عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

لوک سبھا  کے اسپیکر، جناب اوم برلا نے کہا ہے کہ حق اطلاعات ( آر ٹی آئی) کا مؤثر استعمال ایک ترقی یافتہ اور بدعنوانی سے پاک  بھارت  کی تعمیر میں مدد کرے گا، جیسا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا تصور   ہے


مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ  نے کہا  کہ شفافیت اور شہریوں کی شراکتداری،  مودی گورننس ماڈل کی  امتیازی پہچان ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 NOV 2022 12:36PM by PIB Delhi

 

  •  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وگیان بھون میں ‘‘ آر ٹی آئی کے ذریعہ شہریوں پر مرکوز گورننس’’ کے موضوع  پر مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی ) کے 15ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کیا
  • سی آئی سی نے کیسوں کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، 21-2020 میں 38116 کیسز  تھے جو کم ہوکر  22-2021 میں23405 رہ گئے ہیں :  ڈاکٹر جتیندر سنگھ
  • بااختیار شہری جمہوریت کا ایک اہم ستون ہیں اور  مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) معلومات کے ذریعے لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

لوک سبھا کے  اسپیکر جناب اوم برلا نے آج کہا کہ حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی ) قانون کا بنیادی مقصد شہریوں کو بااختیار بنانا، شفافیت لانا، نظام کو بدعنوانی سے نجات دلانا اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں ملک کے لوگوں کے ہاتھ میں دینا ہے۔ وگیان بھون میں‘‘آزادی کا امرت مہوتسو: آر ٹی آئی کے ذریعے شہریوں  پر مرکوز  گورننس ’’ کے موضوع  پر منعقدہ  مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی)  کے 15ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جناب اوم برلا نے کہا کہ آر ٹی آئی کا موثر استعمال ایک ترقی یافتہ اور بدعنوانی سے پاک بھارت کی تعمیر میں مدد کرے گا،جیسا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا  تصور  ہے۔

 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0011P38.jpg

عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ شفافیت اور شہریوں  پر  مرکوز شراکتداری  مودی گورننس ماڈل کی امتیازی  پہچان ہیں۔ وگیان بھون میں ‘‘آزادی کا امرت مہوتسو: آر ٹی آئی کے ذریعہ شہریوں  پر مرکوز  گورننس’’ کے موضوع  پر منعقدہ   سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے 15ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئےڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ 2014 میں جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے، شفافیت، جوابدہی  اور شہریوں  کی مرکزیت  ،ان کے  گورننس ماڈل کی پہچان بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں انفارمیشن کمیشن کی آزادی اور وسائل کو مضبوط بنانےکےلیے ہر شعوری فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ  بااختیار شہری جمہوریت کا ایک اہم ستون ہیں اور سنٹرل انفارمیشن کمیشن معلومات کے ذریعے لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزیدکہاکہ حق ِ اطلاعات ( آر ٹی آئی) ایکٹ کوئی الگ الگ قانون نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کرنے، نظم و نسق میں شفافیت کو یقینی بنانے اور عام شہریوں  کی صلاحیتوں کی تعمیر کے وسیع بیانیے کا ایک حصہ ہے تاکہ وہ باخبر فیصلے اور صحیح انتخاب کر سکیں۔ وزیرموصوف نے مزید کہا کہ سب سے بڑھ کر یہ شہریوں اور حکومت  کے درمیان اعتماد کو پروان چڑھانے کے بارے میں ہے،جہاں دونوں کو ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہیے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002WMKR.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  مودی حکومت کے دوران ، دن یا رات کے کسی بھی حصے یا ملک و بیرون ملک کے کسی بھی حصے سے آر ٹی آئی درخواستوں کی ای- فائلنگ کے لیے 24 گھنٹے کی پورٹل سروس متعارف کرائی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موبائل پر مبنی ایپلی کیشنز، ای-فائلنگ، ای-سماعت ، ای۔اطلاع نامہ وغیرہ تیار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے معلومات کے متلاشی افراد  کو قانون کے تحت معلومات  حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔سی آئی سی کی طرف سے تیار کردہ موبائل ایپ نے شہریوں کو آسانی سے اپیلیں دائر کرنے کے ساتھ ساتھ مقدمات کی سمعی وبصری  سماعت کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے قابل بنایا۔ وزیر موصوف  نے کہا کہ اس کے نتیجے میں سنٹرل انفارمیشن کمیشن نے 21- 2020  کے 38116 کیسوں  کے مقابلےاسے کم کرکے 22-2021 میں 23405 کیسیز  کرنے میں  کامیابی حاصل کی ہے۔

          معلومات کے عروج کے دور میں اندھاددھند  طریقے سے  آر ٹی آئی درخواستیں  داخل کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے درخواست دائر کرنے سے پہلے عاجزی کے ساتھ یہ جانچنے کی اپیل کی کہ آیا مطلوبہ معلومات پہلے سے ہی عوامی  ڈومین میں موجود ہے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج تمام بڑے فیصلے اور معلومات عوامی  ڈومین میں ہیں اور ہم نے  اعتماد  اور ساکھ کے ساتھ شفافیت حاصل کی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0039IFZ.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ غیر معمولی وبائی مرض سے  درپیش چیلنجوں کے باوجود، سی آئی سی اور ایس آئی سی کی جانب سے آر ٹی آئی کی دوسری اپیلوں اور شکایات کو نمٹانے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں اور کچھ کمیشن کچھ مدت کے دوران وبائی مرض سے پہلے کے شکایتوں کے نمٹانے کے اعداد و شمار سے بھی تجاوز کر گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جون 2020 میں سی آئی سی میں 2019 کے وبائی مرض سے پہلے کے سال کے مقابلے میں زیادہ مقدمات کو نمٹایا گیا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ  یہ شکایات کی سماعت  اور نمٹانے کے لیے ورچوئل  طریق کا ر  (آڈیو-ویڈیو) میں منتقل ہونے کے اختراعی نقطہ نظر کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یہ مئی 2020 میں وبائی مرض کے مشکل وقت کے دوران تھا،  جب مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی ) نے جموں  وکشمیر کی تشکیل نو ایکٹ   2019 پاس کرنے کے بعد  نئے تشکیل کردہ  مرکز کے زیر انتظام علاقے  جموں و کشمیر سے ورچوئل وسیلے سے آر ٹی آئی کو دیکھنے، سماعت اور نمٹانے کاعمل  شروع کیا۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر اور لداخ کے درخواست دہندگان کو گھر سے آر ٹی آئی درخواستیں داخل کرنے اور یہاں تک کہ سی آئی سی میں اپیلوں کے لیے بھی اجازت دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اہم تبدیلی یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے غیر اصل باشندے   اور غیر ریاستی معاملات  بھی اب مرکز کے زیر انتظام علاقوں یا ایجنسیوں سے متعلق آر ٹی آئی دائر کرنے کے حقدار ہوں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0045NKO.jpg

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حق اطلاعات (آر ٹی آئی) کی اپیلوں کے نمٹانے میں اسی اضافے اور رفتار  کے ساتھ زیر التوامعاملات  میں مسلسل کمی کو حاصل کرنے کے لیے مرکزی اطلاعاتی کمیشن کی ستائش کی۔

 اعلی ٰانفارمیشن کمشنر جناب وائی کے سنہا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آر ٹی آئی کے ذریعے حکومت کی شفافیت اور جوابدہی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس کی وجہ سے نظام میں بدعنوانی  کےطریقوں پر بھی قابو پایا گیا ہے۔

اس موقع پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اعلیٰ اطلاعاتی  کمشنرز اور مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی ) کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔

 

*************

ش ح۔م ع ۔ رم

U-12345

 


(ریلیز آئی ڈی: 1874690) وزیٹر کاؤنٹر : 160