الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان نے مصنوعی ذہانت  پر عالمی شراکت داری  (جی پی اے آئی ) کونسل کے صدر  کا  عہدہ سنبھالا


وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر نے کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی  کی

’’ ہندوستان رکن ممالک کے ساتھ مل کر ایک اے آئی فریم ورک تیار کرنے کے لئے محنت سے کام کرے گا جو غلط استعمال کو روکنے کے لئے تحفظ کے ساتھ شہریوں کے لئے اچھا ہوگا‘‘ جناب راجیو چندر شیکھر

نیشنل ڈیٹا گورننس فریم ورک پالیسی ہندوستان کے ڈیٹا کے بندوبست سے متعلق دفتر کے ساتھ اگلی نسل کے اے آئی اسٹارٹ اپس کو محترک کرے گی : وزیرمملکت

Posted On: 21 NOV 2022 5:28PM by PIB Delhi

ہندوستان نے آج مصنوعی ذہانت پر عالمی شراکت داری (جی پی اے آئی) پر صدر نشیں کا عہدہ سنبھال لیا ہے، جو کہ  ایک ذمہ دار اورانسانوں پر مرکوزترقی  اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی حمایت کے لئے ایک بین الاقوامی پہل ہے۔

یہ انڈونیشیا  کے شہر بالی میں ہندوستان کے ذریعہ  دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کی  لیگ، جی 20 کی صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد ہوا ہے۔

الیکٹرانکس، اطلاعاتی ٹکنالوجی، ہنرمندی کے فروغ اور انترپرینیورشپ کے  وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر نے کونسل کے رخصت پذیر صدرنشیں فرانس  سے علامتی طور پر ذمہ داری سنبھالنے کے لئے ٹوکیو میں منعقدہوئی جی پی اے آئی کی میٹنگ میں  ورچوئل طریقہ سے ہندوستان کی نمائندگی کی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001DULN.jpg

 

اس موقع پر اظہار خیال  کرتے ہوئے، جناب راجیو چندر شیکھر نے کہا،  ’’ ہم رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ ایک ایسا فریم ورک وضع کیا جا سکے جس کے ارد گرد پوری دنیا کے شہریوں اور صارفین کی بھلائی کے لیےمصنوعی ذہانت کی طاقت کا بھرپور استعمال کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایاجاسکے کہ غلط استعمال اور صارف کو پہنچنے والے نقصان  سے مناسب تحفظ فراہم ہو‘‘۔

اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ  مصنوعی ذہانت  کی ٹیکنالوجی اور اختراعات میں موجودہ سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک متحرک کار ہے، وزیرموصوف نے کہا کہ ہندوستان جدید سائبر قوانین اور فریم ورک کا ایک ماحولیاتی نظام بنا رہا ہے جو کہ کھلے پن، حفاظت اور اعتماد اور جوابدہی کی تین  شرائط سے چلتا ہے۔

 

وزیرموصوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ  ہندوستان  مصنوعی ذہانت کے اردگرد  اختراعی ماحولیاتی نظام کو متحرک کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے موثر استعمال کے تئیں  پرعزم ہے ، جو کہ  ہمارے شہریوں اور پوری دنیا کے لیے بہتراوربھروسے مند ایپلی کیشنز تیار کرسکتا ہے۔

این ڈی جی ایف پی  کا مقصد غیر ذاتی ڈیٹا تک یکساں رسائی کو یقینی بنانا اور حکومتی ڈیٹا شیئرنگ کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک کو بہتر بنانے، ڈیزائن کے ذریعے رازداری اور تحفظ کے اصولوں کو فروغ دینا، اور گمنام ٹول کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اس کا مقصد حکومت کے ڈیٹا جمع کرنے اور انتظام کو معیاری بنانا بھی ہے۔ این ڈی جی ایف پی اور انڈین ڈیٹا مینجمنٹ آفس، آئی ڈی ایم او کے ساتھ مل کر اگلی نسل  کے اے آئی اور ڈیٹا  پر مبنی تحقیق اور اسٹارٹ اپ  ماحولیاتی نظام کو متحرک کرے گا۔

ڈیٹاسیٹس کے پروگرام جہاں گمنام غیر ذاتی ڈیٹا پورےاے آئی  ماحولیاتی نظام کے لیے دستیاب ہوں گے، ان کا مقصد اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو فروغ دینا ہے۔

توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت 2035 تک ہندوستانی معیشت میں967 ارب امریکی ڈالر  اور 2025 تک  ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار  میں 450 سے 500 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کرے گی۔ جو کہ ملک کے 50 کھرب امریکی  ڈالر  کے جی ڈی پی نشانہ کا 10 فیصد ہے۔

جی پی اے آئی امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، میکسیکو، نیوزی لینڈ، جمہوریہ کوریا اور سنگاپور سمیت 25  رکن ممالک کی ایک جماعت ہے ۔ ہندوستان بانی رکن کے طور پر2020 میں اس گروپ میں  شامل ہوا تھا۔ یہ مصنوعی ذہانت کے ارد گرد چیلنجوں اور مواقع کی بہتر سمجھ کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ یہ شراکت داروں اور بین الاقوامی تنظیموں، صنعت، سول سوسائٹی، حکومتوں اور تعلیمی اداروں کے سرکردہ ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت  کے ذمہ دارانہ ارتقاء کو فروغ دیا جا سکے اور ذمہ دارانہ ترقی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال  کی رہنمائی کی جا سکے جو کہ انسانی حقوق، شمولیت، تنوع، اختراع  اور معاشی ترقی  میں پنہاں ہے۔

جاپان کے داخلی امور اور مواصلات کے اسٹیٹ منسٹر جناب سوگے یوشیفومی، جاپان کے اقتصادیات  ،تجارت اور صنعت کے پارلیمانی نائب وزیر  جناب   ماکوتو ناگامینے، اور ڈیجیٹل ٹرانزیشن اور ٹیلی مواصلات کے فرانسیسی وزیر جناب  جین نوول بروت نے دیگر  سرکردہ شخصیات کے ساتھ اس پروگرام میں حصہ لیا۔

************

 

 

ش ح ۔ ف ا  ۔  م  ص

 (U: 12775)



(Release ID: 1877879) Visitor Counter : 31


Read this release in: English , Hindi , Malayalam