ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات اور جنگلات کی وزارت اور سی سی نے جنگلات کو ختم کیے جانے اور خشک سالی کے دن کا اہتمام کیا

ماحولیات کے تئیں بیداری والے طرز زندگی کو اجتماعی تحریک بنانے کی ضرورت ہے : جناب بھوپیندر یادو

مرکزی وزیر نے بھارت کے جنگلات کے معیارت جاری کیے

ایف ایس سی جنگلات کے سرٹیفکیشن سے آتم نربھر مقاصد اور بھارت کے بین الاقوامی عزایم کو مدد ملے گی

Posted On: 17 JUN 2022 2:24PM by PIB Delhi

نئی دہلی،17 جون، 2022/ ماحولیات ، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وزارت نے آج جنگلات کو ختم کیے جانے اور خشک سالی کے دن کے تئیں بیداری لانے کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا۔ یہ سرگرمیاں ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو کی صدارت میں انجام دی گئیں۔  یہ دن وزارت کی طرف سے ہر سال اس سے مقصد سے منایا جاتا ہے کہ بھارت اور دنیا کو درپیش ماحولیات  اور اقتصادی تشویش نے زمین کے اہم رول کو سمجھنے کے لیے بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کی جائے۔

اس تقریب سے افراد اور گروپوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ ایسے اقدام کریں کہ ان سے زمین زرخیز اور پیداواریت سے بھرپور رہے۔ اس تقریب میں بنّنی گراس لینڈ کی بحالی پر کیے گئے اقدامات  ، صحراؤں کی بھارت کی ماحول دوست بحالی کے تجربات ، جنگلات سے متعلق سرٹیفکیشن اور کی گرتی ہوئی حالت کو معمول پر لانے جیسے مختلف پہلوؤں پر پرزینٹیشن دیئے گئے۔

مرکزی وزیر نے بھارت کے جنگلات کے اسٹوارڈ شپ کونسل کے معیارات بھی جاری کیے۔ بھارت کے لیے مخصوص اس رضاکارانہ جنگلاتی مینجمنٹ کے معیار سے تیسرے فریق کے ذریعے مختلف اصولوں ، طریقۂ کار اور عندیوں کے لیے جنگلات کی ملکیت کا حساب کتاب رکھنے کے عمل میں ایک رفتار پیدا ہوگی۔ جنگلات کا سرٹیفکیشن ، جنگلات کو ختم کیے جانے کی روک تھام اور جنگلات کی دیرپائیگی کو قائم رکھنے کا ایک اہم طریقۂ کار ہے۔ ایف ایس سی جنگلات سرٹیفکیشن سے آتم نربھر بھارت کے مقاصد کو حاصل کرنے اور ایس ڈی جی ، سی بی ڈی ، یو این سی سی ڈی، یو این ایف سی سی سی اور بون چیلنج کے تحت ہمارے بین الاقوامی عزائم کو پورا کرنے کی جانب ملک کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

اس موقعے پر ترقی پسند کسان اور ماحول کا تحفظ کرنے والے جناب سندا رام ورما ، پدم شری انعام یافتہ 2020 اور پدم شری ایوارڈ یافتہ 2020 جناب ہمت رام بھامبھو نے جنگلات کو ختم کیے جانے اور زمین کی ابتر حالت کے سے نمٹنے پر اپنے تجربات کا اظہار کیا۔

پروگرام میں آئی ایف ایس ، جناب چندر پرکاش گویل ، جنگلات کے ڈائریکٹر جنرل اور ایم او ای ایف و سی سی کے خصوصی سکریٹری نے جنگلات کو ختم کیے جانے کی روک تھام کے لیے ایک خاکے پر روڈ میپ بھی شامل ہے۔ جس کے بعد ایم او ای ایف و سی سی کی سکریٹری محترمہ لیلا نندن نے کلیدی خطبہ دیا جس میں دونوں افسران نے خطرات اور  مشترکہ لائحہ عمل کے بارے میں بات چیت کی۔

مرکزی وزیر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت زمین کی ابتری کے معاملے کو بین الاقوامی  سطح پر لایا ہے تاکہ ماحولیات کا تحفظ کیا جا سکے۔ بھارت نے ستمبر 2019 میں جنگلات کو ختم کرنے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنوینشن کوپ 14 کی میزبانی کی تھی۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ بھارت زمین کی ابتری کو معمول پر لانے اور 2030 تک ابتر زمین کے 26 ایم ایچ اے کے قومی عزائم کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔

جناب یادو نے وزیراعظم کی طرف سے متعارف کرائے گئے ایک لفظ منتر، لائف کا بھی ذکر کیا ، جس کا مطلب ہے ماحولیات کے لیے طرز زندگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اپنے موجودہ طرز زندگی کے انتخاب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سختی سے محسوس کیا کہ آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے نا سمجھ اور تباہ کن استعمال کے بجائے شعوری اور جان بوجھ کر استعمال ہے  اور اسے ماحولیات کے بارے میں شعوری طرز زندگی کی ایک عوامی تحریک بننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زراعت اور زمین کی بہتری میں کام کرنے کے لیے مقامی علم کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے وزارت سے کہا کہ وہ 8 دیگر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ رابطہ قائم کرے جو زمین کے کٹاؤ کی بحالی میں ملوث ہیں۔ وزیر موصوف  نے زمین کے انتظام میں خواتین کے کردار پر زور دیا۔  وزیر نے نتیجہ اخذ کیا کہ ڈیزرٹیفیکیشن کا مقابلہ مشن موڈ میں کیا جانا چاہئے۔

۔۔۔

 

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                              

U - 6597



(Release ID: 1834828) Visitor Counter : 36