صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

مرکزی وزارت صحت  اے بی – ہیلتھ اور صحت کے  مراکز میں ٹیلی مشاورت  خدمات کے چلانے  کی حیثیت  پر نظر ثانی  کرنے  اور  ای سی آر پی  فنڈز کے فوری استعمال کے لئے  ریاستوں / مرکز کے  زیر انتظام علاقوں  کے ساتھ  جڑی ہوئی  ہے


ریاستوں سے  31 مارچ  2022 تک ٹیلی مشاورت خدمات سے لیس   1.10 لاکھ  اے بی  - ایچ ڈبلیو سی  ایس  کے چلانے  میں تیزی لانے کی اپیل کی گئی

ای سی آر پی – II (  دوم)کے تحت پروجیکٹوں  کی تکمیل میں ریاستیں  تیزی  لائیں گی

Posted On: 17 FEB 2022 5:36PM by PIB Delhi

صحت کے مرکزی سکریٹری  جناب  راجیش  بھوشن  نے  آج تمام  ریاستوں  اور مرکز کے زیر انظام علاقوں کے ساتھ   ویڈیو کانفرنسنگ ( وی سی )  کے ذریعہ  ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میں آیوش مان بھارت صحت اور تندروستی  کے  مراکز  ( ایچ ڈبلیو سی ایس ) ٹیلی مشاورت  خدمات اور ای سی آر پی  - II  (دوم ) اور وزیر  اعظم  آتم نربھر  سواستھ  بھارت یوجنا ( پی ایم – اے بی ایچ آئی ایم ) کے تحت  کی  گئی  حقیقی  اور مالی ترقی  کے  چلانے  کی حیثیت  پر نظر ثانی کی گئی ۔

 

اس بات پر روشنی   ڈالی گئی کہ  حکومت  ہند  پورے  ملک میں عوامی  صحت  خدمت  کی  ترسیل  میں توسیع کے لئے   وقف  ہے۔ ریاستوں کو اے بی – ایچ  ڈبلیو سی  ایس  کے نفاذ کی حیثیت  ، ٹیلی مشاورت  مراکز کے طور پر  ان کے  چلانے  اور  ای سی  آر پی  - دوم  پیکج کے تحت  پروجیکٹوں کے نفاذ کی   حیثیت  پر تفصیلی  پریزینٹیشن  کے  ذریعہ   معلومات مہیاکرائی گئیں ۔

مرکزی سکریٹری برائے صحت نے  اس  بات  پر  روشنی ڈالی کہ آیوش مان بھارت کے   تحت  جامع ابتدائی صحت کے دیکھ بھال   ( سی  پی ایچ  سی )  کو یقینی بنانے کے لئے    ذیلی صحت کے مراکز  ( ایس ایچ  سی ایس ) اور بنیادی صحت  مراکز  ( پی  ایچ سی ایس ) کو صحت  اور تندروستی  مراکز ( ایچ ڈبلیو سی ایس) کے طور پر  مضبوط کیا جا رہا  ہے  ۔ ایچ ڈبلیو سی ایس    احتیاطی  ،  پروموٹیو، باز آباد کاری اور  معالجاتی  دیکھ بھال  مہیا کرانے میں    اور تولیدی ، بچوں کی صحت سے متعلق   خدمات،  متعدی امراض ، غیر متعدی امراض ،  فالج کی دیکھ بھال ، بوڑھوں کی دیکھ  ریکھ ، منھ  سے  متعلق  دیکھ بھال ،  ای این ٹی کیئر   اور  بنیادی  ایمرجنسی کیئر  کرنے کے لئے بہت   اہم  ہیں ۔ ٹریننگ حاصل کردہ حکام جیسے   کہ  وسطی  سطح   پر  صحت کی دیکھ بھال مہیا کرانے   والے  (  ایم ایل ایچ پی )  کمیونٹی  صحت  افسران ( سی ایچ او )  کو  ڈبلیو  سی – ایس  ایچ  سی اور  طبی  افسران  کو پی  ایچ  سی   ( دیہی  / شہری )  میں رکھا جا رہا ہے ۔ وہ  اپنے  متعلقہ  صحت   مراکز  میں  ان  خدمات کو پہنچانے  کی  سہولت مہیا کریں  گے۔ ایچ  ڈبلیو سی  ایس  دیکھ بھال  کے   تسلسل  اور ٹیلی – صحت  / ریفررلس  کو بڑھانے  میں کافی اہم ہوں گے ۔

ریاستوں کو مشورہ دیا گیا  ہے  کہ  وہ  مرضی کے حساب سے  وضع کردہ  خاص  اور  توجہ  سے  بھر پور  حکمت عملی کے ذریعہ 31 مارچ 2022 تک 1.10 لاکھ  ایچ ڈبلیو سی ایس  کے ہدف کی تعمیل کو یقنی بنائیں ۔ اس کا حقیقی مطلب یہ ہے  کہ اس  ایچ ڈبلیو سی ایس  کو پوری طرح کام  کرنا چاہیئے  اور مفت دوائیں اور مفت تشخیص  دینے کی سہولت  سے آراستہ ہو نا چاہیئے  اور صحت  سے متعلق  پیکج  جس میں یوگا  اور صحت بخش زندگی  کے وسائل شامل ہیں ، دینا چاہیئے ۔

انہیں یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے  کہ تمام  1.10 لاکھ  اے  بی  - ایچ ڈبلیو سی  ایس  موثر  اور متحرک  ٹیلی مشاورت’’ اسپوکس ‘‘ کے طور پر کام کرنے لئے  مناسب طور پر آراستہ  ہیں ۔ اس میں انٹر نیٹ کنیکٹیوٹی   ،ڈیسک ٹاپ  / لیپ ٹاپ  اور  سی ایچ او سمیت  ضروری ٹریننگ یافتہ  باہنر افراد کی  کی دستیابی یقینی ہوگی  ۔ ریاستوں کو   یہ یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے کہ تمام ایچ ڈبلیو سی ایس  کو  مرکز’’  ہب  ‘‘کے نقشے پر  دیا گیا ہے  جو ضلع اسپتال  یا ضلع میڈیکل کالج اسپتال ہو سکتا ہے  ۔ اس طرح کے ہر ایک اسپوک  کے لئے  ریاستوں کو یہ یقینی بنانا چاہیئے   کہ آج سے شروع ہونے  والے کم سےکم بنیادی  ٹیلی کنسل ٹیشن  جلسوں کا اہتمام  ہو ۔

پورے ملک میں صحت خدمات  کے بنیادی ڈھانچے  کو  مضبوط کرنے کے لئے ای سی آر پی  - دوم  پیکج کے تحت  جاری فنڈ کے استعمال میں  جلدی کرنے لئے ریاستوں کو دوبارہ مشورہ دیتے ہوئے  (  چونکہ فنڈ 31 مارچ 2022 کو ختم ہوجائے گا  ) ریاستوں کو دوبارہ یاد دہانی  کرائی  گئی ہے  کہ  وہ پروجیکٹوں کی تکمیل میں تیزی لائیں  تاکہ بعد میں صحت کی مرکزی وزارت کے ذریعہ فنڈ کی اگلی قسط جاری  کی جا سکے۔   انہیں  یہ بھی بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن سے ضروری  چھوٹ  لے لی گئی ہے  اور انتخاب والی ریاستوں کو  باقاعدہ   طور پر  فنڈ کے استعمال کے بارے  میں مطلع کر دیا گیا ہے ۔

مزید برآں  ، ریاستوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ ای سی آر پی  - دوم پیکج کے کچھ عناصر کے تحت  ریاستی صحت سے متعلقہ  سوسائٹیز   کی  مناسب منظوری کے ساتھ بچت  کا استعمال کر سکتے ہیں اس کے بغیر  کہ وہ دوبارہ مرکز ی  وزارت صحت  کی منظوری حاصل کریں ۔

ریاستوں سے درخواسط کی گئی ہے  کہ وہ  تجاویز میں تیزی لائیں اور  پی ایم – اے بی ایچ آئی  ایم  کے تحت  مرکزی وزارت صحت کو  ایم او یو  (یادداشت مفاہمت ) بھیجیں تاکہ وزارت  ریاستوں کے  لئے فنڈ جاری  کر سکے  ۔ ریاستوں کو اس کے تحت   ہوئی پیش رفت  پر  نظر ثانی  کرنے کا  بھی مشورہ دیا گیا ہے  ۔

 ورچول طور پر منعقد  نظر ثانی کی میٹنگ میں جناب وکاس شیل ، اے ایس  اینڈ ایم ڈی  ، جناب وشال چوہان  ، جوائنٹ سکریٹری  جناب لو اگروال ، جوائنٹ سکریٹری  اور مرکزی وزارت صحت کے  دوسرے سینئر افسران  ، این ایچ ایم مشن کے ڈائریکٹرس  اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دوسرے حکام موجود تھے  ۔

 

*************

 

 

ش ح ۔ ا ک ۔ ر ب

U. No.1747



(Release ID: 1799265) Visitor Counter : 156