ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت

قبائلی نوجوانوں میں ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کو فروغ دینے کے لیے رانچی میں شروع کیا گیا گرامین اُدیامی پروجیکٹ، اسکل انڈیا مشن کو فروغ دیتا ہے


ہنر مندی خوشحالی کا پاسپورٹ ہے: ہنرمندی اور صنعت کاری کے فروغ کے وزیر مملکت جناب راجیو چندر شیکھر

جناب نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اتم نربھر بھارت کا راستہ اتم نربھر گاؤں، اتم نربھر قصبوں اور اتم نربھر اضلاع سے ہوتا ہوا جائے گا - جناب راجیو چندر شیکھر

پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ قبائلی علاقوں میں کثیر ہنر مند نوجوانوں کے لیے جھارکھنڈ کے رانچی میں شروع کیا گیا

Posted On: 20 AUG 2022 5:00PM by PIB Delhi

قبائلی برادریوں کی جامع اور پائیدار ترقی کے خاطر ہنر مندی کی تربیت کو فروغ دینے کے لیے ہنرمندی کے فروغ کے قومی کارپوریشن (این ایس ڈی سی) نے سیوا بھارتی اور یووا وکاس سوسائٹی کے اشتراک سے آج گرامین ادیامی پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا۔ اس پہل کے تحت کوشش ہے کہ بھارت کے نوجوانوں کو کثیر ہنرمند بنایا جائے اور انہیں معاش کے قابل بنانے کے لئے عملی مہارتیں فراہم کی جائیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے افرادی قوت میں قبائلی برادریوں کی شمولیت، ان کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں خود کفیل بنانے اور متعلقہ جغرافیوں میں انہیں شامل کرنے پر زور دیا ہے۔

قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے پروگرام کا آغاز کیا۔ ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری، نیز مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت (ایم او ایس) جناب راجیو چندر شیکھر نے ورچوئل طور پر پررونق اجتماع سے خطاب کیا اور قبائلی امور اور جل شکتی کے وزیر مملکت جناب بشویشور ٹوڈو نے اپنے حوصلہ افزا کلمات سے سامعین کو متاثر کیا۔

اس تقریب میں اہم معززین، راشٹریہ سہ سنگٹھن کے مہا منتری، جناب وی ستیش، انسوچیت جنجاتی مورچہ کے قومی صدر اور راجیہ سبھا کے رکن جناب سمیر اوراون، اور گملا، جھارکھنڈ کے ایم ایل اے جناب شیوشنکر اوراون موجود تھے۔

گرامین اُدیامی ایک منفرد کثیر ہنرمندی پروجیکٹ ہے، جس کی مالی اعانت این ایس ڈی سی کے ذریعے کی گئی ہے جس کا مقصد مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ میں 450 قبائلی طلباء کو تربیت دینا ہے۔ یہ پروجیکٹ چھ ریاستوں مہاراشٹر، راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور گجرات میں لاگو کیا جا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کا تصور وزیر مملکت اور قبائلی ایم پی راجیو چندر شیکھر نے پیش کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب ارجن منڈا نے کہا کہ ہماری پوری توجہ قبائلی آبادی کے لیے پائیدار ذریعہ معاش کو مضبوط بنانے پر ہے اور اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے

صرف قبائلی علاقوں کے لیے 85,000 کروڑ کا بجٹ منظور کیا ہے۔ ملکیت میں اضافے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ اس طرح کی اسکیموں اور اقدامات کے بارے میں بیداری پیدا ہوسکے۔ قبائلی نوجوانوں میں اتنی صلاحیت اور قابلیت ہے کہ ہمیں صرف ان کے لیے اپنی صلاحیتوں کو صحیح جگہوں پر استعمال کرنے کے لیے صحیح راستے نکالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرامین ادیامی پروجیکٹ جھارکھنڈ کے قبائلی برادریوں کے لیے انقلابی تبدیلی لانے والا ثابت ہوگا اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا صحیح مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے گرام پنچایتوں، دیہاتوں اور بلاکس پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو نوجوانوں تک ان کی ترقی کے لیے پہنچائیں۔

جناب راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں بھارت کے شاندار ماضی کو عزت دینے کے لیے آزادی کا امرت مہوتسو منایا اور پچیس سالوں سے نئے بھارت کے لیے ایک وژن امرت کال کے لیے خود کو وقف کیا۔ یہ نیا بھارت ملک کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع اور بہتر امکانات لائے گا۔ ہم سب نے کووڈ 19 کے ذریعہ درپیش چیلنجوں کا مشاہدہ کیا لیکن اس سنگین صورتحال پر بھارت نے جیت کا تجربہ بھی کیا اور ہماری کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ ہمارے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آتم نربھر بھارت کا راستہ آتم نربھر گاؤں، آتم نربھر شہروں اور آتم نربھر اضلاع سے ہوتا ہوا ہوگا۔ اس لئے ہماری قبائلی برادریاں بھارت کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کی ہماری کوششوں میں ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گرامین ادیامی پروجیکٹ نے مدھیہ پردیش میں جو کامیابی حاصل کی ہے، اسے جھارکھنڈ میں بھی ویسی ہی مقبولیت حاصل ہوگی، کیونکہ ہنر مندی کسی بھی خطے کی خوشحالی کا پاسپورٹ ہے۔

اس موقع پر جناب بشویشور ٹوڈو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک تبھی ترقی کرے گا جب شہر ترقی کریں گے اور شہر تبھی ترقی کریں گے جب ہم گاؤں کی ترقی میں سرمایہ کاری کریں گے اور اس کا ایک اہم جزو ہماری قبائلی برادریوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی ترقی کے لئے کئی امکانات کھل جائیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھی ہمارے قبائلی علاقوں کی شمولیت، مالیاتی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے اور گرامین اُدیامی پروجیکٹ یقینی طور پر ہماری قبائلی آبادی کو معاشی طور پر بااختیار بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے اقتصادی انجن کو تیز کرنے کے لیے متعدد اسکیمیں اور پائلٹ پروجیکٹس بھی شروع کیے گئے ہیں۔

تربیت کے پہلے مرحلے میں مہاراشٹر، راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور گجرات کے دیہی اور قبائلی علاقوں سے امیدواروں کو متحرک کیا گیا۔ چونکہ امیدواروں کو دیہی علاقوں سے متحرک کیا گیا تھا، اس لیے امیدواروں کو ٹرانسپورٹ، رہائش اور کھانا فراہم کیا گیا تھا تاکہ وہ وسائل کی کمی کی وجہ سے سیکھنے کے مواقع سے محروم نہ ہوں۔ بھوپال، مدھیہ پردیش میں، مئی 2022 کے مہینے میں سات بیچوں میں 157 امیدواروں کی ٹریننگ شروع ہوئی اور تقریباً 133 امیدواروں نے 27 جون 2022 کو کامیابی کے ساتھ ٹریننگ مکمل کی۔ رانچی میں پائلٹ پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کو آج شروع کیا گیا، جس کا نفاذ یووا وکاس سوسائٹی کے ذریعے رانچی میں سیوا بھارتی کیندر کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ ہنرمندی کے فروغ کی وزارت کے زیراہتمام ہنرمندی کے فروغ کے قومی کارپوریشن (این ایس ڈی سی) نے سیوا بھارتی کیندر اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر میں سیکٹر اسکل کونسلز (ایس ایس سی) کے ذریعے لیبز اور کلاس رومز کے قیام میں تعاون کیا ہے۔

پروجیکٹ کے تحت تربیت درج ذیل ملازمت کے کرداروں میں منعقد کی جائے گی جو مقامی معیشت سے متعلق ہیں۔

 

  • الیکٹریشین اور سولر پی وی کی تنصیب کے ٹیکنیشین
  • پلمبنگ اور چنائی
  • 2 پہیہ گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال
  • ای گورننس کے ساتھ آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس
  • فارم میکانائزیشن

گرامین اُدیامی یوجنا سنسدیہ پیریسنکول یوجنا کے تحت لاگو کی گئی ہے۔ جنوری 2020 میں قبائلی برادریوں کی بہتری پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے معزز ممبران پارلیمنٹ کی دو روزہ کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مختلف ماہرین اور حکومتی تنظیموں نے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا۔ مزید برآں درج فہرست قبائل کی تنظیموں نے 'پارلیمینٹری ایس ٹی کلسٹر ڈیولپمنٹ پروجیکٹ' کا مطالبہ کیا جو شروع کیا گیا ہے۔ جس کے تحت ملک کی 15 ریاستوں میں 49 کلسٹروں کا انتخاب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے 40 قبائلی ارکان پارلیمنٹ نے کیا ہے۔ ان کی قیادت میں متعلقہ کلسٹرز میں اسکیم کو نافذ کیا جائے گا۔ ہر کلسٹر میں ایک ڈیولپمنٹ ایسوسی ایٹ ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ مقرر کیا جاتا ہے۔

اس منصوبے کے تحت درج ذیل مقاصد کو حاصل کرنا ضروری ہے:

  • دیہی/مقامی معیشت میں اضافہ
  • روزگار کے مواقع کو بڑھانا
  • مقامی مواقع کی کمی کی وجہ سے جبری نقل مکانی کو کم کرنا
  • قدرتی وسائل کا تحفظ

ہنر اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے، منظم شعبوں کا قبائلی ذریعہ معاش میں قومی اوسط کے مقابلے میں بہت کم حصہ ہے۔ لہٰذا گرامین ادیامی پروجیکٹ جیسے اقدامات ان کی بہتری اور ان کی روزی روٹی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ م ع۔ع ن

 (U: 9352)



(Release ID: 1853367) Visitor Counter : 192


Read this release in: English , Hindi , Manipuri , Tamil