جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل شکتی  کے مرکزی وزیر نے جے پور میں جے جے ایم اور ایس بی ایم (جی) پر 11 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ علاقائی کانفرنس کی صدارت کی


حقیقی کام کمیونٹی کی ملکیت قائم کرنا ہے تاکہ طویل عرصے تک پانی کی فراہمی کی خدمات کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے: جناب شیخاوت

2022-23 میں جے جے ایم کے تحت 8 شریک ریاستوں اور 3 مرکز کے زیرانتظام علاقوں  کو مرکزی گرانٹ کے طور پر 32,608 کروڑ اور ایس بی ایم-جی  کے تحت 2,167 کروڑ روپے مختص کئے گئے

سال 2022-23 میں ان 8 ریاستوں میں پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے لیے 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت مشروط گرانٹ کے طور پر 7,632 کروڑ روپے مختص کیے گئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 APR 2022 5:38PM by PIB Delhi

جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج جے پور میں جل جیون مشن (جے جے ایم) اور سوچھ بھارت مشن (گرامین) پر پروگرام کا نفاذ کرنے والی گیارہ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتطام علاقوں  گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، پنجاب، اتراکھنڈ، دمن اور دیو، دادرا اور نگر حویلی، جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی علاقائی کانفرنس کی صدارت کی۔

گوا، دمن اور دیو اور دادرا اور نگر حویلی پہلے ہی 'ہر گھر جل' بن چکے ہیں، پنجاب 99 فیصد اور ہماچل پردیش 93 فیصد پر ہے، اور باقی نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔

مرکزی وزیر نے راجستھان کے پانی کی کمی کے شکار ضلع جودھ پور کے رہائشی  کے طور پر اپنے ذاتی تجربات سے ایک متاثر کن اور حوصلہ افزا افتتاحی خطاب پیش کیا، جہاں انہوں نے بہت سی خواتین کی مشکلات اورسخت محنت  کا مشاہدہ کیا، جو اپنے کنبے کیلئے بھاری وزن اٹھاکر روزانہ پانی لاتی ہیں۔  انہوں نے نمائندوں سے  اس پریشانی  کو دور کرنے کے لیے جے جے ایم کو ایک وقتی موقع کے طور پر دیکھنے کی اپیل کی  اور کہا کہ عمل درآمد کی رفتار درپیش چیلنج سے مماثل ہونی چاہیے اور اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچے کے اپنے چیلنجز ہیں، لیکن اصل کام مناسب مقدار، مقررہ معیار اور باقاعدگی کے لحاظ سے پانی کی فراہمی کی خدمات کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کیلئے کمیونٹی کی تعمیر کرنا ہے اور ملکیت کا احساس پیدا کرنے کے لیے ملکیت، مقامی کمیونٹی کوجی پی/وی ڈبلیو ایس سی واٹر کمیٹی کے ذریعہ منصوبہ بندی کے مرحلے کے ساتھ  شامل کیا جانا ہے  نہ کہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد۔

 

Text, whiteboardDescription automatically generated

 

انہوں نے یاد دلایا کہ، "جب 15 اگست 2019 کو وزیر اعظم کے ذریعہ جل جیون مشن کا آغاز کیا گیا تھا، تو صرف 16.75 فیصد دیہی گھرانوں کے پاس نل کے کے پانی کے کنکشن تھے۔ پچھلے ڈھائی سالوں میں وبائی امراض کی وجہ سے آنے والی رکاوٹوں کے باوجود، ہم 6.16  کروڑ  سے زیادہ نل کے پانی کے کنکشن فراہم کرنے میں کامیاب رہے  ہیں اور دیہات میں تقریباً 9.40 کروڑ (49 فیصد) گھرانے پینے کے صاف پانی سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ملک کو یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان کے تمام اضلاع نے 2 اکتوبر 2019 کو خود کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف ) قرار دیا، جو کہ پائیدار ترقی کے ہدف( ایس ڈی جی-6)  تحت مقرر کردہ وقت سے بہت پہلے  ہے۔ سلجام 2.0  مہم لوگوں کی شراکت کے ذریعے گرے واٹر کا انتظام کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔ مہم کے تحت، ہم گرے واٹر کے انتظام کے لیے کمیونٹیز، پنچایتوں، اسکولوں، آنگن واڑیوں جیسے اداروں کو اکھٹا کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ گرے واٹر کا وہاں  بہترین انتظام کیا جا سکتا ہے جہاں سے یہ نکلتا ہے اور اگر اسے جمع اور مستحکم  ہونے دیا جاتا ہے تو یہ ایک اہم انتظامی اور بنیادی ڈھانچے کے چیلنج میں بدل جاتا ہے۔ ہم پی آر آئی  لوگوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مقامی سطح پر سوکھنے والے  گھریلو اور کمیونٹی گڑھے کی تعمیر کے ذریعہ گرے واٹر کا مناسب ترین انتظام کیا جاسکے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002MRX6.jpg

 

ا جلاس میں شرکت کرنے والی ریاستوں /مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے سینئر افسران کے ساتھ میزبان ریاست کی نمائندگی کرنے کیلئے راجستھان حکومت میں  زمینی پانی کے وزیر ڈاکٹر مہیش جوشی، ، دیہی ترقی کے وزیر جناب ارجن سنگھ چوہان، اور گجرات کے دیہی ترقی کے وزیر مملکت جناب برجیش کمار میرجا کانفرنس میں موجود تھے۔ ہریانہ سے امداد باہمی  اور ایس سی بی سی بہبود کے وزیر ڈاکٹر بنواری لال، مہاراشٹر کے ترقی اور پنچایتوں کے وزیر جناب دیویندر سنگھ ببلی؛ پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے وزیر جناب گلاب راؤ پاٹل، ماحولیات اور آب وہوا کی تبدیلی ، پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی ، تعمیرات عامہ ، روزگار کی ضمانت، پارلیمانی امور کے وزیر مملکت جناب سنجے بنسوڑے ؛ اور پنجاب کے محصولات اور آبی وسائل کے وزیر  جناب برہم شنکر شرما سینئر افسران کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کی۔ تمام ریاستوں کے وزراء نے غور و خوض میں سرگرمی سے حصہ لیا اور 'ہر گھر جل' کے اپنے منصوبے کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی طویل مدتی پائیداریت کے لیے اقدامات کی وضاحت کی۔

ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی  سکریٹری محترمہ  وینی مہاجن نے اپنے افتتاحی خطاب میں کام کو وقت پر مکمل کرنے کی اہمیت کو دہرایا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ 'کوئی بھی اس سروس کا فائدہ اٹھانے سے محروم نہ رہے'۔ انہوں نے مختلف اسٹیک ہولڈرز یعنی مقامی کمیونٹی، آئی ایس اے ، ایس ایچ جی،این جی او/ وی او /سی ایس او ، ریاستی/قومی/بین الاقوامی تنظیم کے درمیان تعاون کے طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے جے جے ایم کے نصب العین 'شراکت داری کی تعمیر ، ایک ساتھ کام کرنا' پر زور دیا۔  کام کی رفتار کے بارے میں، انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ٹینڈرنگ کے عمل کو تیز کریں، مناسب عملے کا بندوبست کرنے کے لیے لوگوں کی تقرری  کریں اور کام کے سازوسامان  اور معیار کو جانچنے کے لیے ایس پی ایم یو/ ڈی پی ایم یو ، تھرڈ پارٹی انسپکشن ایجنسیوں (ٹی پی آئی اے) جیسے معاون اداروں کو شامل کریں تاکہ منصوبہ بندی/جائزہ زیادہ سے زیادہ  کارآمد ہوں۔ یہ دیکھتے  ہوئے کہ زیادہ تر حصہ لینے والی ریاستوں میں پانی کی کمی ہے، انہوں نے محکموں کے درمیان تال میل کی وکالت کی تاکہ پانی کے ذرائع  کے استحکام  کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی کام کو فروغ دیا جا سکے اور آخر میں، ریاستوں سے پانی کی قیمتوں کا تعین  میں ایک قدم کے طور پر گھروں کے پانی استعمال کرنے والے چارجزکو فروغ دینے پر غوروفکر کی اپیل کی۔

image003RXX3.png

 

image004JCP9.jpg

 

بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے ڈی ڈی ڈبلیو ایس میں  ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب  ارون بروکا نے جے جے ایم کی مجموعی حیثیت، اور ریاستی حیثیت، کاموں کے لیے منصوبہ بندی کے مسائل اور چیلنجز، 'ہر گھر جل' سرٹیفیکیشن، نل کنکشن کی فراہمی کی رفتار، ٹی پی آئی اے/ ڈی پی ایم یو، وی ڈبلیو ایس سی کو کام پر لگانے،  آلودہ نمونوں سے نمٹنے کے لیے کی گئی تدارکاتی کارروائی، ایف ٹی کے ٹیسٹنگ، اسکولوں/آنگن واڑی مراکز کی شمولیت اور ملٹی ڈسپلنری این جے جے ایم ٹیموں کے مختلف شعبوں کے دوروں سے حاصل تبصروں کے خلاصہ کے بارے میں  ایک  تفصیلی پریزنٹیشن دی ۔متعلقہ  ریاستی وزراء اور اعلیٰ حکام نے جواب میں اپ ڈیٹس اور چیلنجز کا اشتراک کیا اور آگے بڑھنے کے راستے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی طرح کی بحث ایس بی ایم (جی) فیز-II کے نفاذ پر بعد کے حصے میں دیکھی گئی۔

صحت عامہ اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بھلائی کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے، مرکزی بجٹ 2022 میں، جے جے ایم کے لیے مختص فنڈ کو 2021-22 میں 45,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2022-23 میں 60,000 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ ایس بی ایم (جی ) کے لیے سال 2022-23 کے بجٹ میں 7,192 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مرکز نے 2022-23 میں، جے جے ایم کے تحت، ان  8 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقے (گوا – 48 کروڑ روپے، گجرات – 3,452 کروڑ روپے، ہریانہ – 1,099 کروڑ روپے، ہماچل پردیش – 1,280 کروڑ روپے، مہاراشٹر – 7,415 کروڑ روپے، پنجاب –1,693 کروڑ روپے، راجستھان – 11,752 کروڑ روپے، اتراکھنڈ – 1,502 کروڑ روپے، جموں و کشمیر – 2,875 کروڑ روپے اور لداخ – 1,493 کروڑ) سال 2022-23 کے لیے عارضی طور پر 32,609 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ عارضی طور پر  مذکورہ ریاستوں کیلئے   ایس بی ایم (جی)  کے تحت (گوا – 29 کروڑ روپے، گجرات – 206 کروڑ روپے، ہریانہ – 224 کروڑ روپے، ہماچل پردیش – 152 کروڑ روپے، مہاراشٹرا – 786 کروڑ روپے، پنجاب – 82 کروڑ روپے، راجستھان – 365 کروڑ روپے) اتراکھنڈ 65 کروڑ روپے، دادرا اور نگر حویلی- 5 کروڑ روپے، جموں و کشمیر- 243 کروڑ روپے اور لداخ- 11 کروڑ روپے) 2167 کروڑ روپے  مختص کئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ، 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت سال 2022-23 کے لیے دیہی علاقائی بلدیاتی/پنچایتی راج اداروں (آر ایل بی/ پی آر آئیز) کے لیے کل 27,908 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اگلے پانچ سالوں کے لیے یعنی 2025-26 تک 1.42 لاکھ کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حصہ لینے والی ریاستوں کو سال 2022-23 کے لیے پانی اور صاف صفائی سے متعلق سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے مشروط گرانٹ کے طور پر 7,632 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

 مالیاتی صورتحال

 

ریاست/ مرکز کے زیرانتظام علاقے

 

2022-23

2021-22 میں مختص کی گئی رقم

ریاست / مرکز کے زیرانتظام علاقے کے ذریعہ حاصل کیا گیا فنڈ

عارضی طور پر مختص رقم

گوا

46

23

48

گجرات

3,411

2,558

3,452

ہریانہ

1,120

560

1,099

ہماچل پردیش

1,263

2,013

1,280

جموں وکشمیر

2,747

604

2,875

لداخ

1,430

341

1,493

مہاراشٹر

7,064

1,667

7,415

پنجاب

1,656

402

1,693

راجستھان

10,181

2,345

11,752

اتراکھنڈ

1,444

1,083

1,502

میزان

30,361

11,595

32,608

 

او ڈی ایف  کی حیثیت اور ٹھوس اور رقیق فضلہ کے انتظام(ایس ایل ڈبلیو ایم) کی پائیداریت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے، ایس بی ایم (جی) فیز-II کو فروری 2020 میں منظور کیا گیا تھا جس کی کل لاگت 1,40,881 کروڑ روپے تھی۔ یہ مرکزی اور مختلف ریاستی حکومتوں کے تحت فنڈنگ ​​کے مختلف فعال شعبوں کے درمیان تال میل قائم کرنے  کا ایک نیا ماڈل ہے۔ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے ذریعہ  بجٹ مختص کرنے اور متعلقہ ریاستی حصہ کے علاوہ، باقی رقم کو خصوصی طور پر ٹھوس اور  رقیق  فضلہ کے انتظام (ڈی ڈی ڈبلیو ایس کیلئے دیہی مقامی اداروں، سی ایس آر، ایم جی نریگا، سی ایس آر  فنڈز اور آمدنی کی پیداوار  ماڈل وغیرہ کے لیے 15 ویں مالی کمیشن سے متعلق گرانٹس سے جوڑا جا رہا ہے۔

ایس بی ایم (جی ) کے دوسرے مرحلے کی زبردست شروعات ہوئی ہے جس میں تقریباً 69 لاکھ گھرانوں کے انفرادی گھرانے بیت الخلاء (آئی ایچ ایچ ایل) سے مستفید ہوئے ہیں  ۔ ملک میں 1.28 لاکھ سے زیادہ کمیونٹی بیت الخلاء  بنائے  گئے اور 56,000 سے زیادہ گاؤں نے خود کو (او ڈی ایف) پلس قرار دیا۔ 63,000 سے زیادہ دیہاتوں کو  پہلے ہی کچرے کو ٹھکانے لگانے کا ٹھوس بندوبست  (ایس ڈبلیو ایم) سسٹم  میں شامل کیا جاچکا ہے اور 39,000 سے زیادہ دیہاتوں نے رقیق فضلہ انتظام  (ایل ڈبلیو ایم) سسٹم  کا انتظام کیا ہے۔ حصہ لینے والی ریاستوں میں ایس بی ایم (جی) فیز II کے دوران تعمیر کیے گئے آئی ایچ  ایچ ایلز اور کمیونٹی سینی ٹیشن کمپلیکس ( سی ایس سیز) کی تعداد بالترتیب 14 لاکھ اور 22,000 سے زیادہ ہے اور 12,000 سے زیادہ گاؤں کو او ڈی ایف  پلس قرار دیا گیا ہے۔

ظہرانے کے بعد، موضوعات کے ماہرین اور اعلیٰ سرکاری افسران نے کام کے معیار، عمل درآمد کی رفتار، سافٹ ویئر کی سرگرمیوں جیسے تربیت/ہنرمندی/صلاحیت سازی کے پروگرام، پانی کے معیار کی نگرانی اور نگرانی، ٹیکنالوجی کے استعمال، مستحکم ذرائع  اور گرے واٹر مینجمنٹ پر تکنیکی سیشن کا انعقاد کیا۔ ترقیاتی شعبے کے ماہرین نے موجود عہدیداروں کے ساتھ اپنی معلومات کا اشتراک کیا۔ اس کے بعد، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ریاست کے مخصوص مسائل اور چیلنجوں پر تبادلہ خیال کے لیے سیشن منعقد کیے گئے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(ش ح۔ع ح  (

U. No. : 4125


(ریلیز آئی ڈی: 1815610) وزیٹر کاؤنٹر : 207
یہ ریلیز پڑھیں: Tamil , English , हिन्दी , Telugu