بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت

ساگر مالا اسکیم کے تحت مرکزی اقتصادی زون

Posted On: 15 MAR 2022 3:11PM by PIB Delhi

نئی دہلی:15؍مارچ2022:

ساگر مالا پروگرام کے قومی تناظر منصوبے کے تحت تمل ناڈو ریاست میں 3 سمیت 14ساحلی اقتصادی زون (سی ای زیڈ)کا تصور کیا گیا تھا۔ اس کے بعد بندرگاہ پر مبنی صنعت کاری کو اہل بنانے اور روزگار پیدا کرنے کی غرض سے حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ تیار کرنے اور پائلٹ بنیاد پر ایک سی ای زیڈ منصوبے کو فروغ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔اس تجویز کو محکمہ اخراجات کے سامنے رکھا گیا تھا، جس نے سفارش کی تھی کہ بندرگاہ ، جہاز رانی اور آبی شاہراہ کی وزارت کو حکومت ہند کی دیگر پہلوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اہم بندرگاہوں کے قریب دستیاب زمین کے ساتھ سی ای زیڈ کو فروغ دینے کے امکان کو تلاش کیا جانا چاہئے۔

صنعت اور داخلی تجارت کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی)کے انتظامی کنٹرول کے تحت قومی صنعتی کوریڈور ترقی و نفاذ ٹرسٹ(این آئی سی ڈی آئی ٹی)نے متعلقہ ریاستی سرکاروں کےساتھ شراکت داری میں قومی صنعتی کوریڈور پروگرام کے حصے کی شکل میں مختلف صنعتی کوریڈور پرجیکٹوں کو فروغ دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد ہندوستان میں سبز صنعتی علاقہ ؍نوڈس کو فروغ دینا ہے۔حکومت ہند نے اقتصادی خطوں کو ملٹی ماڈل کنکٹی وٹی مہیا کرنے کے لئے قومی ماسٹر پلان کے حصے کی شکل میں چار مرحلوں میں 11کوریڈور (32پروجیکٹس)کے فروغ کو منظوری دی ہے، جو غورو خوض ؍تیاری ؍عمل آوری کے مختلف مرحلوں میں ہے۔

اس کے مطابق ، وزارت نے ساگر مالا ڈیولپمنٹ کمپنی لمٹیڈ کو حکومت ہند کی دیگر پہلوں ، جیسے نیشنل انڈسٹریل کوریڈور پروگرام ، بھارت مالا کنکٹی وٹی پروگرام اور ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈورکو تال میل حاصل کرنے اور دوہراؤسے بچنے کے لئے سی ای زیڈ کے لئے قومی تناظر منصوبے کو مناسب طور سے ترمیم کرنے کےلئے ایک تفصیلی مطالعہ کرنے کےلئے سونپا ہے۔

ساتھ ہی، اہم بندرگاہوں کے ذریعے صنعت کاری کےلئے 8000ایکڑ سے زیادہ زمین کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے 2 لاکھ سے زیادہ براہ راست اور بالواسطہ طورپر روزگار پیدا ہوئے ہیں۔

سٹیلائٹ پورٹ قائم کرنے کےلئے جگہوں کی شناخت کرتے وقت چنئی پورٹ ٹرسٹ(سی ایچ پی ٹی)نے یہ یقینی بنایا ہے کہ نیویلی لِگنائٹ کارپوریشن (این ایل سی)کے پاس سرکازی میں تھرمل پاور اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز تھی اور این ایل سی میں دستیاب زمین، وقت کی حد ، کوئلے کی مقدار کی ضرورتوں اور ایک بندرگاہ کے قیام سمیت سرکازی تھرمل پاور پروجیکٹ  کی تفصیل حاصل کی۔سرکازی کے پاس سٹیلائٹ پورٹ  کی ترقی کے لئے مفاہمتی عرضداشت کا مسودہ تیار کیا گیاتھا اور 2016ء میں سمندری ہند چوٹی اجلاس کے دوران دستخط کے لئے این ایل سی کو بھیجا گیا تھا،تاہم این ایل سی نے مطلع کیا ہے چونکہ پروجیکٹ کو منظوری دی جانی باقی ہے۔سٹیلائٹ پورٹ کا فروغ وقت سے پہلے ہو سکتا ہے۔

 اس کے نتیجے میں این ایل سی انڈیا لمٹیڈ نے اُڈیشہ میں پاور پلانٹ کے قیام  اور سرکازی تھرمل پاور پروجیکٹ کے قیام کے خیال کو ترک کردینے کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے، جس سے سرکاری بندرگاہ پر کارگو امکانات پر منفی اثر پڑا ہے اور اس کے نفاذ پر بھی۔

وزارت نے جولائی 2016ء میں اینایم میں نئے اہم بندرگاہ کے فروغ کے لئے اُصولی طورپر منظوری دی۔ حالانکہ ماہی گیروں کے گروپوں  اورمقامی لوگوں کی مخالفت کے سبب زمینی مطالعہ نہیں کیا جاسکا۔جیسے جیسے تحریک جاری رہی، کولاچیل، مناول کروچی اور کنیا کماری میں متبادل جگہوں کا جائزہ لیا گیا۔کنیا کماری میں ایک رہائش سے آزاد ساحلی علاقے کو مناسب جگہ کی شکل میں شناخت کی گئی تھی۔پرائیویٹ سیکٹر کی زیادہ سے زیادہ شراکت داری کی حوصلہ افزائی کےلئے کنیا کماری میں نئے بندرگاہ کے لئے تیار ڈی پی آر میں  مزید ترمیم کی گئی۔پبلک پرائیویٹ  پارٹنر شپ  موڈ پر کنیا کماری کے پاس ٹرانس شپمنٹ ہب کو فروغ دینے کےلئے 20 فروری 2021ء ایکسپریشن آف انٹریسٹ (ای او آئی)مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم وی او چتمبرانر پورٹ کو ٹرانس شپمنٹ  ہب کی شکل میں فروغ دینے کے مدنظر وزارت نے ای او آئی کو رد کرنے کی صلاح دی ہے۔

یہ معلومات راجیہ سبھا میں بندر گاہ،جہاز رانی، آبی شاہراہ کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

 

************

ش ح۔ج ق۔ن ع

(U: 2667)



(Release ID: 1806328) Visitor Counter : 159


Read this release in: English , Bengali , Tamil