈو فراہم کی۔ بجلی کی وزارت نے 07 اکتوبر 2021 کو ضابطے جاری کیے تھے جو تمام ڈسکومس کے لیے لازمی انرجی اکاؤنٹنگ اور انرجی آڈیٹنگ کے لیے فراہم کئےگئےتھے۔ 03 جون 2022 کو، بجلی کی وزارت نے دیر سے ادائیگی کے سرچارج کے ضابطے جاری کیے تھےجس میں یہ کہا گیا تھا کہ جب تک تقسیم کار کمپنیاں فوری طور پر آئی ایس ٹی ایس سے حاصل کردہ بجلی کی ادائیگی نہیں کرتی ہیں، ان کی پاور ایکسچینج تک رسائی منقطع کر دی جائے گی۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بجلی کی وزارت نے تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ بھی کام کیا تاکہ نقصان میں کمی کے اقدامات کے لیے آر ڈی ایس ایس کے تحت ضروری مالیات فراہم کی جائیں۔

مذکورہ بالا بہتری بجلی کی وزارت، ریاستی حکومتوں کے ساتھ ساتھ تقسیم کار کمپنیوں کی اصلاحات کو نافذ کرنے اور بہترین طریقوں کو اپنانے کی ٹھوس کوششوں کا نتیجہ ہے۔ نتیجے کے طور پر - بجلی کے نظام کی عملداری میں بہتری آئی ہے۔ یہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ بجلی کی مانگ بڑھ رہی ہے اور بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے پاور سیکٹر کو وسعت دینے کے لیے مزید سرمایہ کاری ضروری ہو گی۔ اور سرمایہ کاری تبھی آئے گی جب پاور سیکٹر قابل عمل رہے گا۔

**********

ش ح۔ ح ا۔ ف ر

U. No.13302



(Release ID: 1880923) Visitor Counter : 127