محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

مجموعی گھریلو پیداوار میں اضافہ اور روزگار

Posted On: 14 MAR 2022 3:59PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  14/مارچ 2022 ۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران 2020-21 کی پہلی سہ ماہی میں شماریات و پروگرام نفاد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کے ذریعے شہری شعبے (مارچ 2021 تک دستیاب) کے لئے جاری کردہ سہ ماہی پیریوڈک لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) رپورٹ کے مطابق، شہری شعبے کے لئے بیروزگاری کی شرح میں 20.8 فیصد کا اضافہ ہوا اور جی ڈی پی میں بھی منفی 23.8 فیصد کی کمی آئی۔ 2020-21 کی بعد کی سہ ماہی میں معیشت کے احیاء کی بدولت 2020-21 کی آخری سہ ماہی کے دوران بیروزگاری کی شرح میں 9.3 فیصد کی ریکوری ہوئی اور جی ڈی پی بھی 1.6 فیصد ری کور ہوا۔

مزید برآں سہ ماہی پی ایل ایف ایس رپورٹ کے مطابق ورکر پاپولیشن ریشیو (ڈبلیو پی آر) جو 2020-21 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 36.4 فیصد کم ہوگیا تھا، میں بھی 2020-21 کی آخری سہ ماہی کے دوران 43.1 فیصد کی ری کوری (بازیابی) ہوئی۔

روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور حصول روزگار کی صلاحیت میں بہتری لانا حکومت کی ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں بھارت سرکار نے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ بھارت سرکار نے آتم نربھر بھارت پیکیج کا اعلان کیا، تاکہ کاروبار کے شعبے میں تیزی لائی جاسکے اور کووڈ-19 کے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ اس پیکیج کے تحت حکومت 27 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کی مالی مدد فراہم کررہی ہے۔ اس پیکیج میں متعدد طویل مدتی اسکیمیں / پروگرام / پالیسیاں شامل ہیں، تاکہ ملک کو خودکفیل بنایا جاسکے اور روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔

آتم نربھر بھارت پیکیج 3.0 کے جزو کے طور پر یکم اکتوبر 2020 کو آتم نربھر بھارت روزگار یوجنا (اے بی آر وائی) کا آغاز کیا گیا، تاکہ آجرین کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے ترغیب دی جاسکے۔  اس میں سماجی تحفظ سے متعلق فوائد اور کووڈ-19 کی وبا کے دوران روزگار کو پہنچے نقصان کی بحالی بھی شامل ہے۔ ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے توسط سے نافذ کی جارہی اس اسکیم کا مقصد آجرین کے مالی بوجھ کو کم کرنا اور ان کی زیادہ سے زیادہ ورکروں کو ملازمت دینے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ استفادہ کنندگان کے رجسٹریشن کی حتمی تاریخ کو 30 جون 2021 سے بڑھاکر 31 مارچ 2022 کردیا گیا ہے۔ 28 فروری 2022 تک 1.33 لاکھ اداروں کے توسط سے 50.81 لاکھ استفادہ کنندگان کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔

اپنا روزگار آپ کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے حکومت کے ذریعے پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) کا نفاذ کیا جارہا ہے۔ پی ایم ایم وائی کے تحت بہت چھوٹی/ چھوٹی کاروباری کمپنیوں اور افراد کو 10 لاکھ روپئے تک کا غیر ضمانتی قرض دیا جاتا ہے، تاکہ انھیں اپنی تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے یا انھیں وسعت دینے کے لائق بنایا جاسکے۔ 4 مارچ 2022 تک اس اسکیم کے تحت 33.91 کروڑ کا قرض منظور کیا گیا ہے۔

حکومت نے 20 جون 2020 کو 125 روزہ غریب کلیان روزگار ابھیان (جی کے آر اے) کا آغاز کیا، تاکہ اپنے گھروں کو واپس لوٹے مہاجر مزدوروں اور اسی طرح سے دیہی علاقوں کے نوجوانوں سمیت متاثرہ افراد کو روزگار اور روزی روٹی کمانے کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ یہ اسکیم 6 ریاستوں یعنی بہار، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اڑیسہ، راجستھان اور اترپردیش کے 116 منتخب اضلاع کے لئے شروع کی گئی۔ اس ابھیان کے تحت 50.78 کروڑ افرادی دن کے برابر روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور اس پر مجموعی طور پر 39293 کروڑ روپئے خرچ ہوئے۔

اقتصادی نمو اور پائیدار ترقی کے لئے پی ایم گتی شکتی ایک یکسر تبدیلی لانے والا ایپروچ ہے۔ اس ایپروچ کو سات انجنوں کے ذریعے حرکت ملتی ہے جن میں سڑکیں، ریلوے، ہوائی اڈے، بندرگاہیں، ماس ٹرانسپورٹ، آبی گزرگاہیں اور لاجسٹکس انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔ اس ایپرول کو تقویت کلین اینرجی اور سب کا پریاس سے ملتی ہے جس سے سب کے لئے روزگار اور صنعت کاری کے زبردست مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

حکومت نے نیشنل انفرااسٹرکچر پائپ لائن پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنے کے دوران ریلویز، روڈ، شہری ٹرانسپورٹ، توانائی، ٹیلی کام، کپڑا اور سستے مکانات پر زور دیا ہے۔ بجٹ 2021-22 میں پانچ سال کی مدت کے لئے 1.97 لاکھ کروڑ روپئے کے آؤٹ لے کے ساتھ پروڈکشن لنکڈ انسنٹیو (پی ایل آئی) کا آغاز کیا ہے۔ اس پانچ سالہ مدت کی شروعات 2021-22 سے ہوئی۔ ان سبھی اقدامات سے توقع ہے کہ بحیثیت مجموعی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملٹی پلائر – افیکٹ کے توسط سے وسط مدتی سے لے کر طویل مدتی آؤٹ پٹ کو تقویت ملے گی۔

بھارت سرکار قابل ذکر سرمایہ کاری اور سرکاری خرچ سے متعدد پروجیکٹوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے، جس میں بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی کمپنیوں کی وزارت کا پرائم منسٹرس ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام (پی ایم ای جی پی)، دیہی ترقیات کی وزارت کا مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی اسکیم (ایم جی این آر ای جی ایس – منریگا) اور پنڈت دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیہ یوجنا (ڈی ڈی یو – جی کے وائی)، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کا دین دیال انتودیا یوجنا – نیشنل اَربن لائیولی ہوڈ مشن (ڈی اے وائی – این یو ایل ایم) وغیرہ شامل ہیں، جن کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

ان اقدامات کے علاوہ، حکومت کے متعدد فلیگ شپ پروگرام روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی سمت میں کام کررہے ہیں، جن میں میک اِن انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، اسمارٹ سٹی مشن، اٹل مشن فار ریجووینیشن اینڈ اَربن ٹرانسفارمیشن، ہاؤسنگ فار آل، انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اینڈ انڈسٹریل کوریڈور شامل ہیں۔

یہ اطلاع محنت و روزگار کی وزارت میں وزیر مملکت جناب رمیشور تیلی نے آج لوک سبھا میں دی۔

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO.2606



(Release ID: 1806011) Visitor Counter : 123


Read this release in: English , Tamil , Telugu