ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت ہند تِرپپور جیسے کپڑے کی صنعت کے 75 ہب شروع کرنا چاہتی ہے : جناب گوئل

ترپپور میں کپڑے کی صنعت براہ راست اور باالواسطہ دونوں طرح دس لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے  : جناب گوئل

کپڑے کے شعبے میں اگلے پانچ سال میں 20 لاکھ کروڑ روپے کی صنعت بننے کی صلاحیت ہے ، جس میں 10 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوں گی : جناب گوئل

اگر بھارت مجموعی سالانہ ترقی کی بنیاد پر ہر سال 8 فیصد ترقی کرے تو 30 سال کے بعد معیشت 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائے گی : جناب گوئل

Posted On: 26 JUN 2022 5:57PM by PIB Delhi

نئی دہلی،26جون، 2022/ حکومت ہند ترپپور جیسے 75 کپڑے کے مرکز قائم کرنا چاہتی ہے جس سے نہ صرف کپڑے کی مصنوعات کی برآمدات میں مدد ملے گی اور دیرپا ٹیکنالوجی کی شمولیت کی یقین دہانی ہوگی بلکہ روزگار کے لیے بھی بڑے موقعے پیدا ہوں گے۔ یہ بات ترپپور میں آج کپڑے کی صنعتوں ، کامرس و صنعت ، صارفین امور، خوراک اور تقسیم عامہ کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے ایک تقریب میں کہی۔

جناب گوئل نے کہا کہ ترپپور کی وجہ سے ملک کو فخر ہوا ہے اور وہ ہر سال 30000 ہزار کروڑ روپے مالیت کی کپڑے کی مصنوعات کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے سے 6 لاکھ لوگوں کو براہ راست اور چار لاکھ لوگوں کو باالواسطہ روزگار فراہم ہوتا ہے۔ لہذا اس سے 10 لاکھ لوگوں کو مجموعی طور پر روزگار فراہم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ 1985 میں، ترپپور سے 15 کروڑ روپے مالیت کی کپڑے کی مصنوعات برآمد کی جا رہی تھی۔ مارچ 2022 میں، ختم ہونے والے سال ترپپور سے برآمدات کا تخمینہ 30000 کروڑ روپے ہے جو تقریباً دو ہزار گنا ترقی ہے۔ خطے میں کپڑے کی صنعت کے شعبے کی اس بے مثال ترقی پر غور کرتے ہوئے 37 سال میں، ترپپور میں مجموعی سالانہ ترقی 22.87 فیصد ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترپپور میں روزگار کے بے شمار موقعے ہیں ۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ ان موقعوں سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کو تربیت بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ فی الحال ترپپور میں کپڑے کے شعبے میں تقریباً  70 فیصد لوگ خواتین  اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ پورے بھارت میں تقریباً 4 -3.5 کروڑ لوگ صرف کپڑے کے شعبے کی ویلیو چین میں سرگرم ہیں۔ زراعت کے بعد کپڑے کی صنعت ہے جو لوگوں کو سب سے بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتی ہے۔ اس صنعت میں تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی تجارتی ہوتی ہے جس میں سے برآمدات سے آنے والی رقم تقریباً 3.5 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ کپڑے کے شعبے میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ یہ اگلے پانچ سال میں 20 لاکھ کروڑ روپے کی صنعت بن سکتی ہے جس میں 10 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوں گی۔ اس کے باوجود 8-7.5 کروڑ روپے کی اوسط برآمدات کا نشانہ اور تقریباً 20 لاکھ کروڑ روپے کی مصنوعات سازی کا نشانہ اگلے پانچ سال کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کووڈ اور دیگر ملکوں کے مابین جنگ کی وجہ سے ، بھارت کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں بھی بات کی۔

جناب گوئل نے کہا کہ اگر بھارت مجموعی سالانہ ترقی کی بنیاد پر ہر سال 8 فیصد ترقی کرتا ہے تو معیشت 9 سال کے عرصے میں دوگنا جائے گی جو 6.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت ہوگی۔ اسی طرح اب سے 18 سال بعد بھارت کی معیشت کے 13 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جانے کی پیش گوئی ہے۔ اب سے 27 سال بعد معیشت کی ترقی 26 ٹریلین ڈالر کی بتائی جاسکتی ہے۔ لہذا 30 سال بعد یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ بھارت 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ترپپور ہزری، بنُے ہوئے  ملبوسات ، کیزول ملبوسات، اسپورٹس ویئر کا ایک سرکردہ مرکز ہے اور روئی  دھننے کا ایک روایتی مرکز ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل سیترا کے اپنےدورے میں انہوں نے بہت سے اختراعی پروجیکٹ دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سیترا میں سینٹری نیپکن مشینری پر صحت کی وزارت کے ساتھ کام کرے گا تاکہ پی ایم جن اوشدھی یوجنا کے تحت کم قیمت والے سینیٹری نیپکن فراہم کیے جا سکیں۔

جناب گوئل نے ترپپور میں برآمد کاروں کی میٹنگ و خیرمقدمی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے بھارت کی برآمداتی تنظیموں اور ملبوسات کی برآمدات کی ترقیاتی کونسل کی فیڈریشن کے نمائندگان کے ساتھ میٹنگ کی۔

اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر مملکت جناب ایل موروگن نے اپنے خطاب میں ایف ٹی اے ایس کے فوائد کو اجاگر کیا جس پر حال ہی میں دستخط کیے گئے ہیں جس سے ملک کو کئی گنا ترقی کرنے میں مدد ملے گی۔ لاجسٹکس پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے پی ایم گتی شکتی اور نیشنل ماسٹر پلان جیسے انقلابی اقدامات سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کو بہتر بنانے اور وقت اور بجٹ کے اندر اندر پروجیکٹوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

اے ای پی سی کے نائب چیئرمین جناب سدھیر  سیکھری نے اپنے خطاب میں نئی ٹکنالوجی کو شامل کرنے کے فنڈ کی اسکیم کے اعلان کےلیے درخواست کی۔ انہوں نے ملبوسات کے شعبے کےلیےمصنوعات سازی سے متعلق ترغیبی اسکیم کا اعلان کیا۔

۔۔۔

 

                  

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                              

U - 6915



(Release ID: 1837195) Visitor Counter : 25