امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

صارفین امور، خوراک اورسرکاری  نظام تقسیم کی وزارت کے تحت صارفین امور محکمے کا 2021 کاسال کے اختتام کا جائزہ


باغبانی سے متعلق  اشیاء  مثلاًپیاز ، آلو اور  دال کی بڑھتی قیمت کو روکنے کے لئے حصول اورتقسیم کے لئے فاضل ذخیرہ پیداکیاگیا

منڈی میں ضروری دخل اندازی کے مقصد سے 2.08ایل ایم ٹی  کے بقدر فاضل پیا ز کا ذخیرہ کیاگیا

25نومبر 2021 تک نافذ العمل معیارات کی مجموعی تعداد 21466ہے

2021کے دوران ، بی آئی ایس نے 1028معیارات ( 624نے اور474نظرثانی شدہ ) وضع کئے اور 3484معیارات  پرنظرثانی کی

یکم جنوری 2021 سے 25نومبر ، 2021 تک مخصوص علامت لگانے کے رجسٹریشن کی تعداد 34487سے 125558 تک بڑھ گئی

بی آئی ایس کی طرف سے منظورشدہ پرکھ اورمخصوص علامت لگانے کے مراکز 943سے 976تک بڑھ گئے

یکم جنوری ، 2021 سے 25نومبر 2021 تک 5.95 کروڑسونے اورچاندی کے زیورات /نوادرات سے متعلق اشیاء  پرمخصوص علامت لگائی گئی

ناپ تول سے متعلق  قانون کے تحت تقریبا 82کمپنیوں کو ماخوذکیاگیا اور تقریبا 44.55لاکھ روپے کی رقم وصول کی گئی

Posted On: 30 DEC 2021 4:04PM by PIB Delhi

وزارت  صارفین امور، خوراک اورسرکاری نظام تقسیم  کے محکمہ ٔ صارفین امورنے قیمت کی مانیٹرنگ اورقیمت کے استحکام سے لے کر صارفین  حفاظت  ایکٹ کے مخالفین کے خلاف سخت شکنجہ کسنے تک پورے سال صارفین کو حفاظت اورراحت بہم پہنچانے کے لئے مسلسل کو ششیں کی ہیں۔

محکمے کے کچھ کلیدی اقدامات اورحصولیابیاں یہ ہیں :

قیمت مانیٹرکرنے والی سیل ، بائیس ضروری اشیاء کے تھوک اورپرچون قیمتوں  کی ملک میں پھیلے 179منڈیوں سے جمع شدہ معلومات کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرتی ہے ۔ وہ اشیاء  ضروریہ  یہ ہیں :

چاول ، گیہوں ، آٹا، چنادال ، تورئ دال ، سرسوں کا تیل ، مونگ دال ، مسوردال ، شکر ، گڑھ ، مونگ پھلی کا تیل ، سرسوں کا تیل ، ونسپتی ، سورج مکھی کا تیل ، سویاکا تیل ، پام تیل ، چائے ، دودھی ، آلو ، پیاز ، ٹماٹراور نمک ۔ یہ قیمتیں موبائل ایپ کے ذریعہ جمع کی جاتی ہیں ۔ اس سال کے دوران  مندرجہ ذیل حصولیابیاں ہیں ۔

  • 57قیمت کی اطلاع دینے والے نئے مراکز کا اضافہ ہوا۔ اس طرح قیمت کی اطلاع  دینے والے مراکز کی تعداد یکم جنوری ، 2021 122سے آج کی تاریخ 179 ہوگئی ۔
  • 19اگست ، 2021 کو قیمت کی مانیٹرنگ کرنے والے سیل کے استحکام کے لئے آپریشنل رہنماخطوط جاری کئے گئے ۔
  • اس سال کے دوران قیمت کی مانیٹرنگ کے طریقہ کارکو مستحکم کرنے کے لئے ریاستوں /مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو 14701908روپے  جاری کئے گئے ۔
  • یکم جنوری ، 2021 سے رپورٹنگ  کے لئے موبائل ایپ  نے کام کرناشروع کردیا۔ اس اس موبائل ایپ کے ذریعہ تمام قیمت جمع کرنے والے مراکز روزانہ قیمت کی رپورٹنگ کی طرف مشتعل ہوگئے ۔
  • فعال تجزیہ اورپھرمطلوبہ پالیسی سطح کے اقدامات کے لئے قیمت کی پیش گوئی کرنے والا ماڈل ڈیولپمنٹ کیاگیاہے ۔

قیمت کو استعمال بخشنے والے فنڈ ( پرائم اسٹیبلائزیشن فنڈ ) کے میدان میں اسی طرح کوششیں کی گئیں ۔

کچھ  باغبانی سے متعلقہ اشیاء  خاص طورسے پیاز ، آلواوردال کی قیمتیں بڑی غیرمستحکم ہوتی ہیں ۔ فصل کاٹنے کے وقت اورفوراً اس کے بعد  بالعموم  تھوک اورپرچون کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھی جاتی ہے ۔ جمع شدہ ذخائر کی کمی کے ساتھ قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہوتاہے ۔ یہ رجحان پیاز  ،آلو اوردالوں کے معاملے میں زیادہ واضح ہوتاہے۔ قیمت کا غیرمستحکم ہونا صارفین کو بڑے پیمانے پر متاثر کرتاہے ۔ ا ن اشیاء کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ خوراک کھپت بجٹ کو بڑھاکر صارفین کو متاثر کرتاہے۔ قیمتوں کی وسیع پیمانے پرکمی بیشی قیاس آرائیوں  کا سبب  بنتی ہے اور پرچون بازارمیں قیمتوں کو مزید متاثر کرتی ہے ۔ صارفین کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے ‘‘قیمت استحکام فنڈ ’’ اورتقسیم کے لئے فاضل ذخیرہ کیاجاتاہے ۔

21-2020کے دوران  قیمت استحکام فنڈ ( پی ایس ایف ) میں مندرجہ ذیل باتیں حاصل کی گئیں :

  • 12.83 ایل ایم ٹی کی دالیں ڈی اے سی ایف ڈبلیو کی پی ایس ایس سے پی ایس ایف ، ڈی اوسی اے کو منتقل کی گئیں ہیں ۔
  • 4.94ایل ایم ٹی کی دالیں پی ایس ایف بفرسے ڈسپو زڈ کی گئی ہیں
  • 2.08 ایل ایم ٹی کی پیاز بفربازارمداخلت  کے لئے بائی گئی ہیں ۔ قیمتوں  کو ٹھنڈا کرنے ک لئے بفر(فاضل ) ذخیرہ سے پیاز بامقصد علاقوں کو پیاز 21روپے کلوکے حساب سے پیش کی گئی ہے تاکہ اسے متعلقہ ریاستوں میں صارفین کو تقسیم کیاجاسکے۔

پی ایم جی کے اے وائی اوراے این جی کے تحت دالوں کی تقسیم کے لئے ریاستوں  کے مابین منتقلی اورمناسب قیمت کے لئے بازادائیگی کے طورپر ریاستوں  /مرکز کے زیرانتظام علاقوں  کو فنڈجاری کئے گئے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے 35.59کروڑروپے  ریاستوں /مرکز کے زیاانتظام علاقوں کو جاری کئے گئے ہیں ۔

صارفین کے حقوق  کی حفاظت کے لئے محکمہ اور صارفین میں بیداری پیداکرنے کے لئے محکمہ نے  انتھک کام کئے ہیں ؛

  • صارفین کے امور کا محکمہ (ڈی اوسی اے ) بڑے پیمانے پرعوام اورصارفین کے فائدے کے لئے پالیسیاں  نافذ کرتاہے اورصارفین کے درمیان بیداری پیداکرتاہے اور ان کے حقوق  کی حفاظت کو مستحکم کرتاہے ۔ ‘‘جاگو گراہک جاگو’’ کی مہم چلارکھی ہے ، صارفین حفاظت ایکٹ  -2019 سے متعلق معلومات کو محکمہ کے سوشل میڈیا ہینڈل پراپلوڈ کیاجاتاہے ، ہینڈل یہ ہے :

https://jagograhakjago.gov.in/ConsumerAwareness/video/index.html.

محکمہ کا ایک سرخیل ادارہ ہندوستانی معیارات کا بیورو (بی آئی ایس ) ہے ۔

ہندوستانی معیارات کا بیورو ، ہندوستانی معیارات بیوروایکٹ  1986کے تحت  ایک قانونی تنظیم کے طورپرقائم کیاگیاتھا جس نے ہندوستانی معیارات ادارہ (آئی ایس آئی ) جو 1947میں وجود میں آیاتھا کے  اثاثے اورذمہ داریوں کو اپنے سرلیاتھا۔ اس بیورو کی ہیڈ آفس نئی دہلی میں ہے۔ اس کے پاس پانچ علاقائی دفاتر ، 41برانچ دفاتر، 08لیباریٹری اور 01ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا ایک نیٹ ورک ہے ۔

بی آئی ایس کا مینڈیٹ ایسے معیارات بناناہے جو اشیااورخدمات کی کوائلٹی کو فروغ دیں ۔ یہ بیورو صنعتوں اورخدمات کے شعبے کو تکنیکی مدد فراہم کرتاہے اورکوائلٹی اورتحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اشیاء اورخدمات کی سرٹیفیکیٹ  بہم پہنچاتاہے ۔ طریقہ کاریہ ہوتاہے کہ معیارات کو اپڈیٹ اورابھرتے ہوئے ایریامیں  نئی معیارات ڈیولپ کرتاہے ۔بی آئی ایس کی اہم سرگرمیوں میں  کارکردگی مندرجہ ذیل باتوں سے ظاہرہوتی ہے ۔  

معیارات بنانا

2021 کے دوران 1028معیارات  (624نئے اور474 نظرثانی شدہ ) بنائے گئے اور3484معیارات پرنظرثانی کی گئی ۔ 25نومبر ، 2021تک نافذالعمل  معیارات  کی کل تعداد 21466ہے ۔

2۔تصدیقی تجزیہ

  • مصنوعات کی سندکاری: بی آئی ایس، بیورو آف انڈین اسٹینڈرس ایکٹ، 2016 اور اس کے تحت بنائے گئے ضابطوں اور بی آئی ایس (تصدیقی تجزیہ) ریگولیشن،2018 کے تحت مصنوعات کو سند فراہم کرنے کی اسکیم چلاتا ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے مختلف اُمور پر لازمی بنائے گئے 381مصنوعات کے پیمانوں کے علاوہ یہ اسکیم رضاکارانہ ہے۔ یکم جنوری 2021 سے اب تک 4356 نئے لائسنس جاری کیے گئے جن میں 77 مصنوعات شامل ہیں، جنہیں پہلی بار اسکیم کے تحت لایا گیا ہے۔ بی آئی ایس سندکاری مارکس اسکیم  کے تحت کُل 1101 ہندوستانی پیمانوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ موجودہ تاریخ تک گھریلو صنعت کاروں کے پاس موجود کُل لائسنسوں کی تعداد 39950 ہے۔
  • غیرملکی صنعت کاروں کی سند کاری کی اسکیم (ایف ایم سی ایس): 56 ممالک کے 138 مختلف پیمانوں کے مقابلے آپریٹیو لائسنس کی کُل تعداد 1010 ہے۔  یکم مارچ 2021 سے اب تک کُل 39 لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
  • لازمی رجسٹریشن اسکیم (سی آر ایس): ہندوستانی اور غیرملکی صنعتکاروں سے حاصل 4000 سے زیادہ لائسنس اور شامل کرنےکیلئے 7500 درخواستوں کو یکم مارچ 2021 سے اب تک سی آر ایس کے تحت منظوری دے دی گئی ہے۔ آرتھوفاسفورک ایسیڈ کیلئے پہلا لائسنس نومبر2021 میں منظور کیا گیا تھا۔

3۔ ہال مارکنگ

  • یکم جنوری 2021 سے 25 نومبر 2021 کی مدت کے دوران ہال مارکنگ رجسٹریشن کی تعداد 34487 سے بڑھ کر 125558 ہوگئی ہے جبکہ بی آئی ایس سے منظور شدہ تجزیاتی اور ہال مارکنگ کے مراکز کی تعداد 943 سے بڑھ کر 976 ہوگئی ہے۔ اسی مدت کے دوران 5.95 کروڑ سونے اور چاندی کے جواہرات کی ہال مارکنگ کی گئی ہے۔
  • سونے کے جواہات کی لازمی ہال مارکنگ کیلئے کوالٹی کنٹرول آرڈر 23 جون 2021 کو حکومت ہند کے ذریعے جاری کیا گیا ہے جس کے تحت ملک کے 256 ضلعوں میں جہاں کم از کم ایک تجزیاتی اور ہال مارکنگ مرکز دستیاب ہے، ہال مارکنگ کو لازمی بنایا گیا ہے۔
  • لازمی ہال مارکنگ آرڈر کے نفاذ کے مدنظر اے ایچ سی میں تجزیاتی اور ہال مارکنگ کی سرگرمیوں کو خودکار طریقے سے چلانے کیلئے ایک نئے آن لائن سسٹم کو 6 ہندسہ کے ایچ یو آئی ڈی (ہال مارکنگ  یونک آئی ڈی) سے لیس  نئی ہال مارکنگ کے ساتھ فعال بنایا گیاہے۔ ہال مارکنگ کیلئے ایچ یو آئی ڈی پر مبنی نظام کی شروعات کے بعد سے 25 نومبر 2021 تک سونے کے جواہرات کے  4.11 کروڑ سامانوں کی ہال مارکنگ کی گئی ہے۔

4۔مینجمنٹ سسٹم کی سندکاری

  • بی ا ٓئی ایس، آئی ایس او /آئی ای سیISO/IEC 17021-1:2015 ISO/IEC 17021 تصدیقی تجزیہ- مینجمنٹ سسٹم  کی آڈٹنگ اور سندکاری فراہم کرنے والے اداروں کی ضروریات کے مطابق 19 مینجمنٹ سسٹم  سندکاری اسکیمیں چلاتا ہے ۔
  • کوالٹی مینجمنٹ سسٹم سندکاری اسکیم، ماحولیاتی مینجمنٹ سسٹم سندکاری اسکیم اور غذائی تحفظ کے مینجمنٹ سسٹم کی سندکاری اسکیم کے لئے  سندکاری اداروں کی منظوری کے بورڈ (این اے بی سی بی) کے ذریعے  ISO/IEC 17021 پیمانے سے الگ منظوری دی گئی ہے۔
  • بی آئی ایس نے بالترتیب آئی ایس / آئی ایس او 45001 اور آئی ایس / آئی ایس او 50001 کے مطابق پیشہ ورانہ صحت اور  سیفٹی مینجمنٹ سسٹم (او ایچ ایس ایم ایس) اور انرجی مینجمنٹ سسٹم کے لئے  اپنی تصدیقی اسکیموں کی منظوری کے لئے  این بی سی بی  میں بھی درخواست دی ہے۔

5۔ لیباریٹری

  • بی آئی ایس کی آٹھ تجربہ گاہوں میں کیمیکل، مائیکروبایولوجیکل، الیکٹریکل اور میکنیکل ضروریات کے شعبے میں مصنوعات کی جانچ کیلئے سہولیات موجود ہیں۔ مصنوعات کی جانچ کے علاوہ بی آئی ایس نے چنئی، صاحب آباد اور کولکاتا میں سونے کی جانچ کی تجربہ گاہ بنائی ہے۔ چنئی میں سونے کی جانچ کی تجربہ گاہ ایک  ریفرل لیباریٹری ہے  اور چاندی کے زیورات کی بھی جانچ کرتی ہے۔
  • ممبئی، کولکاتا، چنئی، موہالی اور صاحب آبادی کی تجربہ گاہوں کو آئی ایس او / آئی ای سی 17025 کے مطابق ٹیسٹنگ اور کیلیبریشن لیباریٹریز کی قومی منظوری کے بورڈ (این اے بی ایل) کے طور پر منظوری دی گئی ہے۔
  • بی آئی ایس باہری تجربہ گاہوں کی منظوری کیلئے آئی ایس او / آئی ای سی 17025 پر مبنی  لیباریٹری کی منظوری کی اسکیم (ایل آر ایس) بھی چلاتی ہے۔ فی الوقت 274 بی آئی ایس کی منظوری والی تجربہ گاہیں ہیں۔
  • فٹ ویئر کی مصنوعات کیلئے جانچ کی سہولیات مرکزی لیب  میں قائم کی گئی ہیں اور دسمبر 2021 تک مشرقی علاقائی لیب (ای آر او ایل) ، کولکاتا کی مدت کار مکمل ہونے کی امید ہے۔ بی آئی ایس سینٹرل لیباریٹری میں انرجی میٹر کیلئے  جانچ کی سہولت قائم کی جاچکی ہے۔
  • نئی پہل:
  1. لیباریٹری انفارمیشن مینجمنٹ سافٹ ویئر (ایل آئی ایم ایس) کا فروغ
  2. بی آئی ایس تجربہ گاہوں کے ذریعے اسکولوں، کالجوں اور صنعتوں کے ساتھ باہمی گفت وشنید کے اجلاس منعقد کیے گئے۔
  3. ضلع انتظامیہ کے ساتھ شیئر کئے گئے 226 آئی ایس ایس اور مرکزی حکومت کے محکموں کے ساتھ شیئر کیے گئے 692 آئی ایس ایس کے درمیان فرق کو دور کرنے کیلئے تجزیہ شروع کیا گیا۔

6۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات:

  • معیارات کے پورٹل کو ‘‘اپنے معیارات کو جانیں’’ جیسی نئی سہولیات کو جوڑنے کیلئے بہتر کیا گیا تھا جو تمام معیارات سے متعلق ڈیٹا اور دستاویزوں تک پہنچنے کیلئے واحد حل فراہم کرتا ہے۔ اسٹینڈرڈ پورٹل میں جوڑی گئی ایک دوسری خصوصیت ‘‘ہفتہ واری بولٹن’’ معیاروں کی تشکیل وغیرہ میں چل رہی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
  • بی آئی ایس ویب سائٹ  (www.bis.gov.in) کو 10 اگست2021 (9 اگست 2024 تک ویلڈ) کو ایس ٹی کیو سی کے ذریعے حکومت ہندکی ویب سائٹوں (جی آئی جی ڈبلیو) 2.0 کے لئے رہنما ہدایات کے موافق بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقین کے ساتھ زیادہ تال میل بنائے رکھنے کیلئے بی آئی ایس کے تمام برانچ آفس اور تجربہ گاہوں کے لئے الگ الگ ویب پیج تیار کیے گئے ہیں۔  (https://www.bis.gov.in/index.php/bo-lab-webpage/
  • بی آئی ایس کے ذریعے شروع کی گئی تمام تدریسی فلموں تک رسائی فراہم کرنے کیلئے نیا ‘بی آئی ایس ٹاک’ پورٹل تیار کیا گیا ہے۔
  • بی آئی ایس کیئر موبائل ایپ کا ایک نیا ورژن متعلقین کو لازمی رجسٹریشن اسکیم (سی آر ایس) کے تحت آئی ایس آئی   نشان، رجسٹرڈ زیورات اور نشان زد بجلی کے آلات کی صداقت کی توثیق کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ ایپ استعمال کرنے والوں کو شکایت درج کرنے میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • تصدیقی تجزیہ پورٹل گھریلو صنعت کاروں کو اپنی مصنوعات پر معیاری نشان (آئی ایس آئی) کے استعمال کیلئے لائسنس دینے، ایسے لائسنسوں کی تجدید کی فیس کی ادائیگی کےساتھ توسیعی دائرے میں شامل کرنے اور آسان بنائے گئے آن لائن ذرائع کے توسط سے ادائیگی کرنے کیلئے درخواست دینے کی سہولت عطا کرتا ہے۔ بی آئی ایس ان درخواستوں کو پروسیس کرسکتا اور ان کے فیصلے کو آن لائن دستیاب کراسکتا ہے اور ہمارے متعلقین کے ذریعے درخواستوں کی ریئل ٹائم ٹریکنگ کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔
  • لیباریٹری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم  (ایل آئی ایم ایس) اور موبائل ایپ پر مبنی نگرانی ماڈیول کو تیار کیا گیا ہے۔
  • مختلف متعلقین کی اُبھرتی ہوئی تربیتی ضروریات کو پورا  کرنے کیلئے بی آئی ایس کے ذریعے ایک ٹریننگ پورٹل تیار کیا گیا ہے۔ ریئل ٹائم میں بل بنانے کیلئے پورٹل کو جی ایس ٹی پورٹل کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
  • انسانی وسائل، مالیات ، آڈٹنگ اور اسٹور کی سرگرمیوں کے انتظام کیلئے ایک پورٹل ہے۔

7۔ اُمور صارفین اور رابطہ عامہ

  • اپریل سے نومبر 2021 کے دوران پورے ملک میں علاقائی دفاتر / برانچ آفسز کے ذریعے صارفین کیلئے 462 اسٹینڈرڈ پرموشن پروگرام منعقد کیے گئے۔
  • اپریل سے نومبر2021 کے دوران جوہری / کاریگروں کیلئے بیداری پروگراموں سمیت صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ 774 اسٹینڈرڈ پرموشن سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔
  • بی آئی ایس نے اپریل سے نومبر 2021 کے دوران کالجوں اور تکنیکی اداروں کے طلباء اور اساتذہ کیلئے 284 سرگرمیاں منعقد کیں۔
  • اپریل سے نومبر 2021 کے دوران  بی آئی ایس نے ابتدائی متعلقین کے طور پر حکومت کے ساتھ 354 اسٹینڈرڈ پرموشن سرگرمیاں منعقد کیں۔
  • آٹھ ریاستوں میں معیارکاری پر ریاستی سطح  کی کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ ملک میں ایک مضبوط کوالٹی ایکوسسٹم بنانے کے ذریعہ کے طور پر ہندوستانی معیارات کے استعمال کو فروغ دیاجاسکے اور ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پیمانوں کی تعمیر اور استعمال میں سرگرم حصے داری کو یقینی بناکر صارفین کے حقوق کی حفاظت کی جاسکے۔
  • 25 نومبر 2021 تک پورے ملک میں 85 اسٹینڈرڈ کلب بنائے گئے ہیں۔
  • آزادی کے 75 سال پورے ہونے پر حکومت ہند کے ذریعے  ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت  12 مارچ 2021 سے ایک نئی پہل شروع کی گئی تھی جو 15 اگست 2023 تک چلے گی۔
  • ہندوستان کی آزادی کے 75 سالوں کی یادگار کے موقع پر سی سی پی اے نے کچھ سرگرمیاں شروع کی ہیں جو صارفین کی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے ہیں۔

قانونی میٹرولوجی:

  1. کاروبار میں آسانی کیلئے اٹھائے  گئے قدم
  • قانونی میٹرو لوجی (عام) ضابطہ، 2011 میں جی ایس آر  149 (ای) مورخہ 3.3.2021 کے تحت  ترمیم کی گئی ہے تاکہ درج ذیل کاانتظام کیا جاسکے:
    • ایسے وزن یاپیمائش کو صنعتوں کے ذریعے اپنے خود کے استعمال  کیلئے اپنائے جاتے ہیں اور جو صارفین کو دی گئی مقدار کو متاثر نہیں کرتے ہیں یا کسی لین دین یا تحفظ کیلئے استعمال نہیں کیے جاتے ہیں ان کی دوبارہ توثیق کی ضرورت نہیں ہوگی۔
    • پورے ملک میں ایک جیسا طریقہ اپنانے کیلئے اور صنعتوں کے مفاد میں ایک ہی وزن اور پیمائش کی دوہری مہر سے بچنے کیلئے پہلی بار ایک ریاست سے دوسری ریاست میں بھیجے گئے وزن اور پیمائش کی تصدیق اور مہرلگانے کا طریقہ تیار کیا گیا ہے۔
    • حکومت ہند کے محکمہ اُمور صارفین نے جی ایس آر نمبر 779(ای) مورخہ 2.11.2021 کے ذریعے صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے، کاروبار کرنے میں آسانی پیداکرنے اور ضابطوں کی تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے قانونی میٹرولوجی (ڈبہ بند سامانوں سے متعلق ) ضابطہ، 2011 میں ترمیم کی ہے۔
    • مختلف قسم کی اشیاء کیلئے معیاری پیکنگ کے سائز کی ضرورت کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اس سے صنعتوں کیلئے ضابطوں کی تعمیل کا بوجھ کم ہوگا۔
    • درآمداتی اشیاء کیلئے پہلے سے پیک کیے گئے سامان پر بنانے کی تاریخ درج کرنے کو لازمی کردیا گیا ہے۔
    • پہلے سے پیک سامانوں پر ایم آر پی کے اعلان کو آسان بنایا گیا ہے۔
    • تعداد میں مقدار کوظاہر کرنے کے طریقے کو آسان بناکر تعداد میں فروخت کی گئی مقدار کے اعلان کو آسان بنادیا گیا ہے۔
  1. ای کامرس پلیٹ فارم پر قانونی میٹرو لوجی کا نفاذ
  • پچھلے ایک سال کے دوران قانونی میٹرولوجی ایکٹ  2009 اور قانونی میٹرولوجی (ڈبہ بند اشیاء سے متعلق) ضابطے، 2011 کی خلاف ورزی کیلئے ای کامرس صنعتوں اور ای بازار کو کئی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
  • خلاف ورزی میں بنیادی ملک، ایم آر پی سے زیادہ پیسے وصول کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً 82 صنعتوں میں اب تک تقریباً 44.55 لاکھ روپئے کی رقم چالان کے طور پر ادا کی ہے۔
  • ای کامرس صنعتوں پر نفاذ کی کارروائیوں کے سبب یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ صنعتیں اب ای کامرس پلیٹ فارم پر کیے جانے والے اعلانات پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔

(3)حکومت سے منظور شدہ جانچ کے مرکز کا نفاذ

  • قانونی میٹرو لوجی سے متعلق ضابطہ ، 2013 کو نافذ کردیا گیا ہے کیوں کہ حکومت ہند نے جی ایس آر نمبر 95(ای) مورخہ یکم فروری 2021 کے تحت جانچ  اور کیلیبریشن لیباریٹری کیلئے  قومی منظوری کے بورڈ / ISO:IEC 17025:2017 کے لئے منظورشدہ تجربہ گاہوں کو جی اے ٹی سی ضابطوں کے مطابق پیمائش اور توثیق کیلئے منظوری دی ہے۔

اس کے علاوہ صفائی کیلئے مخصوص مہم چلائی گئی:

  • 2 سے 31 اکتوبر 2021 کے دوران صفائی پر ایک مخصوص مہم چلائی گئی، اس مہم کے دوران تمام علاقوں اور عام شعبوں کو بھیڑ بھاڑ سے  خالی کراکر  ان کی صفائی کی گئی۔ بیکار پڑے سامانوں ، دفتر کے فرنیچر اور الیکٹرانک کچرے کو نیلامی کے ذریعے ہٹایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 3350 مربع فٹ جگہ خالی ہوگئی اور سب سے اونچی بولی لگانے والوں کے ذریعے 172500 روپئے کی رقم حاصل ہوئی۔ کُل 43807 فائلوں اور رجسٹروں کی جانچ کی گئی اور انہیں ہٹا دیا گیا اور محکمہ کے پورٹل میں اپ لوڈ کیے گئے ڈیٹا اور تصویروں کے ساتھ ساتھ انتظامی اصلاحات اور پی جی کو محکمہ میں جمع کرایا گیا۔
  • محکمہ نے 13 نومبر 2021 کو کانسٹی ٹیوشن  کلب آف انڈیا میں صارفین کیلئے ایک بیداری مہم منعقد کی۔ پروگرام کے دوران صفائی کے مقاصد کو حاصل کرنے میں تعاون کرنے والے طبقوں کو انعامات سے نوازا گیا اور محکمہ کے اسٹاف کے ذریعے ‘صفائی ’ اور ‘صارفین کی بیداری’ موضوعات پر نکڑناٹک پیش کیے گئے ۔ اسی موضوع پر محکمہ کے ٹیم کے ذریعے بالترتیب 26 نومبر اور 29 نومبر 2021 کو انڈیا ٹریڈ فیئر نمائش اور آئی این اے میں واقع دہلی ہاٹ میں دو نکڑ ناٹک بھی پیش کیے گئے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ق ت  ۔ ا ک۔ع آ۔ع ن۔

U-270



(Release ID: 1788917) Visitor Counter : 174


Read this release in: English , Hindi , Bengali