مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت

 رہائش و شہری امور کی وزارت نے شہری  تارکین وطن / غریبوں کو باوقار زندگی فراہم کرنے کے لیے سستے کرایہ کے ہاؤسنگ کامپلیکس کا آغاز کیا

Posted On: 21 MAR 2022 1:23PM by PIB Delhi

رہائش اور شہری امور کے وزیر مملکت جناب کوشل کشور نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی  ہے کہ رہائش اور شہری امور کی وزارت ( ایم او ایچ یو اے) نے پردھان منتری آواس یوجنا – شہری(پی ایم اے وائی۔ یو) کی ذیلی اسکیم کے طور پر سستے کرایہ کےہاؤسنگ کامپلیکس(اے آر ایچ سی) لانچ کیا ہے تاکہ شہری تارکین وطن / غریبوں کو ان کے کام کی جگہ کے قریب باوقار زندگی گزارنے کے لئے رہائش فراہم کی جاسکے۔ اس اسکیم کو ذیل میں دو ماڈلوں کے ذریعے لاگو کیا جا رہا ہے:

  1. ماڈل-1: جواہر لعل نہرو  قومی شہری  جدید کاری مشن(جے این این یو آر ایم) اور راجیو آواس یوجنا (آر اے وائی) کے تحت تعمیر کیے گئے موجودہ سرکاری فنڈ سے خالی مکانات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(پی پی پی) یا عوامی ایجنسیوں کے ذریعے اے آر ایچ سی میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرنا؛

        ii ماڈل-2: عوامی/نجی اداروں کی طرف سے اپنی دستیاب خالی زمین پر  اے آر ایچ سی کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال۔

اب تک، ماڈلنگ-1 کے تحت  خالی گھروں سے  باہر نکلنے والے 5,478 کو اے آر ایچ سی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ تاکہ شہری  تارکین /غریبوں کو کام کی جگہ کے قریب باوقار سستی کرائے کے مکانات تک رسائی فراہم کی جا سکے اور 7,483 اضافی اکائیوں کی ترقی کے لیے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے جو اے آر ایچ سی کے تحت  مختلف مراحل میں ہے۔ ملک بھر میں جے این این یو آر ایم   اور آر اے وائی کے تحت تعمیر کیے جانے والے سرکاری فنڈ سے خالی مکانات کی تعداد کی ریاست/ مرکز کے زیرانتظام علاقہ وار تفصیل  ضمیے  میں دی جارہی ہے ۔ جوشہری تارکین وطن/غریبوں کے لیے  اے آر ایچ سی میں تبدیل کیے جائیں گے۔ مزید، یہ کہ ماڈل-2 کے تحت، 78,885 نئے اے آر ایچ سی اکائیوں کی ترقی کی تجویز کو منظوری دی گئی ہے۔ ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں ہیں۔

اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق، اے آر ایچ  سی کا سستا کرایہ مقامی سروے کی بنیاد پر مقامی  انتظامیہ کے ذریعہ طے کیا جاتا ہے۔

اسکیم کے ماڈل-1 کے تحت  جے این این یو آر ایم اور آر اے وائی کے تحت تعمیر کیے گئے سرکاری فنڈ سے خالی مکانات کی تعداد کی ریاست/ مرکز کے زیرانتظام علاقہ وار تفصیل جنہیں اے آر ایچ سی میں تبدیل کیا جائے گا ۔

نمبرشمار

ریاستوں/ مرکز کے زیرانتظام خطوں کے نام

حکومت کی مالی مدد سے تیار مکانوں کی تعداد جنہیں اے آر ایچ سی میں تبدیل کیا جائے گا

 اے آر سی میں تبدیلی شدہ مکانوں کی تعداد

1

ارونا چل پردیش

752

-

2

چنڈی گڑھ

2,195

2,195

3

دہلی

29,112

-

4

گجرات

4,414

2,467

5

ہریانہ

2,545

-

6

ہماچل پردیش

314

-

7

مدھیہ پردیش

364

-

8

مہاراشٹر

32,345

-

9

ناگا لینڈ

664

-

  10

راجستھان

4,884

480

11

اترپردیش

5,232

-

12

اترا کھنڈ

377

-

13

جموںو کشمیر

336

336

کل

83,534

5,478

منصوبے کے ماڈل -2 کے تحت عوامی اور نجی اداروں کے ذریعہ تعمیر کے لئے منظور شدہ اے آر ایچ سی اکائیوں کی ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تفصیل

نمبرشمار

شہر / ریاست کا نام

اکائی کا نام

کل اکائیاں

1

سری پیرمبردور، تملناڈو

ایس پی آر سٹی اسٹیٹس پرائیویٹ لمٹیڈ

18,112

2

سری پیرمبردور، تملناڈو

ایس پی آر سٹی  کانسٹریکشن پرائیویٹ لمٹیڈ

3,969

3

ہوسور، تملناڈو

 ٹاٹا الیکٹرانک پرائیویٹ لمٹیڈ

11,500

4

چنئی، تملناڈو

اسٹیٹ انڈسٹریز پرموشن کارپوریشن آف تملناڈو

18,720

5

چنئی، تملناڈو

چنئی پیٹرولیم کارپوریشن لمٹیڈ

1,040

6

رائے پور، چھتیس گڑھ

انڈین آئل کارپوریشن لمٹیڈ

2,222

7

کامپور ٹاؤن، آسام

گوہاٹی ریفائنری انڈین آئل کارپوریشن لمٹیڈ

2,222

8

پریاگ راج، اترپردیش

انڈین آئل کارپوریشن لمٹیڈ

1,112

9

سورت، گجرات

میتسومی ہاؤسنگ پرائیویٹ لمٹیڈ

453

10

چنئی، تملناڈو

ایس پی آر کانسٹرکشن پرائیویٹ لمٹیڈ

5,045

11

نظام پیٹ، تلنگانہ

سیوانی انفرا پرائیویٹ لمٹیڈ

14,490

کل

78,885

 

 

 

 

 

 

 

****************

(ش ح ۔ج ق۔رض )

U NO: 2897



(Release ID: 1807592) Visitor Counter : 184


Read this release in: English , Bengali , Telugu