نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
’میٹ دی چیمپئنس‘ پروگرام محض ایک تقریب نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک ذمہ داری ہے: ٹوکیو اولمپئن لال ریمسیامی
’’ہم ایک فٹ انڈیا کی تعمیر تبھی کر سکتے ہیں، جب ہم صحت کے لیے کم غذائیت کی حامل خوراک یعنی جنک فوڈ کی بجائے تغذیہ بخش خوراک کو اپنائیں گے‘‘
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 APR 2022 6:14PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 21 اپریل 2022
’’میں جنک فوڈ کی شوقین ہوا کرتی تھی اور میرے لیے انسٹینٹ نوڈلس کھانے سے انکار کرپانا مشکل تھا۔ تاہم یہ ہاکی ہی تھی جس نے مجھے جنک فوڈ کے مقابلے میں تغذیہ بخش خوراک کو منتخب کرنے کے لیے مجبور کیا اور آج میں ایک فٹ اور صحت مند زندگی جینے میں یقین رکھتی ہوں۔‘‘ یہ بات اولمپک میں بھارت کی نمائندگی کرنے والی میزورم کی اولین خاتون ہاکی کھلاڑی لال ریمسیامی ہمار نے آج میزورم میں اپنے آبائی وطن کولاسب میں ’میٹ دی چیمپئنس‘ پروگرام کے دوران اسکولی طلبا کے ساتھ بات چیت کے دوران کہی۔

اس موقع پر، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ذریعہ ’سنتولت آہار‘ (متوازن غذا) کے بارے میں شروع کی گئی اس منفرد مہم کی میزبانی کرنے والے سینٹ ماریا گوریٹی اسکول میں جمع تقریباً 200 اسکولی طلبا کے ذریعہ اس 21 سالہ ہاکی کھلاڑی کا زبردست خیرمقدم کیا گیا۔ وزیر اعظم کے اس نیک خیال کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ ’میٹ دی چیمپئنس‘ پروگرام محض ایک تقریب ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایک ذمہ داری بھی ہے اور چونکہ میرا تعلق ملک کے اس حصہ سے ہے، اس لیے میں نے بچوں کو صحت مند زندگی کے لیے ترغیب فراہم کرنے کی امید کے ساتھ یہاں اپنے آبائی شہر میں یہ منفرد پہل قدمی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

طلبا سے تغذیہ بخش خوراک لینے کی درخواست کرتے ہوئے، میزورم کی اس اسٹار ہاکی کھلاڑی نے کہا، ’’اور ہم تبھی ’فٹ انڈیا‘ کی تعمیر کر سکتے ہیں، جب ہم جنک فوڈ کے مقابلے میں تغذیہ بخش خوراک اپنائیں گے۔‘‘

بچپن سے لے کر ایک ایتھلیٹ کے طور پر ابھرنے تک کھانے پینے سے متعلق اپنی عادات کے بارے میں جانکاری ساجھا کرتے ہوئے اس بھارتی کھلاڑی نے بتایا کہ کیسے ان کے کوچوں اور ساتھی کھلاڑیوں نے متوازن غذا کے فوائد کو سمجھنے میں ان کی مدد کی۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے کولاسب جیسے ایک چھوٹے سے شہر سے بھارتی اولمپک ٹیم میں اپنی جگہ بنانے تک کے اپنے سفر کے بارے میں بھی بتایا۔ انہوں نے طلبا سے کہا، ’’جب مجھے اولمپک ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا، تو یہ میری زندگی کی سب سے بڑی حصولیابی تھی، کیونکہ اس سے مجھے اپنے آنجہانی والد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔ یہ کبھی مت سوچئے کہ میں آپ لوگوں سے مختلف ہوں۔ میں ایک عام کنبے سے تعلق رکھنے والی ایک سادہ سی لڑکی ہوں، تاہم فرق صرف اتنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے نصب العین کے طور پر ہاکی کو اپنایا اور مجھے یقین ہے کہ اسی طرح آپ تمام لوگ بھی اپنا نصب العین تبھی حاصل کر سکتے ہیں جب آپ اپنی صحت اور ذہن دونوں کا خیال رکھیں گے۔‘‘

’متوازن غذا‘ کے بارے میں بات چیت کے علاوہ، اس پروگرام کے دوران اس نوجوان ہاکی کھلاڑی نے اولمپک تک کا اپنا سفر ساجھا کیا، طلبا کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن میں حصہ لیا اور طلبا کے ساتھ والی بال بھی کھیلا۔ اس طرح کی سرگرمیوں نے طلبا میں کافی جوش پیدا کیا۔ سینٹ ماریا گوریٹی اسکول کے چھٹویں جماعت کے طالب علم مارٹن لالننٹ لوانگا نے کہا کہ ، ’’یہ ایک بے حد دلچسپ پروگرام تھا اور چونکہ وہ ہمارے اپنے شہر سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ اتنے قریب سے بات چیت کرنا ہمارے لیے فخر کا لمحہ تھا۔ مجھے والی بال کھیلنا پسند ہے اور اس پروگرام کے بعد میں سمجھ گیا ہوں کہ ہمیں فاسٹ فوڈ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
خاص بات یہ ہے کہ اس منفرد پہل قدمی کا اہتمام نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت اور وزارت تعلیم کے ذریعہ مشترکہ طورپر کیا جا رہا ہے اور یہ حکومت کے ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کا حصہ ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن۔ م ف)
U.No:4528
(ریلیز آئی ڈی: 1818877)
وزیٹر کاؤنٹر : 218