مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم او ایچ یو اے، تمام اہل شہری گھرانوں کو ہر موسم کے پکے مکانات فراہم کرنے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی مدد فراہم کرتی ہے


پی ایم اے وائی-یو کے تحت ملک بھر میں 115 لاکھ سے زیادہ مکانات منظور کیے گئے ہیں جن میں سے 56.20 لاکھ مکمل ہو چکے ہیں/مستفیدین کو مل چکے ہیں اور باقی تعمیرات/بنیاد رکھے جانے کے مختلف مراحل میں ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 MAR 2022 1:26PM by PIB Delhi

"سب کے لیے مکان" کے حکومت کے وژن  پر عمل کرتے ہوئے ، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) ، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یوٹیز)  کو مرکزی امداد دینے کے لیے 25.06.2015 سے پردھان منتری آواس یوجنا-اربن (پی ایم اے وائی-یو) کو نافذ کر رہی ہے تاکہ  تمام اہل شہری گھرانوں کو ہر موسم کے پکے مکانات فراہم کئے جاسکیں۔ پی ایم اے وائی-یو شہری علاقوں میں سستی رہائش کی ضرورت کو: (i) استفادہ کنندہ کی دیکھ ریکھ میں انفرادی مکان کی تعمیر یا اس میں  اضافہ (بی ایل سی)  (ii) شراکت داری میں قابل استطاعت  رہائش (اے ایچ پی ) (iii) کریڈٹ سے منسلک سبسڈی اسکیم (سی ایل ایس ایس) اور (iv) "جائے موقعہ پر" کچی آبادی کی ازسر نو ترقی(آئی ایس ایس آر) چار اہم ستون کے ذریعہ  پورا کرتا ہے۔

ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے پی ایم اے وائی-یو کے تحت ڈیمانڈ سروے شروع کیا ہے تاکہ اہل استفادہ کنندگان کے لیے مکانات کی حقیقی مانگ کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت سال 2017 میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ توثیق شدہ مکانات کی کل تخمینہ شدہ مانگ 112.24 لاکھ ہے۔ تاہم، مکانات کی مانگ کی نوعیت تھوڑی مختلف  ہے، شہری گھرانوں کی اضافی رہائش کی مانگ جو اسکیم کے نفاذ کے دوران اہل ہو گئے تھے، بھی پی ایم اے وائی-یو کے تحت شامل تھے۔

ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے پیش کردہ پروجیکٹ کی تجاویز کی بنیاد پر، ملک بھر میں 115 لاکھ سے زیادہ مکانات کی منظوری دی گئی ہے۔ جن میں سے، 56.20 لاکھ مکمل ہو چکے ہیں/استفادہ کنندگان کو فراہم کئے جاچکے  ہیں اور باقی تعمیرات/ بنیاد رکھے جانے  کے مختلف مراحل میں ہیں۔

 

کل منظور شدہ مکانات میں سے گزشتہ دو سالوں کے دوران 29 لاکھ سے زیادہ مکانات کی منظوری دی گئی ہے۔ منصوبوں کی تکمیل میں عام طور پر  بی ایل سی عمود کے تحت 12-18 ماہ اور اسکیم کے  اے ایچ پی  عمود کے تحت 24-36 ماہ لگتے ہیں۔ اس لیے مکانات کی منظوری، تعمیر اور تکمیل کے درمیان ہمیشہ وقفہ رہتا ہے۔

 مشن کی مدت 31.03.2022 تک ہے اور اس کے بعد کسی اضافی مکان کی منظوری نہیں دی جائے گی۔ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس کے مطابق مقررہ وقت  کے اندر باقی تمام منظور شدہ مکانات کو بنیاد رکھنے اور مکمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

یہ وزارت اسکیم کے مندرجہ ذیل چار ستونوں پر مبنی حصوں کے تحت ہر استفادہ کنندہ کے لیے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی امداد کی مختلف سطحیں فراہم کرتی ہے۔

 

S. No.

Vertical

Central assistance to each beneficiary

1.

Beneficiary-led individual house construction/ enhancement (BLC)

1.50 lakh

2.

Affordable Housing in Partnership (AHP)

1.50 lakh

3.

“In-situ” Slum Redevelopment (ISSR)

1.00 lakh

4.

Credit Linked Subsidy Scheme (CLSS)

Category

(Annual household income)

Loan Amount

Interest subsidy

Economically Weaker Section (up to 3,00,000)

up to 6 lakhs

6.5 %

Low Income Group (from 3,00,001 to 6,00,000)

 

 

 

پی ایم اے وائی-یو رہنما خطوط کے مطابق، ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بلا سود قرض فراہم کرنے کا کوئی التزام نہیں ہے اور فی الحال اس وزارت میں ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

یہ معلومات ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر مملکت جناب کوشل کشور نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ش ح – ع ح)

U.No. 2898


(ریلیز آئی ڈی: 1807619) وزیٹر کاؤنٹر : 179
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , Bengali