کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

اپیڈا کے تعاون کے ساتھ اترپردیش کا پوروانچل خطہ، وارانسی زرعی برآمداتی مرکز کی ترقی کے ذریعہ بھارت کی زرعی مصنوعات کی برآمدات کے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھرا ہے پوروانچل خطے سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران لگ بھگ 20 ہزار میٹرک ٹن زرعی مصنوعات برآمد کی گئی ہیں

Posted On: 07 JAN 2022 9:36AM by PIB Delhi

 

 

نئی دہلی،7جنوری 2022۔  

کامرس اور صنعت کی وزارت کے قریبی اشتراک کے ساتھ، زرعی اور ڈبہ بند خوراک کی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے والی اتھارٹی (اپیڈا) نے چاروں طرف  سے خشکی سے گھرے پوروانچل خطے کو، وارانسی زرعی برآمداتی مرکز (وی اے ای ایچ) کو فروغ دے کر زرعی برآمدات سے متعلق سرگرمیوں کے ایک نئے مرکز کے طور پر بنانے کے مقصد سے کئی پہل قدمیاں کی ہیں۔

اپیڈا نے وی اے ای ایچ کے دائرے میں شامل کرنے کی غرض سے اترپردیش کے امکانات سے بھرپور اضلاع کی نشاندہی کی ہے۔ پوروانچل ڈویژن میں وارانسی، مرزاپور، اعظم گڑھ، پریاگ راج، گورکھپور، بستی، غازی پور، جون پور، چندولی اور سنت روی داس نگر شامل ہیں۔

وارانسی خطہ، جہاں بنیادی ڈھانچہ کی کمی کی وجہ سے زرعی اشیا کی برائے نام برآمدات ہوتی تھیں، اب وہاں زرعی برآمدات کو فروغ دینے سے متعلق سرگرمیاں جوش وخروش سے جاری ہیں۔ اپیڈا کے اقدامات کی وجہ سے، وارانسی خطے میں برآمدات سے متعلق منظر نامے میں مثالی تبدیلیاں درج کی گئی ہیں اور بہت مختصر عرصے میں ہی اپنی نوعیت کی اولین حصولیابیاں درج کی جارہی ہیں۔

اپیڈا کے سرگرم اقدامات کے ساتھ ہی پوروانچل خطے سے گزشتہ چھ ماہ میں لگ بھگ 20 ہزار میٹرک ٹن (ایم ٹی) زرعی پیداوار کو برآمد کیا گیا ہے۔ ان برآمداتی کھیپوں میں سے تقریبا 5000 میٹرک ٹن تازہ پھل اور سبزیاں، 15000 میٹرک ٹن موٹا اناج، ویتنام، خلیجی ملکوں، نیپال اور بنگلہ دیش کو برآمد کیا گیا ہے۔

وارانسی اور اطراف کے علاقوں سے سال 2021 میں اکتوبر میں لگ بھگ 12 میٹرک ٹن، نومبر میں لگ بھگ 22 میٹرک ٹن اور دسمبر میں لگ بھگ 45 میٹرک ٹن زرعی مصنوعات برآمد کی گئی ہیں۔ جیسا کہ وارانسی، دریائے گنگا کے میدانی علاقوں پر مبنی علاقہ ہے، اس کی زرعی آراضی بہت زرخیز ہے، جس کے سبب اچھے معیار کی زرعی پیداوار ہوتی ہے۔ وارانسی خطے میں، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ویجیٹبل ریسرچ (آئی آئی وی آر)، چاول کی تحقیق سے متعلق بین الاقوامی ادارہ (آئی آر آرآئی) اور بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) جیسے قومی اور بین الاقوامی معیار کے معروف ادارے موجود ہیں۔

وارانسی خطے میں اس وقت متعدد برآمد کار سرگرم ہیں اور زرعی مصنوعات کی برآمدات ہوئی راستے کی ذریعے کی جاتی ہیں۔ ایسا لال بہادر شاستری بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قرنطینہ کی بہترین سہولتوں کے ساتھ ساتھ کسٹم کلیئرینس سے متعلق بہترین انتظامات کی وجہ سے ہے۔ اپیڈا نے پورے وارانسی خطے میں صلاحیت سازی سے متعلق 30 سے زیادہ پروگراموں کا انعقاد کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی خریداروں اور فروخت کنندگان کی 8 میٹنگوں کا اہتمام کیا گیا، جن کے سبب برآمدکاروں کو، عالمی منڈیوں میں اپنی زرعی اشیا اور ڈبہ بند خوراک برآمد کرنے سے متعلق ایک پلیٹ فارم فراہم ہوا ہے۔

مصنوعات اور پیداوار پر نظر رکھنے کے مقصد سے، مصنوعی ذہانت اے آئی ٹیکنالوجی کے ایک پروجیکت  پر بھی غور وخوض کیا جارہا ہے۔ اپیڈا، کسان اور زرعی اشیا کی پیداکرنے والوں کی تنظیم کے ارکان کو مختلف کامیاب متعلق علاقوں کا دورہ کرانے کی بھی منصوبہ بندی کررہا ہے، جس سے زرعی سپلائی چین اور مارکیٹ سے روابط کا آغاز ہوگا۔

حکومت، وارانسی ماڈل کو پوروانچل کے گورکھپور خطے میں بھی دوہرانا چاہتی ہے، کیونکہ دونوں خطوں میں جغرافیائی حالات، آبادی اور بعض دیگر پیمانے ایک جیسے ہیں۔ کشی نگر میں حال ہی میں قائم ہوا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، برآمدات کو فروغ دینے میں ایک بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ڈی ڈی یو گورکھپور یونیورسٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سیڈسائنس، مئو ایسے ادارے ہیں، جو خطے میں زرعی سرگرمیوں کے فروغ کی غرض سے سرگرمی سے کام کررہے ہیں۔

اپیڈا نے اناج اور غیرباسمتی چاول کی غذائیت سے متعلق معیار کے جامع خلاصہ، چاول اور چاول پر مبنی خوراک کے نظام سے قدر میں اضافہ شدہ مصنوعات سے متعلق تین پروجیکٹوں کو بھی منظوری دی ہے۔ وارانسی خطے میں زرعی برآمدات میں اضافہ کرنے کی غرض سے مربوط آئی ٹی طریق کار کےلیے ایک پروجیکٹ زیرعمل ہے۔ اس پروجیکٹ کے لیے اپیڈا فنڈ فراہم کررہا ہے۔

دسمبر 2019 میں 14 میٹرک ٹن ہری مرچ کی وارانسی سے دبئی کے جبل علی بندرگاہ تک پہلی آزمائشی شپ منٹ یا کھیپ برآمد کرنے میں اپیڈا نے سہولت فراہم کی تھی۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جب 2020 میں کووڈ عالمی وبا کے دوران اپیڈا کے اقدامات کے بعد وارانسی سے تین میٹرک ٹن تازہ سبزیاں لندن برآمد کی گئیں۔ تین میٹرک ٹن تازہ آم دبئی، 1.2 میٹرک ٹن تازہ آم لندن، 520 میٹرک ٹن علاقائی چاول قطر، اور 80 ملین ٹن علاقائی چاول آسٹریلیا برآمد کیا گیا۔

اس دوران، سنت روی داس نگر ضلع میں قائم ‘‘تری ساگر فارمر پوڈیوسر کمپنی لمیٹیڈ’’ نے اپیڈا کے اقدامات کے بعد یومیہ بنیاد پر بین الاقوامی  منڈیوں میں شپ مینٹ بھیجنا شروع کردی ہیں۔ ایک اور کامیاب واقعہ میں، غازی پور ضلع میں قائم ‘‘شیوانس کریشک پروڈیوسرکمپنی لمیٹیڈ’’ جس سے 1500 ترقی پسند کسان منسلک ہیں، خاطر خواہ مقدار میں زرعی پیداوار برآمد کرنے کے بعد، اپنی زرعی اشیا کے لیے شاندار قیمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

اسی طرح وارانسی میں قائم ‘‘ایف پی او  جیا سیڈ فارمر پروڈیوسر کمپنی لمیٹیڈ’’ جو لگ بھگ 50 ایکڑ آراضی پر آموں کی کاشت کرتی ہے، اپیڈا کے اقدامات کے بعد منڈی کی اوسط قیمت کے مقابلے زیادہ قیمت حاصل کررہی ہے۔ اپیڈا کے ذریعےکیے جارہے ابتدائی اقدامات سے قبل، ایف پی سی اپنے آم 25 روپے فی کلو کی اوسط قیمت پر فروخت کیا کرتی تھی، لیکن انہوں نے نیدرس لینڈ میں قائم کمپنی، سپرپلم کو جس کی بنگلورو اور ممبئی میں چند دکانیں ہیں، کو رواں سیزن میں 50 روپے فی کلو کی در سے آم فروخت کیے ہیں۔

********** ***

( ش ح ۔ع م ۔ ت ع (

U.No. 185



(Release ID: 1788255) Visitor Counter : 75


Read this release in: English , Hindi , Bengali , Tamil