وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع نے لداخ کے اپنے دورے کے دوران چھ ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پھیلے 75 بی آر او انفراسٹرکچر پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا


2،180 کروڑ روپے کی کل لاگت سے 45 پل، 27 سڑکیں، دو ہیلی پیڈ اور ایک کاربن نیوٹرل ہیبی ٹیٹ تعمیر کیے گئے

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ منصوبے سرحدی علاقوں میں دفاعی تیاری اور اقتصادی ترقی کو مضبوط بنائیں گے

’’ہمارا مقصد ملک کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دور دراز کے علاقوں کی ترقی کو یقینی بنانا ہے‘‘

Posted On: 28 OCT 2022 1:59PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 28 اکتوبر، 2022 کو لداخ میں منعقدہ ایک تقریب میں بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے ذریعہ تعمیر کردہ 75 بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کیا۔ یہ 75 پروجیکٹ – 45 پل، 27 سڑکیں، دو ہیلی پیڈ اور ایک کاربن نیوٹرل ہیبی ٹیٹ – چھ ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے 20 پراجیکٹ جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) میں ہیں جبکہ لداخ اور اروناچل پردیش میں 18- 18  پراجیکٹ ؛ اتراکھنڈ میں پانچ اور دیگر سرحدی ریاستوں سکم، ہماچل پردیش، پنجاب اور راجستھان میں 14 پراجیکٹ۔

اسٹریٹجک نقطہ نظر سے اہم ان پروجیکٹوں کی تعمیر بی آر او نے ریکارڈ وقت میں 2180 کروڑ روپے کی کل لاگت سے کی ہے، جن میں سے کئی کو جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ہی کام کے موسم میں مکمل کیا گیا ہے۔ مشکل موسمی حالات کے باوجود یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے بی آر او کے عزم اور ہمت کی ستائش کرتے ہوئے وزیر دفاع نے اجاگر کیا کہ یہ منصوبے ملک کی دفاعی تیاریوں کو تقویت دیں گے اور سرحدی علاقوں کی معاشی ترقی کو یقینی بنائیں گے۔

اس تقریب کی خاص بات 14,000 فٹ کی بلندی پر ڈی-ایس-ڈی بی او روڈ پر 120 میٹر طویل کلاس 70 شیوک سیتو کا افتتاح تھا۔ یہ پل اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ اس سے مسلح افواج کی لاجسٹک نقل و حرکت میں آسانی ہوگی۔ رکشا منتری کے ذریعے ورچوئل طور پر افتتاح کیے گئے دیگر پروجیکٹوں میں دو ہیلی پیڈ، مشرقی لداخ کے ہینلے اور تھاکونگ میں ایک ایک ہیلی پیڈ شامل ہیں۔ یہ ہیلی پیڈ خطے میں بھارتی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔

اپنے اہلکاروں کے لیے 19،000 فٹ کی اونچائی پر بی آر او کے پہلے کاربن نیوٹرل ہیبی ٹیٹ کا بھی ہینلے میں افتتاح کیا گیا۔ یہ ملک کا پہلا کاربن نیوٹرل یونین ٹریٹری بننے کے لداخ کے عزم میں حصہ ڈالنے کے لیے بی آر او کی کوشش ہے۔ اس کمپلیکس کی اہم خصوصیات میں 57 اہلکاروں کی رہائش اور شدید موسم کے دوران تھرمل کمفرٹ شامل ہے۔ یہ بی آر او کو سردیوں کے بڑے حصے کے دوران موثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنائے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے ملک کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دور دراز کے علاقوں کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج کی بہادری کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے بھارت کو شمالی سیکٹر کی حالیہ صورتحال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں مدد فراہم کی۔ انھوں نے نئے 75 منصوبوں کو اس عزم کا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ یہ پل، سڑکیں اور ہیلی پیڈ ملک کے مغربی، شمالی اور شمال مشرقی حصوں کے دور دراز علاقوں میں فوجی اور سول ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کریں گے، جو ترقیاتی سلسلے کا ایک حصہ بنیں گے۔ انھوں نے سرحدی علاقوں کے ساتھ رابطے کو ملک کی مجموعی ترقی کے لیے حکومت کی توجہ کا مرکز قرار دیا۔

انھوں نے کہا، ’’آزادی کے بعد کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فقدان مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کے عروج کی ایک وجہ تھی۔ ان داخلی گڑبڑوں کے نتیجے میں سیاحوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس نے لداخ کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو بھی متاثر کیا۔ اب حکومت کی کوششوں کی وجہ سے یہ خطہ امن اور ترقی کی ایک نئی صبح کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ہمارا مقصد ملک کی تمام ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ترقی کو جاری رکھنا ہے۔ جلد ہی تمام دور دراز علاقوں کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑا جائے گا اور ہم مل کر قوم کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے میں بی آر او کا اہم رول ہے۔

اس موقع پر جناب راج ناتھ سنگھ نے چنڈی گڑھ میں تعمیر کیے جارہے ہمنک ایئر ڈسپیچ کمپلیکس اور لیہہ میں بی آر او میوزیم کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی، بھاری برفباری نیز سردیوں کی آمد  سے ، بی آر او دور دراز کے علاقوں میں جوانوں، مشینری اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی کوششوں کا استعمال کرتا ہے۔ چنڈی گڑھ میں واقع موجودہ ایئر ڈسپیچ سب یونٹ کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے تاکہ مسافر جوانوں کو راحت فراہم کی جاسکے اور زمین پر کاموں کو انجام دینے کے لیے ضروری اسٹور اور آلات کی موثر اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ بی آر او جدید ترین تھری ڈی پرنٹنگ ٹکنالوجی کو شامل کرکے چنڈی گڑھ میں نئے کمپلیکس کی تعمیر کا کام کرے گا اور ایک بار مکمل ہونے کے بعد، یہ عمارت دنیا کا سب سے بڑا تھری ڈی پرنٹڈ کمپلیکس ہونے کا دعوی کرے گی۔

اپنے جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور بی آر او کی کامیابیوں کو ادارہ جاتی شکل دینے اور ریکارڈ پر لانے کے لیے لیہہ میں ایک میوزیم قائم کیا جارہا ہے، جو معلومات اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہوگا۔ یہ عجائب گھر کی عمارت بھی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کی جائے گی اور تکمیل پر یہ دنیا کی بلند ترین تھری ڈی پرنٹڈ بلڈنگ بن جائے گی۔

***

(ش ح – ع ا – ع ر)

U. No. 11962



(Release ID: 1871572) Visitor Counter : 47