بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت

کھادی نے 22-2021 میں  ایک لاکھ کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ ہندوستان میں تمام ایف ایم سی جی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑا

Posted On: 30 APR 2022 12:36PM by PIB Delhi

کھادی اور گاؤں کی صنعت سے متعلق کمیشن (کے وی آئی سی ) نے  ایک نئی بلندی کو حاصل کیا ہے جو ہندوستان میں تمام ایف ایم سی جی  کمپنیوں کے لیے ایک دور کا ہدف ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے مسلسل تعاون کی بدولت، کے وی آئی سی نے پہلی بار 1.15 لاکھ کروڑ روپے کا زبردست کاروبار حاصل کیا ہے، جوملک میں کسی بھی ایف ایم سی جی کمپنی کے لئے  غیرمعمولی ہے ۔ کے وی آئی سی اس کارنامے کو حاصل کرنے والی ملک کی واحد کمپنی ہے، جس نے ایک  لاکھ کروڑ روپے کا  لین دین کیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے ۔

مالی سال 22-2021 میں، کے وی آئی سی کا کل کاروبار 1,15,415.22 کروڑ روپے رہا جو پچھلے سال یعنی 21-2020 میں 95,741.74 کروڑ روپے تھا۔ اس طرح کے وی آئی سی نے سال 21-2020 سے 20.54 فیصد کا اضافہ درج کیا ہے اور سال 15-2014 کے مقابلے میں 22-2021 میں کھادی اور گاؤں کی صنعتوں کے شعبوں میں کل پیداوار میں 172 فیصد کا زبردست اضافہ درج کیا  گیاہے، جبکہ اس مدت کے دوران مجموعی فروخت میں 248 فیصد کااضافہ ہوا ہے۔ کے وی آئی سی نے پہلے 3 مہینوں میں یعنی اپریل سے جون 2021 میں کووڈ19وباکی دوسری لہر کی وجہ سے ملک میں جزوی لاک ڈاؤن کے باوجود اس وسیع کاروباری ہدف کو حاصل کیا ہے۔

پچھلے ایک سال کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو کھادی سیکٹر میں سب سے زیادہ ترقی دیکھی جا سکتی ہے، جس نے 21-2020 میں 3528 کروڑ روپے  کے ساتھ  43.20 فیصد کا اضافہ درج کیا ہے اور اور 22-2021 میں یہ  5052 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ پچھلے 8 سالوں میں، یعنی 15-2014 سے 2021-22 تک، کھادی کے شعبے میں  191 فیصد پیداوار ہوئی ہے، جب کہ کھادی کی فروخت میں 332 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔

دوسری طرف، صرف دیہی صنعتوں کے شعبے میں کاروبار 22-2021 میں 1,10,364 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے جو پچھلے سال میں 92,214 کروڑ روپے تھا۔ گزشتہ 8 سالوں میں، 22-2021 میں دیہی صنعتوں کے شعبے میں پیداوار میں 172 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ فروخت میں 245 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب ونے کمار سکسینہ ملک میں کھادی کو فروغ دینے کے لیے  کھادی کی غیر معمولی ترقی کا سہرا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے مسلسل تعاون  سے منسلک کیا ہے ۔  نیز، اختراعی اسکیمیں، تخلیقی مارکیٹنگ کے خیالات اور مختلف وزارتوں کے فعال تعاون نے بھی حالیہ برسوں میں کھادی کی ترقی میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر "سودیشی" اور "کھادی" کو فروغ دے کر خود انحصاری حاصل کرنے کی وزیر اعظم کی بار بار کی اپیلوں نے حیرت انگیز کام کیا ہے۔ آج کھادی ملک کی تمام ایف ایم سی جی کمپنیوں سے بہت آگے ہے۔ اختراعی سائنسی طریقوں کو بروئے کار لا کر اور کھادی کی مصنوعات کی رینج کو متنوع بنا کر، کے وی آئی سی اتنی بڑی ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ کوئی دوسری ایف ایم سی جی  کمپنی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لوگوں نے وزیر اعظم کے "آتم نر بھر بھارت" اور "وکل فار لوکل" کے مطالبے کا پرجوش ردعمل کا اظہار کیا ہے۔  گزشتہ کچھ برسوں کے دوران، کے وی آئی سی کی بنیادی توجہ کاریگروں اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار پیدا کرنا ہے۔ معاشی بحران کا سامنا کرتے ہوئے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے پی ایم ای جی پی کے تحت خود روزگار اور مینوفیکچرنگ کی سرگرمیاں شروع کیں جس کی وجہ سے دیہی صنعتوں کے شعبے میں پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم کی دیسی مصنوعات خریدنے کی اپیل کے بعد، کھادی اور گاؤں کی صنعتوں کی مصنوعات کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ اس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں اس کے فلیگ شپ اسٹور پر کھادی کی ایک دن کی فروخت بھی 30 اکتوبر 2021 کو 1.29 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

 

 

************

ش ح۔ف ا ۔ م  ص

 (U: 4925)

 

                          



(Release ID: 1822875) Visitor Counter : 196