زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

مرکزی وزیر زراعت نے آئی سی اے آر۔آئی اے آر آئی، نئی دہلی کے 60ویں جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کیا


جناب تومر نے زرعی اداروں سے اساتذہ اور سائنسدانوں کے علاوہ اچھے کاشتکار تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی

حکومت کا مقصد زرعی مصنوعات کی برآمدات کے میدان میں بھارت کو سرفہرست 5 ممالک میں شامل کرنا ہے

جناب تومر نے پھلوں اور سبزیوں کی 6 اقسام کو قوم کے نام وقف کیا

Posted On: 11 FEB 2022 5:56PM by PIB Delhi


نئی دہلی، 11 فروری 2022:

زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیرجناب نریندر سنگھ تومر نے آج 284 طلباء کو ایوارڈس اور ڈگریاں تفویض کیں، جن میں آئی سی اے آر۔ بھارتی زرعی تحقیقی ادارہ، نئی دہلی کے پوسٹ گریجویٹ اسکول  کے 8 غیر ملکی طلبا ء بھی شامل تھے۔ اس موقع پر، جناب تومر نے پھلوں اور سبزیوں کی 6 اقسام کو قوم کے نام وقف کیا۔ ان میں آم کی دو اقسام پوسا للیما، پوسا شریشٹھ، بینگن کی قسم پوسا ویبھو، پالک کی قسم پوسا ولایتی پالک، کھیرے کی قسم پوسا جینوشیئس کھیرا ہائیبرڈ۔18 اور گلاب کی قسم پوسا الپانا  شامل ہیں۔مائیکرو بایولوجی کی ڈیویژن کے ذریعہ تیار کردہ بایو فرٹیلائزر’پوسا سَمپورن‘ کو بھی جاری کیا گیا۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ، جناب نریندر سنگھ تومر نے تمام زرعی اداروں سے اچھے کاشتکار تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے بہت باصلاحیت اساتذہ اور سائنس داں تیار کر رہے ہیں جو کہ قابل تعریف ہے۔ اس کی وجہ سے علم اور تکنالوجی صرف اداروں تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اگر یہ ادارے کاشتکاروں کو تیار کریں تو یہ اس علم کو زمینی سطح تک پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے طلباء کو صنعت کاری کی ترقی کے لیے نصیحت کی اور زراعت کو ایک پیشہ کے طور پر اپنانے کی اپیل بھی کی۔

زرعی تحقیق کے میدان میں حکومت کی ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب تومر نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت کے تحت بھارت زرعی پیداوار کے برآمدکار ممالک کی سرکردہ 10 ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ’’ہمارا مقصد بھارت کو سرکردہ 5 ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے زرعی اداروں کی کوششوں اور تحقیق  کی بدولت، بھارت اس ہدف کو جلد ہی حاصل کر لے گا۔‘‘

کاشتکاروں کے فائدے کے لیے ڈرون تکنالوجی کا استعمال شروع کرنے اور مختلف حصہ داروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر زراعت نے کہا کہ حکومت زرعی اداروں کو ڈرونوں کی خریداری کے لیے 100 فیصد امداد فراہم کر رہی ہے تاکہ اداروں میں تکنالوجی سکھائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زرعی گریجویٹس ڈرون خریداری کے لیے امداد حاصل کرنے کے مستحق ہیں۔ وزیر موصوف نے نئے گریجویٹس کو اسے ڈرون تکنالوجی کے میدان میں ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھنے کا مشورہ دیا۔

وزیر زراعت نے زراعت کے میدان میں برتر اقسام اور تکنالوجیوں کی ترقی کے ذریعہ خوراک اور تغذیائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ادارے کے ذریعہ کیے گئے اہم تعاون کی ستائش کی۔ جناب تومر نے تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کی اور ان سے زراعت کے شعبے کو خود کفیل بناکر آتم نربھر بھارت کی نمو کی داستان کے لیے تعاون دینے کی اپیل کی۔

اس سے قبل، ادارے کے ڈائرکٹر، ڈاکٹر اے کے سنگھ نے ادارے کی غیر معمولی حصولیابیاں پیش کیں اور بتایا کہ اس ادارے کے ذریعہ تیار کردہ گیہوں کی اقسام نے سالانہ 80000کروڑ روپئے کے بقدر قومی اناج میں تقریباً 60 ملین ٹن اناج کاتعاون دیا۔ اسی طرح، ادارے کے ذریعہ تیار کردہ باسمتی کی اقسام جو بھارت میں باسمتی کی کاشت پر غالب ہیں، ان کی حصہ داری 32804 کروڑ روپئے کے بقدر باسمتی چاول کی برآمدات کے توسط سے کمایا گیا مجموعی زرمبادلہ  (29524کروڑ روپئے) کا 90 فیصد ہے۔ملک  میں سرسوں کی کاشت کے تقریباً 48 فیصد رقبہ پر  آئی اے آر آئی اقسام کے ساتھ کھیتی کی جاتی ہے۔پوسا سرسوں 25 سے پیدا ہونے والا مجموعی اقتصادی سرپلس کا تخمینہ گذشتہ 9 برسوں کے دوران 14323 کروڑ روپئے (2018 کی قیمتیں) کے بقدر ہے۔

 

اس موقع پر، نابارڈ۔ پروفیسر وی ایل چوپڑا میڈل اور ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کے لیے سال کے بہترین طالب علم کا ایوارڈ بالترتیب محترمہ دیب رتی مونڈل اور ڈاکٹر سدھاروڈ مرگل کو پیش کیا گیا۔ پروفیسر آر بی سنگھ؛ آئی اے آر آئی ، نئی دہلی کے سابق ڈائرکٹرکو ڈی۔ ایس سی اونورِس کوزاسے نوازا گیا۔ چھٹواں ڈاکٹر اے بی جوشی میمورئیل ایوارڈ آئی سی اے آر، نئی دہلی کے اے ڈی جی (سیڈس) ڈاکٹر ڈی کے یادو کو پیش کیا گیا۔ دوسرا بہترین زرعی ایکسٹینشن سائنٹسٹ ایوارڈ ، ایگری کلچرل ایکسٹینشن ، آئی اے آر آئی، نئی دہلی کے سربراہ اور پروفیسر ڈاکٹر آر این پداریا کو پیش کیا گیا۔ XXII شری ہری کرشن شاستری میمورئیل ایوارڈ ، ڈیویژن آف ویجیٹیبل سائنس، آئی اے آر آئی، نئی دہلی کے پرنسپل سائنس داں ڈاکٹر اے ڈی منشی کو پیش کیا گیا۔ XXII سوکمار باسو میمورئیل ایوارڈ آئی سی اے آر۔این ڈی آر آئی، کرنال  کی ڈیری کیمسٹری ڈیویژن  کے پرنسپل سائنس داں ڈاکٹر رجن شرما کو پیش کیا گیا، اور آئی اے آر آئی بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ، ڈیویژن آف ایگرونومی، آئی اے آر آئی، نئی دہلی ، کے ڈاکٹر سی ایم پری ہر کو پیش کیا گیا۔

زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت کے وزیر مملکت جناب کیلاش چودھری اس تقریب میں مہمان ذی وقار کے طور پر شامل ہوئے۔ڈاکٹر تری لوچن موہپاترا، سکریٹری ڈی اے آر ای اور ڈائرکٹر جنرل آئی سی اے آر اور ڈاکٹر رشمی اگروال، ڈین اور جوائنٹ ڈائرکٹر (تعلیم) نے اس تقریب کو رونق بخشی۔

اس تقریب میں کونسل کے ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل اور ایڈشنل ڈائرکٹر جنرل حضرات ، ادارے کے سابق ڈائرکٹر اور ڈین حضرات، پروجیکٹ ڈائرکٹر (ڈبلیو ٹی سی)، ڈیویژنوں کے سربراہ اور پروفیسر حضرات سمیت دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔ فیکلٹی ممبران کی بڑی تعداد، طلبا اور ادارے کے عملہ  نے ورچووَل طریقے سے اس تقریب کو ملاحظہ کیا۔

***

 

 

ش ح۔اب ن ۔ م ف

U. No. 1510



(Release ID: 1797792) Visitor Counter : 131


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Telugu