کامرس اور صنعت کی وزارتہ

جناب پیوش گوئل نے ریاستوں سے زور دیکر کہا کہ وہ این آئی سی ڈی سی پروجیکٹوں کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھائیں اور صنعتی نوڈس اور کلسٹرز میں زمین کے حصول اور الاٹمنٹ کے لیے ایک آخری تاریخ مقرر کریں


زمین پر قبضہ نہیں ہونا چاہیے لیکن جلد ہی ایسے یونٹس قائم کیے جائیں جو نئی ٹیکنالوجیز کو جذب کرنے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا باعث بنیں: جناب پیوش گوئل

دنیا ہمارے ساتھ کاروبار کرنا چاہتی ہے اور اس موقع سے فائدہ اٹھانا اب ہم پر ہے: جناب پیوش گوئل

Posted On: 22 APR 2022 1:47PM by PIB Delhi

 

تجارت اور صنعت، امور صارفین، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم اور ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ این آئی سی ڈی سی پروجیکٹوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھائیں اور صنعتی نوڈس اور کلسٹرز میں زمین کے حصول اور الاٹمنٹ کے لیے ایک آخری تاریخ مقرر کریں۔

گزشتہ رات یہاں قومی صنعتی راہداری کے ترقیاتی پروگرام پر سرمایہ کاروں کی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ ‘‘18 ریاستوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ بہت جلد کریں، زمین کی پیشکش کریں، بصورت دیگر ہم ان پروجیکٹوں کو بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ انہیں دوسری ریاستوں کو دیدیں جو شاید سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لئے خواہاں ہوں۔’’

تاہم وزیر موصوف نے متنبہ کیا کہ زمینوں پر قبضہ نہیں ہونا چاہیے لیکن جلد ہی ایسے یونٹس قائم کیے جائیں جو نئی ٹیکنالوجیز کو جذب کرنے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا باعث بنیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘بالآخر قوم کے اثاثوں کو اچھے استعمال میں لانا ہوگا۔ جیسا کہ ہم بزنس مینیجمنٹ کی اصطلاح میں کہتے ہیں،آئیے اپنے اثاثوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، آئیے جو بھی انفراسٹرکچر یا سہولیات جہاں کہیں بھی بنائی گئی ہیں ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔’’

نیشنل انڈسٹریل کوریڈور کارپوریشن (این آئی سی ڈی سی) چار مرحلوں میں 32 منصوبوں پر مشتمل 11 راہداریوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ این آئی سی ڈی سی کا ایک پروجیکٹ شروع ہونے والا ہے، جناب پیوش گوئل نے کہا کہ کئی ریاستیں این آئی سی ڈی سی پروجیکٹوں کے تحت مراعات دے رہی ہیں۔ سی ای او، گریٹر نوئیڈا نے 20 دنوں میں زمین الاٹ کرنے کا عہد کیا ہے اور سی ای او، دھولیرا نے پہلے 30 فیصد پلاٹوں کے لیے پہلے اینکرز کو زمین کی قیمت پر 50 فیصد رعایت دینے کی پیشکش کی ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ این آئی سی ڈی سی کو پی ایم گتی شکتی  اوراین ایس ڈبلیو ایس کے ساتھ ملایا جائے گا، جناب گوئل نے کہا کہ انوسٹ انڈیا این آئی سی ڈی سی پروجیکٹ کے تحت آنے والی پہلی چار ٹاؤن شپ میں دفاتر قائم کرے گا اوربی آئی ایس/ کیو سی آئی ابھرتے ہوئے صنعتی کلسٹروں میں ٹیسٹنگ لیبز قائم کرے گا۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ہندوستان ایک بار پھر دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے اب تک کی سب سے زیادہ 670 بلین ڈالر کی برآمدات کی ہیں، جناب پیوش گوئل نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ حکومتی اقدامات مثلاً این آئی سی ڈی سی، ڈیجیٹل انڈیا، اسمارٹ سٹیز، نیشنل انفراسٹرکچر پائپ لائن، این آئی سی ڈی سی کی سہولیات اور مالی شمولیت کے شعبوں میں 1.4 ٹریلین ڈالر کے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے فائدہ اٹھائیں۔

‘‘برآمدات کے عظیم بلڈنگ بلاک’’ سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاروباریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ دنیا ہمارے ساتھ کاروبار کرنا چاہتی ہے اور اب یہ ہم پر ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ہم ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک کی طرف ترقی کررہے ہیں، ہم اس امرت کال کے دوران بطور سپاہی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘آخر آپ نے دیکھا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند ممالک کا ایک ہجوم ہے، دو ماہ کے عرصے میں ہمارے بیگ میں دو ایف ٹی اے، 3 یا 4 دیگر مذاکرات کے اعلی درجے کے مراحل میں ہیں۔’’

یہ بتاتے ہوئے کہ گریٹر نوئیڈا اور ممبئی کے علاوہ دہلی کے پرگتی میدان اور آئی آئی سی سی-دوارکا میں عالمی معیار کی نمائش اور کنونشن کی سہولیات  تیار کی جا رہی ہیں۔ جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان اب ایم آئی سی ای (میٹنگز، ترغیبات، کانفرنسوں اور نمائشوں) کے شعبوں میں تیزی سے اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان کو سرمایہ کاری کے لئے ایک پسندیدہ مقام بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘آئیے اس ترقی کی کہانی میں حصہ لیں جس پر ہندوستان کام کر رہا ہے اور دیکھتے ہیں کہ ہم کس طرح دستیاب سہولیات کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں اور مستقبل کے لیے آئیڈیاز بھی سامنے لا سکتے ہیں۔’’

یہ بتاتے ہوئے کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی آج جمہوری ملکوں میں دنیا کے سب سے بڑے لیڈر ہیں، جناب گوئل نے کہا،‘‘جیسا کہ پی ایم مودی کہتے ہیں‘یہ سمے ہے، صحیح سمے ہے’، (یہی وقت ہے، صحیح وقت ہے)۔ اکثر اگر آپ کسی موقع کو صحیح وقت پر حاصل نہیں کرتے ہیں تو آپ اس موقع کو کھو دیتے ہیں۔’’

اس موقع پر بات کرتے ہوئے سکریٹری ڈی پی آئی آئی ٹی نے کہا کہ حکومت نے ای پی ڈی بی 2.0 شروع کیا ہے اور صنعت سے متعلق قوانین کو جرم سے پاک کرنا ایک ترجیح ہے۔ این ایس ڈبلیو ایس اور انڈیا انڈسٹریل لینڈ بینک (آئی آئی ایل بی) بھی صنعتی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

این آئی سی ڈی سی ہندوستان کا بنیادی ڈھانچہ پروگرام ہے، جو اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرکے نئے صنعتی شہروں کو ‘اسمارٹ شہروں’ کے طور پر تیار کرتا ہے، معیارات طے کرتا ہے اور دنیا میں بہترین مینوفیکچرنگ/سرمایہ کاری کے مقامات کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ این آئی سی ڈی سی کو دسمبر 2020 میں حکومت نے 11 صنعتی راہداریوں کی ترقی کے لیے منظوری دی تھی جس میں 27-2026 تک 4 مراحل میں 32 جدید ترین پروجیکٹس تیار کیے جائیں گے۔

چار شہروں میں 173 پلاٹوں کے لیے 16,760 کروڑ روپے کی مشترکہ سرمایہ کاری پہلے ہی کی جا چکی ہے۔ چار ‘اسمارٹ’ صنعتی شہر دھولرا (گجرات)، شیندرا بڈکن (مہاراشٹرا)، وکرم ادھوگ پوری (ایم پی) اور گریٹر نوئیڈا (یوپی) میں مربوط صنعتی ٹاؤن شپ ابھر رہے ہیں۔

قومی سطح پر کلیدی اقدامات حکومت کے اہم پروگرام - پی ایم گتی شکتی کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ لاجسٹک لاگت کو کم کرنے کے مقصد کے ساتھ نفاذ کے تحت باقی 28 این آئی سی ڈی سی منصوبوں کو ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

ش ح۔م ع۔ع ن

                                                                                                                                      (U: 4556)



(Release ID: 1819066) Visitor Counter : 126